Published From Aurangabad & Buldhana

مخالفت نہ کریں ورنہ ملک مخالف یا مؤ وادی کہلانے کے لئے تیار ہوجائیے

نئی دہلی:۔ ہماری موجودہ حکومت خود کو کسانوں کا سب سے بڑا ہمدرد بتاتی ہے۔ ’’سب کا ساتھ ، سب کا وکاس‘‘ کے عنوان سے وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویر کے ساتھ مکمل صفحہ کے اشتہارات رہتے تھے۔ اور جب مودی وزیر اعظم کے امیدوار تھے تب انھوں نے الیکشن کی تشہیر میں کسانوں سے سینکڑوں وعدے کیے تھے۔
پچھلے سال ہی ان وعدوں کی خلئی کھل گئی تھی ۔ پچھلے سال ہی پورے ملک میں کسانوں کی جانب سے کئی احتجاج ہوئے تھے۔عجیب اور تکلیف دہ بات تو یہ تھی کہ جو کسان ان سے کیے گئے وعدوں کو پورا کروانے کے لئے احتجاج کررہے تھے ان پر حکومت کی جانب سے گولیاں چلائیں گئی اور انکوں ملک مخالف کہ کر پکارا گیا تھا۔پچھلے سال کسانوں نے مدھیہ پردیش میں قرض کی معافی کے لئے احتجاج کیا تھا ، بدلے میں پولس نے گولیاں چلائی تھیں اور اس میں 5کسان مارے گئے تھے۔
دو دن قبل ہی مہاراشٹر میں تقریباً 40000کسانوں نے 180کلو میٹر پیدل چل کر ریاست کے وزیر اعلیٰ کو اپنی آواز سنانے کے لئے جمع ہوئے تھے۔ ممبئی کے شہریوں نے ان کا استقبال اور انکی خدمت انجام دی تھی۔ جہاں عوام انکا ساتھ دے رہی تھی تو سوشل میڈیا پر کوئی انکے اس عمل کی مخالفت کر رہا تھا۔

بی جے ایم پی پونم مہاجن نے اس موقع پر کہاکہ مؤ وادی لوگ کسانوں کو بھڑکا کر یہ احتجاج کروا رہے ہیں۔
ہندوستان میں جہاں کہیں بھی کوئی اس موجودہ حکومت کے خلاف آواز اٹھا نے کی کوشش کرتا ہے اس پر ملک مخالف کا ٹھپہ لگا دیا جاتا ہے۔ سابق میں جب جے این یو کے چند طلباء نے حکومت مخالف نعرہ لگائے تو انکو جھوٹے کیس میں جیل روانہ کردیا گیا، آج تک وہ لوگ ملک مخالف کی گالیاں سنتے رہتے ہیں۔ ایک بی ایس ایف جوان تیج بہادر سنگھ نے اپنے کھانے کو لیکر آواز اٹھائی تھی تو اس کو معطل کردیا گیا تھا۔ ایک فوجی کی بیٹی نے اپنی رائے رکھ حکومت پر تنقید کی تھی تو اس کے ساتھ بد تمیزی کی گئی اسے ملک مخالف کہا گیا اور اسے ڈرایا گیا۔ کئی لوگوں کو تو انتہاء پسندوں کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا پھر چاہے وہ گوری لنکیش ہو، پنسارے ہو یا کالبرگی ہو۔ موجودہ حکومت ایک ہی پیغام دینا چاہتی ہے کہ انکا مخالف یعنی ملک کا مخالف۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!