Published From Aurangabad & Buldhana

مجوزہ تین طلاق بل شریعت کے خلاف

اسلامی قوانین میں حکومتی مداخلت ناقابلِ قبول :آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ

لکھنؤ: آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلسِ عاملہ نے یہاں اعلان کیا کہ شادی شدہ مسلم خواتین کے حقوق کے تحفظ سے متعلق حکومتِ ہند کا مجوزہ بل مسلمانانِ ہند کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں ہے اس لئے کہ یہ بل خود مسلم خو اتین کے حقوق کے خلاف ہے اور اُن کی اُلجھنوں، مشکلات اور پریشانیوں میں اضافے کا سبب بن سکتاہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے تجویز کردہ تین طلاق بل کو شریعت کے خلاف قرار دیتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے آج کہا کہ قانون کے ذریعے مسلمانوں کے طلاق دینے کے حق کو چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بورڈ کے ترجما ن خلیل الرحمن سجاد نعمانی، سکریٹری ظفریاب جیلانی اور آل انڈیا اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی سمیت مجلسِ عاملہ کے 50 اراکین نے یہاں منعقد ہوئے ہنگامی اجلاس میں یک زبان ہو کر کہا کہ مجوزہ بل شریعت کے خلاف ہے اور شریعت میں مداخلت کی کوشش کو قطعی قبول نہیں کیا جائے گا۔ نعمانی نے کہا کہ مسلمانوں کے مذہبی اُمور میں حکومت کی دخل اندازی قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ قانون سے خواتین اور بچوں دونوں کا بھی بھلا نہیں ہوگا۔ مولانا نعمانی نے کہا کہ چونکہ یہ بل شریعتِ اسلامی اور آئین دونوں کے خلاف ہے، نیز مسلم خواتین کے حقوق پر اثرانداز ہوسکتا ہے اس لئے آل انڈیا پر سنل لاء بورڈ اس کے سدباب کی کوشش شروع کر چکا ہے اور آئندہ بھی ہر سطح پر بھر پور کوشش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ اس معاملے میں وزیراعظم نریندرمودی کو خط لکھ کر بل کو واپس لینے کی درخواست کرے گا۔ انہوں نے کہا اس متنازعہ بل کو پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جانا چاہئے کیونکہ یہ سراسر شریعتِ اسلامی کے خلاف ہے۔ جب اس بل کو بنایا جارہا تھا اس وقت مسلم علمائے کرام کی نمائندگی حاصل نہیں کی گئی جبکہ دوسری جانب جب بھی کوئی قانون بنتا ہے تو وہ قانون جس کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کیلئے ہو اس میں اس مذہب کے باوقار نمائندوں کا ہونا لازِمی ہوتا ہے۔ مولانا نے کہا کہ اگر واقعی حکومت خواتین کی حق تلفی نہ کےئے جانے کے خلاف کوئی قانون بنانا چاہتی ہے تو سرکار کو چاہئے کہ وہ مسلم پرسنل لاء بورڈ سے اور جو مسلم تنظیمیں مسلم خواتین کے حقوق کے تحت کام کررہی ہیں ان سے مشورہ کرے۔ ہم اس متنازعہ بل کو ہرگز ہرگز قبول نہیں کرسکتے کیونکہ یہ بل ایک بہت ہی گھناؤنی سازِش کر کے تیار کیا گیا ہے۔ بل میں سوائے تین طلاق کے دوسری طرح سے دی جانے والی طلاق کو بھی ختم کردیا گیا ہے، مطلب یہ کہ تین طلاق کے علاوہ اگر کوئی شخص دوسرے طریقے سے بھی طلاق دے تو اسے بھی سزا دی جائے گی جبکہ سپریم کورٹ نے تین طلاق کے طریقے کو غیراثرانداز مانا ہے۔ حکومت اسی پر سزا دینے اور جرمانہ عائد کرنے کا بل پارلیمنٹ میں پیش کرنا چاہتی ہے جسے ماننا ہمارے لئے دُشوار ہی نہیں ناممکن ہے، ہم اس متنازعہ قانون کی مخالفت کرتے ہیں۔ مولانا سجاد نعمانی کا کہنا ہے کہ یہ مجوزہ بل ہندوستانی قانون کی دفعہ 25 کے بالکل برعکس ہے جسے نافذ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!