Published From Aurangabad & Buldhana

مسلمان۔۔ مغرب سے مرعوب کیوں ہوئے ؟۔۔

چار پانچ سو سال تک مسلمان اپنے بزرگوں کے بچھائے ہوئے بستر پر آرام سے سوتے رہے اور مغربی قومیں اپنے کام میں مشغول رہیں۔۔۔ اس کے بعد دفعۃً مغربی اقتدار کا سیلاب اٹھا اور ایک صدی کے اندر اندر تمام روئے زمین پر چھا گیا۔۔نیند کے ماتے آنکھیں مَلتے ہوئے اٹھے تو دیکھا کہ مسیحی یورپ قلم اور تلوار دونوں سے مسلّح ہے اور دونوں طاقتوں سے دنیا پر حکومت کر رہا ہے۔۔۔۔ایک چھوٹی سی جماعت نے مدافعت کی کوشش کی مگر نہ قلم کا زور تھا نہ تلوار کا۔۔ شکست کھاتی چلی گئی۔۔۔ رہا قوم کا سوادِ اعظم ، تو اس نے اسی سنّت پر عمل کیا جو ہمیشہ سے کمزوروں کی سنّت رہی ہے۔۔۔تلوار کے زور ، استدلال کی قوت ، علمی شواہد کی تائید اور نظر فریب حسن و جمال کے ساتھ جو خیالات ، نظریات اور اصول مغرب سے آئے ، آرام طلب دماغوں اور مرعوب ذہنیتوں نے اْن کو ایمان کا درجہ دے دیا۔۔۔ پرانے مذہبی معتقدات ، اخلاقی اصول اور تمدنی آئین جو محض روایتی بنیادوں پر قائم کیے گئے تھے ، اس نئے اور طاقتور سیلاب کی رو میں بہتے چلے گئے اورایک غیر محسوس طریقے سے دلوں میں یہ مفروضہ جاگزیں ہو گیا کہ جو کچھ مغرب سے آتا ہے وہی حق ہے اور وہی صحت و درستی کا معیار ہے۔۔۔ ‘

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!