Published From Aurangabad & Buldhana

مرینا بیچ پر ہی دفن کئے جائیں گے کرونا ندھی ، ہائی کورٹ کا فیصلہ سن کر جذباتی ہوئے اسٹالن

تمل ناڈو کے سابق وزیر اعلی اور ڈی ایم کے سربراہ ایم کرونا ندھی کی آخری رسوم کی جگہ پر تنازع کھڑا ہو گیا۔ ڈی ایم کے نے مرینا بیچ پر جگہ مانگی تھی۔ لیکن ریاستی حکومت نے اس سے انکار کر دیا۔

تمل ناڈو کے سابق وزیر اعلی اور ڈی ایم کے سربراہ ایم کرونا ندھی کی آخری رسوم پر ہائی کورٹ میں بحث جاری ہے۔ بتادیں کہ اس درمیان چنئی کے مرینا بیچ پر انا درائی کی سمادھی کے باہر ریپڈ ایکشن فورس ( آر اے ایف) تعینات کی گئی ہے۔ تمل ناڈو کے سابق وزیر اعلی اور ڈی ایم کے سربراہ ایم کرونا ندھی کی آخری رسوم کی جگہ ر تنازع کھڑا ہو گیا۔ ڈی ایم کے نے مرینا بیچ پر جگہ مانگی تھی۔ لیکن ریاستی حکومت نے اس سے انکار کر دیا۔ اس کےبعد ڈی ایم کے مدراس ہائی کورٹ میں اپیل کی۔جس پر دیر رات کےبعد آج صبح دوبارہ سماعت شروع ہوئی۔کچھ ہی دیر میں اس پر فیصلہ آنے کی امید ہے۔


بتادیں کہ دی رات چیف جسٹس کے گھر پر دو ججوں کی بنچ کے سامنے سماعت کے دوران حکومت نے جواب دینے کیلئے صبح تک کا وقت مانگا تھا۔ اس سے پہلے آدھی رات کے بعد تک اس معاملے پر ہنگامہ ہوا۔ وہیں کئی لیڈران اور اداکار نے میرنا بیچ پر آخری رسوم کی پیروی کی۔ ان میں رجنی کانت ، سدھارتھ وشال، جیسے تمل اداکار اور راہل گاندھی ، فاروق عبد اللہ جیسے لیڈر شامل ہیں۔

واضح ہو کہ تمل ناڈو حکومت نے ڈی ایم کے کے صدر ایم کروناندھی کی تدفین کے لئے یہاں مرینا بیچ پر جگہ دینے کے سلسلے میں ڈی ایم کے کے ایگزیکٹو چیئرمین ایم کے اسٹالن کے اصرار کو ریاستی حکومت نے نامنظور کرتے ہوئےکہا کہ وہ انا یونیورسٹی کے سامنے گاندھی منڈپم کے پاس دو ایکڑ زمین الاٹ کرنے کے لئے تیار ہے۔
اس دوران ڈی ایم کے نے ریاستی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف مدراس ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے۔ نگراں چیف جسٹس هلوادي جی رمیش نے متعلقہ کاغذات دستیاب کرائے جانے کی صورت میں رات میں ہی عرضی پر سماعت کے لئے رضامندی ظاہر کی ہے۔ عدالت نے اس سلسلے میں اٹارنی کو بھی مطلع کر دیا ہے۔
اسٹالن نے وزیر اعلی کو ایک خط میں ان سے مرینا بیچ پر مسٹر کروناندھی کی آخری رسومات کے لئے ان (مسٹر کروناندھی) کے سیاسی مشیر اور سابق وزیر اعلی آنجہانی سی این انادورایکی سمادھی کے

واضح ہو کہ ڈی ایم کے صدر ایم کرونا ندھی کا منگل کو طویل علالت کے بعد چنئی کے کاویری اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ یورنری ٹریکٹ انفکشن (یو ٹی آئی) سے متاثرہ 94 سالہ ایم کرونا ندھی کو کچھ دن پہلے ہی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔
گزشتہ کچھ دنوں سے ان کی حالت میں سدھار دیکھا جارہا تھا، لیکن پیر کی شب ان کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی۔ ڈاکٹر ان کی صحت پر مسلسل نظر بنائے ہوئے تھے اور آئی سی یو میں خصوصی ڈاکٹروں کا ایک پینل ان کا علاج کررہا تھا۔ کاویری اسپتال نے ایک پریس ریلیز جاری کرکے اس بات کی اطلاع دی ۔
پانچ بار تمل ناڈو کے زیراعلیٰ اور 12 بار اسمبلی کے رکن رہے ڈی ایم کے سربراہ کرونا ندھی بھی ایسے ہی ایک شخص تھے۔ ہندوستانی سیاست میں کرونا ندھی ایک الگ ہی شناخت رکھتے تھے۔ ان کے مداح انہیں کلائی نار کہہ کر بلاتے تھے، اس کا مطلب ہوتا ہے تمل آرٹ کا ماہر۔
کرونا ندھی نے پہلی بار 1969 میں وزیراعلیٰ کا حلف لیا تھا۔ 1969 میں ڈی ایم کے کے بانی سی این انادرئی کی موت کے بعد سے کرونا ندھی کے ہاتھ میں پارٹی کی کمان تھی۔ کرونا ندھی کو تروچراپلی ضلع کے کلیاتھلائی اسمبلی سے 1957 میں تمل ناڈو اسمبلی کے لئے پہلی بار منتخب کیا گیا تھا۔ 1961 میں وہ ڈی ایم کے کے خازن بنے اور 1962 میں ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن کے ڈپٹی لیڈر بنے۔ 1967 میں ڈی ایم کے جب اقتدار میں آئی تب کروناندھی عوامی امور کے وزیر بنے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!