Published From Aurangabad & Buldhana

مدرسہ ٹیچر کے نعرہ لگانے سے انکار کرنے پر شر پسندوں نے چلتی ٹرین سے پھینکا

مغربی بنگال کے ایک مدرسہ میں پڑھانے والے 26 سالہ ٹیچر نے الزام عائد کیا ہے کہ 24 پرگنہ ضلع کے کیننگ سے ہگلی جاتے وقت ٹرین میں کچھ لوگوں نے انھیں زبردستی ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کو مجبور کیا۔ اتنا ہی نہیں، ایسا نہ کرنے پر ان کی پٹائی کی گئی اور چلتی ٹرین سے دھکا دے کر باہر پھینک دیا گیا۔ اس واقعہ میں مدرسہ ٹیچر زخمی ہو گئے۔

پولس نے واقعہ کے تعلق سے بتایا کہ مدرسہ ٹیچر حافظ محمد شاہ رخ ہلدر نے واقعہ کے بارے میں بتایا ہے اور اس دوران انھیں کچھ معمولی چوٹیں آئی ہیں۔ شاہ رخ ہلدر نے پولس کو اپنے بیان میں بتایا کہ ’’میں ٹرین سے ہگلی کی طرف جا رہا تھا تبھی ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے کچھ لوگوں کا ایک گروپ ٹرین میں چڑھا۔ ان لوگوں نے مجھے بھی جے شری رام کا نعرہ لگانے کے لیے کہا۔‘‘ شاہ رخ ہلدر نے مزید بتایا کہ ’’جب میں نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا تو وہ مجھے پیٹنے لگے اور مجھے ٹرین سے دھکا دے کر باہر کر دیا۔‘‘

شاہ رخ ہلدر نے پولس کو دیئے گئے بیان میں اس بات کا بھی اظہار کیا کہ ٹرین میں موجود لوگوں میں سے کسی نے بھی ان کا دفاع نہیں کیا۔ انھوں نے بتایا کہ ’’وہاں موجود لوگوں میں کوئی میرے بچاؤ میں نہیں آیا۔ سبھی خاموش تماشائی بنے رہے۔‘‘ شاہ رخ ہلدر کے مطابق واقعہ ڈھکوریا اور پارک سرکس اسٹیشن کے درمیان پیش آیا اور اس کے بعد پارک سرکس اسٹیشن پر ان لوگوں نے چلتی ٹرین سے انھیں پھینک دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’کچھ مقامی لوگوں نے میری مدد کی اور مجھے اٹھایا۔‘‘

ریلوے پولس کے ایک افسر نے میڈیا کو جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ ’’شاہ رخ کو معمولی چوٹیں آئی تھیں جس کے بعد انھیں چترنجن اسپتال لے جایا گیا جہاں شاہ رخ کا مناسب علاج کیا گیا۔‘‘ پولس کا مزید کہنا ہے کہ ’’ایسا لگتا ہے کہ ٹرین میں چڑھتے یا اترتے وقت کسی بات پر سفر کے دوران ان کے ساتھ مار پیٹ ہوئی ہوگی۔ شاہ رخ کے علاوہ وہاں دو سے تین لوگ اور بھی تھے جن کو معمولی چوٹیں آئی تھیں۔ معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔ فی الحال کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔‘‘

جنوبی 24 پرگنہ واقع باسنتی کے باشندہ شاہ رخ ہلدر کے مطابق یہ واقعہ 20 جون کی دوپہر کیننگ کے سیالدہ جانے والی ٹرین نمبر 34531 میں ہوا۔ ہلدر نے کہا کہ وہ اس معاملے کی شکایت کرنے کے لیے سب سے پہلے توپسیا تھانہ گئے لیکن ان کو کہا گیا کہ چونکہ یہ واقعہ ٹرین کے اندر ہوا، اس لیے اس معاملے میں رپورٹ کرنے کے لیے سرکاری ریلوے پولس (جی آر پی) کے پاس جانا ہوگا۔ دوسری طرف ریلوے پولس کے مطابق بلی گنج ریلوے اسٹیشن پر نامعلوم لوگوں کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 341، 323، 325، 506 اور 34 کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔ ’انڈین ایکسپریس‘ نے جب اس بارے میں کولکاتا کے پولس افسران سے رابطہ کیا تو انھوں نے اس پورے معاملے کی تصدیق کی ہے۔

قومی آوازبیورو

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!