Published From Aurangabad & Buldhana

مرکزی حکومت ’’کانگریس کی وراثت‘‘ کا بہانہ اب نہیں بناسکتی: نائب صدر نیتی آیوگ

نئی دہلی: نیتی آیوگ کے ڈپٹی چیئرمین راجیو کمار کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت ’’کانگریس سے وراثت میں ملی‘‘ کہہ کر بہانہ نہیں بناسکتی۔ حکومت کو اپنی حصولیابی ہی نہیں بلکہ ناکامیوں کی بھی ذمہ داری لینی ہوگی۔

ایسا اکثر دیکھا جاتا ہے کہ برسراقتدار بی جے پی اور اس کے کئی سینئر لیڈر کانگریس پر انتظامیہ کی ناکامی، پالیسی کو مفلوج اور معیشت کو برباد کا الزام لگاتے ہیں۔ کام میں سستی کا سوال اٹھائے جانے پر ’’کانگریس سے وراثت میں ملی‘‘ کہہ کر بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یوپی اے کے دوراقتدار سے 2014 میں موجودہ حکومت کو ملی وراثت کے بارے میں راجیو کمار نے کہا کہ نریندر مودی حکومت کے گزشتہ چار سال کے کام کاج پرغورکرنا ضروری ہے۔ کیونکہ یہ حکومت گزشتہ مدعوں سے ابھر چکی ہے، اس لئے حکومت کو اپنی خوبی کی بنیاد پرفیصلہ کرنا چاہئے۔ کمار نے کہا کہ ’’معیشت وراثت میں ملی، ان پریشانیوں سے ابھرچکی ہے۔ اس لئے کسی طرح کا بہانہ بنانے کے لئے ان کا استعمال اب نہیں کیاجانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ کل ملاکر ان سب سے (وراثت میں ملی پریشانیوں) کے باوجود حکومت نے بہت کچھ کیا ہے۔ حکومت نے ان پریشانیوں سے نجات پانے کے لئے نوٹ بندی، جی ایس ٹی، قرض کی فراہمی کی صلاحیت اور دیوالہ ضابطہ، بے نامی قانون وغیرہ ساختیاتی طور پر سدھار لائے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ہم آخر کار ان سے ابھر چکے ہیں اور اس لئے حکومت کو اپنی خوبی کی بنیاد پر فیصلہ کرنا چاہئے۔

راجیو کمار کا یہ بیان کافی اہم ہے کیونکہ بی جے پی اور وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر ارون جیٹلی سمیت بی جے پی کے سینئر لیڈر مسلسل کانگریس پر معیشت کو برباد کرکے چھوڑ جانے کا الزام لگاتے رہے ہیں اور کہتے رہے ہیں کہ حکومت اسے پٹری پر لانے کی کوشش کررہی ہے۔ چاہے بینکوں کے پھنسے ہوئے قرض (این پی اے) کا مسئلہ ہو یا نیرو مودی سے متعلق پنجاب نیشنل بینک فرضی واڑہ یا پھر بینکنگ علاقہ کی خراب حالت، سست جی ڈی پی اضافہ کی شرح، مالی خسارہ کی حالت اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ، بی جے پی لیڈروں نے ہر موقع پر اس کے لئے سابقہ یوپی اے حکومت سے رواثت میں ملی بتایا ہے۔

نیتی آیوگ کے ڈپٹی چیئرمین نے بھی اکثر موجودہ حکومت کو وراثت میں ملی پریشانیوں اور اس سے متاثر ہوکر حکومت کی کارکردگی کا ذکر کیا ہے۔ کمار نے کہا کہ جس حکومت کو کافی خراب معاشی حالات والی وراثت ملی، جہاں انتظامی صورتحال اور فیصلے لینے کی صلاحیت پوری طرح مفلوج ہوچکی تھی اور عالمی معاشی صورتحال بھی اچھی نہیں تھی، وہ اب اس سے ابھر چکی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اس حکومت نے بہت اچھا (مظاہرہ) کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب بی جے پی نے 2014 میں اقتدار سنبھالی تھی تو مہنگائی شرح 9 فیصدی تک پہنچ گئی تھی اور ترقی شرح گھٹ کر 6 فیصدی سے نیچے آگئی تھی۔ کمار نے کہا کہ (سابق وزیر خزانہ) پی چدمبرم کے وقت میں ایک بار مالیاتی خسارہ 2.8 فیصد سے بڑھ کر6.4 فیصد تک ہوگیا۔ اس سطح سے ابھرکر ہم نے گزشتہ سال 6.7 فیصد کی ترقی شرح حاصل کی، جبکہ مالی سال کے آخری سہ ماہی میں ترقی شرح 7.7 فیصد رہا۔ مہنگائی شرح گھٹ کر گزشتہ سہ ماہی میں 3.8 فیصد پر آگئی۔ میرا ماننا ہے کہ یہ قابل ذکر ہے۔

راجیو کمار نے کہا کہ یہ سنجیدہ مسائل ہیں، اسے سلجھانے میں وقت لگے گا، لیکن حکومت کو سہرا دیاجانا چاہئے کہ انہوں نے ان پریشانیوں کو علم میں لیا ہے نہ کہ اس سے منہ موڑا ہے۔ ساتھ ہی حکومت اس کو لے کر نیا طریقہ اپنانے جارہی ہے، مثلاً تعلیم کی بہتری، پانی کے تحفظ، صحت کو لے کر ریاستوں کی کارکردگی کی رینکنگ کرنے کا انتظام کیاجارہا ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!