Published From Aurangabad & Buldhana

مسلمانوں کے بیچ رہ کر ریشہ دوانیاں کرنے والے خوشحال سنگھ ٹھاکر کو اے ٹی ایس نے کسا شکنجہ ٹھاکر گرفتار

اے ٹی ایس نے لگاتار چار گھنٹے تک ، فارم ہاوس ، گوٹ فارم اور اس سے منسلک چھوٹے تالاب کی لی تلاشی

جالنہ (محمد اظہر فاضل) نالا سوپارا سازش کے تخریبی تار اب کھلتے ہوئے اورنگ آباد و جالنہ پہنچ گئے ہیں ۔ دو روز قبل اے ٹی ایس نے جالنہ مین اپنی کاروائی کرتے ہوئے جالنہ کے سابقہ بھاجپائی رکن بلدیہ اور موجودہ این سی پی عہدیدار خوشحال سنگھ ٹھاکر کے ریو گاوں روڈ پر واقع کھیت اور فارم ہاوس پر چھاپہ مار اتھا مسلسل چار گھنٹے تک جاری اس کاروائی میں اے ٹی ایس نے اس مقام کی کڑی جانچ کی اور اخیر میں ٹھاکر سے باز پرس کی ۔واضح رہے کہ نالا سوپارا دھماکہ خیز اشیاء کی تیاری اور سازش مین اس سے قبل جالنہ کے شیو سینا کے سابق کونسلر پانگر کر کو اے ٹی ایس نے گرفتار کیا تھا تفتیش و تحقیقات پر اس سازش کے تار اب دوبارہ جالنہ میں گھومتے ہوئے خوشحال سنگھ ٹھاکر پر رُکے ہیں اور کل سی بی آئی کی ٹیم انھیں گرفتار کر کے ممبئی لے گئی ہے ۔ حالانکہ فارم ہاوس اور کھیت پر اے ٹی ایس کو کیا ملا اسکی مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں ۔ تاہم گرفتار شدہ شریکانت پانگر کے اقبالیہ بیان پر کہ اس نے ریو گاوں پر واقع ٹھاکر کے فارم ہاوس پر بم سازی اور ہتھیار چلانے کی مشق کی تھی۔ جس پر دو روز قبل اے ٹی ایس نے اپنے لاو لشکر کے سا تھ جس میں بم ناکارہ کرنے والا دستہ اور فارنسک لیب کی ٹیم بھی موجو دتھی اس فارم ہاؤس پر چھاپہ مارا تھا ۔ اسی طرح سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن کی ٹیم خوشحال ٹھاکر کو گرفتار کر اپنے ساتھ ممبئی لے کر گئی ۔ واضح رہے کہ خوشحال سنگھ ٹھاکر سیاست کے ماہر کھلاڑی ہیں اور دو مرتبہ وہ رکن بلدیہ بھی رہ چکے ہیں ۔ تیسری مرتبہ انھیں جالنہ کے نوجوان شیخ ماجد نے اپنی سیاسی حکمت عملی سے سیاسی بساط پر ڈھیر کر دیا تھا اور شرمناک شکست سے دوچار کر دیا تھا ۔

اس سے قبل ٹھاکر نے راشٹراوادی کانگریس سے مہاراشٹرا ا سمبلی کیلئے بھی طبع آزمائی کی تھی ۔ مسلمانوں کے ساتھ رہ ان کو امن کے کبوتر اڑانے ، امن ریلی نکالنے ،اور امن و شانتی سندیش کی نشہ آور ڈوز دے کر کے اپنی عمر کے ساٹھ ۶۵ سال گزر جانے کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے دھرم کی اشاعت اور مسلمانوں سے نفرت کا جذبہ مرنے نہیں دیا بلکہ مسلمانوں کے درمیان رہ کر ہی اس نے اپنی سنگین ریشہ دوانیاں جاری رکھیں جو اس کی گرفتاری کے ساتھ ہی واضح ہوگئی ہیں ۔ سیاست کے ساتھ ہی وہ بڑے پیمانے پر کنسٹرکشن کا کام کرتا رہا لیکن دولت کی حصولیابی کے بعد بھی وہ اپنے سخت گیر ہندتو اور اس سے وابستہ افراد کے تحفظ کیلئے اپنی گاڑھی کمائی صرف کرتا رہا ۔ نیز زعفرانی تنظیموں کے درمیان مصالحتی کردار ادا کرتا رہا ہے جس کی بنیاد پر اسے آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد میں اہمیت کا حامل تصور کیا جاتا رہا ہے۔ ادھر ایسے شریر ذہن و تخریب کاری میں ملوث فرد کے این سی پی پارٹی میں اہم عہدہ پر براجمان رہنے سے مستقبل قریب میں این سی پی کے متعلق مسلمان کیا فیصلہ کرتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا ۔ اس کی گرفتاری کے بعد بھی این سی پی اسے پارٹی سے نکال باہر کرے گی ؟؟ مسلمانوں کے متعلق خطرناک اور زعفرانی رنگ میں رنگی ٹھنڈی پالیسی پر عمل پیرائی اور گرفتاری سے جالنہ کے تمام حلقے حواس باختہ ہوگئے ہیں ۔ وہیں سیاسی پارٹیوں کے کارکنان کے تشدد کے راستہ کو منتخب کرنے نے کئی سوالات ابھار دیئے ہیں ۔ شری کانت پانگر کر کی گرفتاری کے بعد ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ سیاست میں مسلمانوں کوچھوڑ کر سب آپس میں متحد نظر آتے ہیں ۔ اور ستم ظریفی تو دیکھئے کہ ایک الہ واحد اور ایک قرآن کو ماننے والے آپس میں منتشر ہیں۔اتنی بڑی تخریب کاری کی منصوبہ بندی کوانتہائی خاموشی سے کر گزرنے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ ملک کی فضا تو خراب ہوتی جا رہی ہے لیکن جالنہ میں دہشت گردون کا مسلمانوں کے درمیان رہ کر پکڑا جانا یہاں کے سماج کیلئے تشویشناک بات ہے ۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!