Published From Aurangabad & Buldhana

مرزا غالب کی یوم پیدائیش 27دسمبر کے ضمن میں خصوصی مضمون

اُردو ادب کا عظیم باب ۔۔ مرزا غالب : محمد عباّس دھالیوال مالیر کوٹلہ ،ضلع سنگرور،پنجاب 09855259650 [email protected]

اہلِ ادب میں جب بھی کبھی شاعری کی بات چلتی ہے تو ایک نام جو خود بخود ذہن میں گردش کر جاتا ہے وہ ہے مرزا غالبؔ ۔۔! ایسا لگتا ہے کہ مرزا غالبؔ کے بغیر ہمارا اُردو ادب اِتنا ہی ادھورا و نامکمل ہے جتنا کہ تاج محل کے بغیر ہندوستان ۔۔! بات خیالات کی ندرت کی ہو یا تخیلِ اُڑان کی یا پھر جدید نثر کے موجد کی، غالبؔ ہر جگہ سرِفہرست زبان و ادب کی امامت کرتے نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ڈیڑھ سو سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی غالبؔ کی نہ صرف شاعری بلکہ ان کی نثر کا جادو بھی اہلِ ادب کے سر چڑھ کر بولتا ہے یعنی اہلِ ادب میں غالبؔ آج بھی اُسی ذوق و شوق کے ساتھ پڑھے اور پڑھائے جاتے ہیں جو آج سے سو ڈیڑھ سو سال پہلے پڑھے یا پڑھائے جاتے تھے ایسا لگتا ہے کہ غالبؔ کی تخلیقات کو ادبی دُنیا میں کبھی زوال نہیں۔۔! اپنے جس منفرد اندازِ بیاں کے چلتے غالبؔ آج بھی اہلِ ادب کے دِلوں میں گھر کیئے ہوئے ہیں، اس منفرد اندازِ بیاں کا نہ صرف اُنھیں احساس تھا بلکہ اپنے ہمعصر شعراء سے جداگانہ روش اِختیار کر کے چلنے پہ اُنھیں ناز بھی تھا یہی وجہ ہے کہ وہ اس بات کی خود اپنے منھ سے وضاحت کرتے نظر آتے ہیں کہ ؂
ہیں اور بھی دُنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے اندازِ بیاں اور
قابلِ ذکر ہے کہ غالبؔ کو اپنی فارسی شاعری پہ بے حد ناز تھا لیکن اُن کی مقبولیت کا باعث اُن کا اُردو واحد دیوان بنا۔ اس دیوان کی بدولت آج وہ اُردو زبان ہی نہیں بلکہ دُنیا کی دوسری زبانوں کے شعراء پر بھی فوقیت اور برتری حاصل کیئے ہوئے ہیں۔
آج ہم غالبؔ کی شاعری کے مختلف رنگوں پہ بات کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کی نثریعنی اُردو کا بیش قیمت سرمایہ سمجھے جانے والے ان کے خطوط پہ بھی روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے۔ اس سے پہلے کہ ہم غالبؔ کے کلام کو زیرِبحث لائیں۔ آئیے مختصراً اُن کے حالاتِ زندگی پر ایک نگاہ ڈالیں۔
مرزا غالبؔ کا اصل نام اسد اللہ خاں بیگ تھا اور آپ کے والد کا نام عبداللہ بیگ تھا۔ آپ کی پیدائیش 27 دسمبر 1797 کو آگرہ میں ہوئی، غالبؔ بچپن میں ہی یتیم ہوگئے، اس کے بعد آپ کی پرورش آپ کے چچا نصراللہ بیگ نے کی۔ غالبؔ ابھی آٹھ سال کی عمر کو ہی پہنچے تھے کہ آپ کے چچا بھی اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئے۔ اس کے بعد نواب احمد خاں نے آپ کے خاندان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کروا دیا، اسی بیچ 1810 میں 13 سال کی عمر میں آپ کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الٰہی بخش کی بیٹی سے کر دی گئی۔ شادی کے بعد غالبؔ نے اپنے آبائی وطن کو خیرباد کہتے ہوئے ہمیشہ ہمیش کے لیے دہلی میں مستقل سکونت اختیار کی اور تمام عمر اسی دہلی شہر میں فکرِ معاش و فکرِروزگار کی جدوجہد میں صرف کردی۔ اِسی بیچ ایک لمبے عرصہ کے بعد بہادر شاہ ظفرؔ کے دربار میں بطورِ اُستاد شاعر جگہ ملی اور اس دوران آپ نجم الدولہ، دبیرالملک، مرزا نوشہ، اسد اللہ خان غالبؔ بہادر نظام جنگ جیسے خطابات سے سرفراز ہوئے اور آخرکار اُردو و فارسی زبان کا یہ عظیم شاعر یعنی مرزاغالبؔ 15 فروری 1869 کو اس دارِفانی سے رُخصت ہوگئے اور اس وقت دہلی میں ہی نظام الدین کے قریبی قبرستان میں مدفن ہیں۔
غالبؔ کی شاعری میں جا بجا قلندرانہ صوفیانہ رنگ ملتا ہے ایک شعر دیکھیں کہ ؂
ہاں! بھلا کر تیرا بھلا ہوگا
اور درویش کی صدا کیا ہے
اس مختصر سی زِندگی میں انسان کیا کیا تکلیفیں اور دُکھ برداشت کرتا ہے کہ ایک وت ایسا بھی آتا ہے کہ انسان زندگی میں ملے مسلسل دکھوں و رنج سے دل برداشتہ ہو کر رونے کو مجبور ہو جاتا ہے اور پھر وہ بے اختیار کہہ اُٹھتا ہے کہ ؂
دل ہی تو نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
انھیں اس بات کا بھی احساس ہے کہ اللہ نے جس مقصد کے لیے انھیں اس دنیا میں بھیجا تھا اس کا حق اس سے شاید ادا نہ ہوسکا۔ اسی کے چلتے وہ خود پہ طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ؂
کعبہ کس منھ سے جاؤ گے غالبؔ
شرم تم کو مگر نہیں آتی
اسی غزل کے ایک دوسرے شعر میں موت کے معین و مقرر ہونے کی حقانیت کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ؂
موت کا ایک دِن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
غالبؔ کو اس بات کا بھی احساس تھا کہ اللہ پاک نے جو عقلِ سلیم اور تصوفانہ طبیعت و صلاحیت اُنھیں عطا کی ہے اگر وہ اس کا صحیح طریقہ سے یعنی خدا کے بتائے ہوئے احکام کے مطابق استعمال کرتے تو آج وہ یقیناًایک ولی کی حیثیت میں ہوتے۔ ملاحظہ فرمائیں ؂
یہ مسائلِ تصوف یہ تیرا بیان غالبؔ
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
غالبؔ کے کچھ اشعار ایسے بھی ہیں جن میں وہ صحابہؓ کی سوچ و فکر پہ پہرا دیتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں۔ جیسے کہ حضرت ابوبکرؓ جن کے تعلق سے اللہ کے آخری پیغمبر حضرت محمدﷺ نے دُنیا میں ہی جنتی ہونے کی بشارت دی ہے اس کے باوجود ابوبکرؓ یومِ حشر میں اللہ کی بارگاہ میں پیش ہونے سے کس قدر ڈرتے تھے کہ فرمایا کرتے تھے کہ کاش میں کوئی درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا، کبھی فرماتے کاش میں کوئی گھاس ہوتا کہ جانور اس کو کھالیتے، کبھی فرماتے کاش میں کسی مومن کے بدن کا بال ہوتا۔ ایک مرتبہ باغ میں تشریف لے گئے اور ایک جانور کو بیٹھا دیکھ کر ٹھنڈا سانس بھرا اور فرمایا کہ تو کس قدر لطف میں ہے کہ کھاتا ہے پیتا ہے، درختوں کے سائے میں پھرتا ہے اور آخر میں تجھ سے کوئی حساب کتاب نہیں۔ کاش ابوبکرؓ بھی تجھ جیسا ہوتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مذکورہ واقع میں پیش کیے خیالات کی ترجمانی غالبؔ نے اپنے درجِ ذیل شعر میں کچھ اس انداز میں کی ہے کہ ؂
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
غالبؔ کو ا حساس تھا کہ ایک دن موت آنی ہے اور اس کے بعد انسان کو اپنے اچھے برے اعمال کا اللہ کے یہاں روزِمحشر میں حساب دینا ہے یہی وجہ ہے کہ اپنے وجود پہ پچھتاوے کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں جب دُنیا میں کچھ بھی نہیں تھا تو خدا تھا اگر یہ دُنیا کی سبھی چیزیں انسان وغیرہ وغیرہ نہ ہوتے، تب بھی خدا کی واحد ذات ہوتی لیکن میرے ہونے نے گویا مجھے ہلاکت میں ڈال دیا ہے اگر میں دُنیا میں پیدا نہ ہوا ہوتا تو روزِجزاء میں حساب کتاب دینے سے بچ جاتا۔
ایک دوسرے شعرمیں پھر اُنہیں موت کے بعد روزِقیامت گناہوں کی وجہ سے یا اللہ کی نافرمانی کرنے کی وجہ رُسواء ہونے کا ڈر ستا رہا ہے اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ ؂
ہوئے مر کے ہم جو رُسوا، ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا
نہ کبھی جنازہ اُٹھتا، نہ کہیں مزار ہوتا
اپنے ایک شعر میں غالبؔ نے صاف کردیا ہے کہ جب تک انسان اس دنیا میں زِندہ رہتا ہے تو زِندگی نماء اس قید خانہ میں سزا کی مانند اس کے ساتھ غم لگے رہتے ہیں اور موت سے پہلے ان غموں یا آزمائشوں سے چھٹکارہ پانا مشکل ہے۔ اس لیے وہ اِنسان کو زِندگی میں غموں کے ساتھ صبر وتحمل کے ساتھ گزر بسر کرنے کا درس دیتے نظر آتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں ؂
قیدِ حیات و بندِ غم، اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں؟
غالبؔ میں یہ صفت تھی کہ اچھا شعر کسی کا بھی ہو وہ داد دینے میں ذرا بھی بخل نہیں کرتے تھے کئی مرتبہ تعریف اس قدر کرتے کہ وہ مبالغہ آرائی محسوس ہونے لگتی، جب انھوں نے مومنؔ کا یہ شعر سنا کہ ؂
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
تو برجستہ کہا کہ ’’کاش مومنؔ میرا سارا دیوان مجھ سے لے لیتا اور یہ شعر مجھ کو دے دیتا‘‘۔
ایک دفعہ داغؔ کا یہ شعر بار بار پڑھتے اور خوب تعریف کرتے کہ ؂
رُخِ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں
اِدھر جاتا ہے دیکھیں یا اِدھر پروانہ آتا ہے
خدائے سخن میر تقی میرؔ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے غالبؔ کہتے ہیں کہ ؂
ریختہ کے تمہیں اُستاد نہیں ہو غالبؔ
کہتے ہیں کہ اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا
اس سے پہلے کہ ہم غالبؔ کے خطوط یا ان کے طرزِتحریر کو زیرِبحث لائیں۔ ہم اُردو کے جدید شاعر اور پہلے نقاد و سوانح نگار یعنی مولانا الطاف حسین حالیؔ جن کا شمار غالبؔ کے ہونہار شاگردوں میں ہوتا ہے انہوں نے مرزا غالبؔ کی زِندگی کے شب و روز کو بہت قریب سے دیکھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’مرزا غالبؔ کے اَخلاق نہایت وسیع تھے وہ ہر ایک شخص جو ان سے ملنے جاتا تھا، بہت کشادہ و خندہ پیشانی سے لتے تھے، جو شخص ان سے ایک دفعہ مل آتا تھا، اس کو ہمیشہ ان سے دوبارہ ملنے کا اشتیاق رہتا تھا۔ دوستوں کو دیکھ کر باغ باغ ہوجاتے تھے۔ اُن کی خوشی سے خوش اور اُن کے غم سے غمگین ہوجاتے تھے۔ اس لیے اُن کے دوست جو ہر ملت و مذہب سے تعلق رکھتے تھے، نہ صرف دہلی میں بلکہ تمام ہندوستان میں بے شمار تھے۔‘‘ حالیؔ نے یاد گارِ غالبؔ میں مرزا غالبؔ کو ’’حیوان ظریف‘‘ کہا ہے۔ غالبؔ کے ساتھ دوست احباب اگر رسماً بھی بات کرتے تو آپ اس میں بھی ظرافت کا پہلو نکال لیتے۔ ایک دفعہ جب رمضان گزر چکا تو قلعے میں گئے۔ مرزا تم نے کتنے روزے رکھے؟ توغالبؔ نے کہا ’’پیرو مرشد۔! ایک نہیں رکھا۔‘‘
مرزا غالبؔ کے خطوط کے مطالعہ کے بعد یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ ان کی تحریر میں ’’آورد نہیں‘‘ بلکہ آمد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیؔ لکھتے ہیں کہ ’’مرزا سے پہلے نہ کسی نے خطِ کتابت کا یہ انداز اختیار کیا اور نہ ان کے بعد کسی سے اس کی پوری پوری تقلید ہوسکی۔‘‘
بے شک غالبؔ جدید اُردو نثر کے موجد تھے آپ کی اس خصوصیت کا ذکر کرتے ہوئے شبلی نعمانی لکھتے ہیں کہ ’’اُردو انشاء پردازی کا آج جو انداز ہے جس کے مجدد اور امام سر سید مرحوم تھے اس کا سنگِ بنیاد دراصل مرزا غالبؔ نے رکھا تھا۔‘‘ اسی ضمن میں یعنی مکاتیبِ غالبؔ کی صفت بیان کرتے ہوئے شیخ اکرم کہتے ہیں کہ ’’غالبؔ نے دہلی کی زبان کو تحریری جامہ پہنایا اور اس میں اپنی ظرافت کی گلکاریاں کیں کہ اِردو معلی خاص و عام کو پسند آئی اور اُردو نثر کے لیے ایک طرزِ تحریر قائم ہوگیا۔ جس کی پیروی دوسروں کے لیے لازِم تھی۔‘‘
دراصل غالبؔ کے خطوط اُن کی زِندگی اور اس وقت کے سیاسی عروج و زوال کے دستاویزات ہیں۔ وقار عظیم اس ضمن میں لکھتے ہیں کہ ’’غالبؔ کے خط جتنے زیادہ ان کے عہد کے سیاسی، تہذیبی اور معاشرتی انقلاب کی دلکش روداد ہیں اس سے بھی زیادہ لکھنے والے کی زِندگی کا آئینہ ہیں۔ اس آئینے میں غالبؔ کی بھرپور زندگی کا عکس دیکھائی دیتا ہے‘‘۔
غالبؔ نے جس منفرد طرزِ تحریر کو ایجاد کیا اس کو آج کی زبان میں مکتوب نگاری کا دبنگ انداز کہہ سکتے ہیں غالبؔ خود لکھتے ہیں کہ ’’میں نے وہ اندازِ تحریر ایجاد کیا ہے کہ مراسلہ کو مکالمہ بنا دیا ہے‘‘۔
غالبؔ کے خطوط میں جو لطافت کی چاشنی پائی جاتی ہے یہ انھیں کا حصہ تھا۔ دراصل غالبؔ خطوط کو روح کی خوراک سمجھتے تھے ایک خط میں لکھتے ہیں کہ ’’تمہارے خط کے آنے سے وہ خوشی ہوتی جو کسی دوست کے دیکھنے سے ہو‘‘۔ ایک اور خط میں تفتہؔ کو لکھتے ہیں ’’میں اس تنہائی میں صرف خطوں کے سہارے جیتا ہوں۔ یعنی جس کا خط آیا۔ میں نے جانا وہ شخص تشریف لایا۔ خدا کا احسان ہے کہ کوئی دِن ایسا نہیں گزرتا جو اطراف و جوانب سے دوچار خط نہیں آتے ہوں۔۔ دن اُن کے پڑھنے میں اور جواب لکھنے میں گزر جاتا ہے‘‘۔
خط لکھتے وقت ضرور سوچتے کہ مکتوبِ الیہ اُن کے خط کے جواب کیا لکھ سکتا ہے اور اُن کو اس کے جواب میں پھر کیا لکھنا ہے چنانچہ ایک شعر میں کہتے ہیں کہ ؂
قاصد کے آتے آتے ایک خط اور لکھ رکھوں
میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں
اسی طرح اُن کے کلام میں مختلف جگہ اس کی جھلکیاں صاف دیکھی جاسکتی ہیں جن سے اُن کی خطوط سے رغبت کا صاف پتہ چلتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں چند اشعار ؂
خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو
ہم تو عاشق ہیں تمہارے نام کے
***
مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائے
ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
***
ایک مفکر نے کہا ہے کہ ’’کسی فن پارے پر برسوں گذر جائیں اور تب بھی پڑھا جاتا رہے تو یہ اس کی عظمت کی دلیل ہے‘‘ مفکر کا مذکورہ قول یقیناًغالبؔ کی تخلیقات پہ بالکل صادِق آتا ہے۔ اس لیے کہ ابھی حال ہی میں گوپی چند نارنگ کی غالبؔ سے وابستہ (معنی آفرینی، جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات) اُردو زبان کی کتاب کا ترجمہ انگریزی میں سریندر دیول نے (GHALIB ..Innvative Meanings and the Ingenious Mind)کے نام سے کیا ہے جو کہ گزشتہ مہینے ہی آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی جانب سے قارئین کے لیے منظرِعام پہ لائی گئی ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد اپنا تاثر پیش کرتے ہوئے معروف نغمہ نگار و فلم ساز گلزار لکھتے ہیں(After reading this book one feels enriched and englightened by a master scholer”s word on Ghalib)
غالبؔ وہ عظیم شخصیت تھے جن کی شاعری و نثر، وقتِ مقام اور زبان کی قید سے آزاد ہے اور اُن کی تخلیقات میں وہ حسن و دلکشی پوشیدہ ہے جس کو ادب کی دُنیا میں انشااللہ رہتی دنیا تک زوال نہیں ۔
آخر میں غالبؔ کے الفاظ میں ہی ان کو خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہوں گا کہ ؂
ہوئی مدت غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے
وہ ہر اِک بات پہ کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!