Published From Aurangabad & Buldhana

محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا نے امت شاہ کو لکھا خط،آڈیو میسج کے ذریعہ کہا کہ ہمیں جانوروں کی طرح رکھا گیا ہے

جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا نے ایک اور آڈیو میسج جاری کیا ہے۔ التجا جاوید نے کہا کہ ماں کی گرفتار کئے جانے کے کچھ دنوں بعد اسے بھی گھر میں نظربند کر دیا گیا ہے۔

جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا نے ایک اور آڈیو میسج جاری کیا ہے۔ التجا جاوید نے کہا کہ ماں کی گرفتار کئے جانے کے کچھ دنوں بعد اسے بھی گھر میں نظربند کر دیا گیا ہے۔

التجا نے وزیر داخلہ امت شاہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں التجا نے میڈیا سے بات کرنے پر دھمکی ملنے کا ذکر کیا۔ التجا نے کہا کہ کشمیریوں کو جانوروں کی طرح رکھا گیا ہے اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا گیا ہے۔ مجھے میڈیا سے بات کرنے پر سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

بتا دیں کہ راجیہ سبھا میں جموں و کشمیر تنظیم نو بل پاس کئے جانے کے بعد جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلی اور پی ڈی پی چیف محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ کو پولیس حراست میں لے لیا گیا تھا۔ 4 اگست دیر رات ان دونوں لیڈروں کو نظربند کیا گیا تھا۔

اس سے پہلے جموں کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے کہا تھا کہ ہم مرکزی حکومت کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ دفعہ 370 اور آرٹیکل 35 اے سے چھیڑ چھاڑ کرنے کے نتیجے بہت خطرناک ہوں گے۔ وہیں، عمر عبداللہ نے پہلے ہی نظربند ہونے کا دعوی کر دیا تھا۔

غور طلب ہے کہ آرٹیکل 370 کو غیر مؤثر کرنے کے ساتھ ہی جموں و کشمیر سے خصوصی ریاست کا درجہ ختم ہونے کے بعد وہاں کی صورت حال کو کنٹرول میں رکھنے مرکزی حکومت کی سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اب خبر ہے کہ حکومت نے اس کی منصوبہ بندی میں تبدیلی لاتے ہوئے فیصلہ لیا ہے کہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر اب سرینگر کی نگرانی کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق، حکومت نے اپنی منصوبہ بندی تبدیلی کرتے ہوئے سرینگر سے نہ صرف پوری وادی بلکہ جموں اور لداخ دونوں ہی علاقوں پر نظر بنائے رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!