Published From Aurangabad & Buldhana

متنازعہ زمین پر آر ایس ایس کی شاخ بند کرانے والے آئی پی افسر کی چھٹی

آگرہ کے تاج گنج واقع متنازعہ زمین کا معاملہ عدالت میں ہے اور پچھلی بار اس جگہ پر عرس بھی نہیں منعقد ہونے دیا گیا تھا، لیکن قانون کو انگوٹھا دکھاتے ہوئے آر ایس ایس نے اپنی شاخ لگانی شروع کر دی۔

آگرہ: گزشتہ حکومت میں آئی اے ایس افسر دُرگا شکتی ناگپال کو ہٹائے جانے پر ہنگامہ آرائی کرنے والے لوگ اس بار خاموش ہیں۔ آر ایس ایس کارکنان کو متنازعہ زمین پر شاخ لگانے سے روکنے والے آئی پی ایس افسر کو یوگی حکومت نے اپنے ممبران اسمبلی کی شکایت پر ہٹا دیا ہے۔ معاملہ آگرہ کے تاج گنج علاقے کا ہے اور اس علاقے میں اب بھی دو فرقہ کے درمیان کشیدگی قائم ہے۔ یہاں ایک زمین پر دونوں فرقہ اپنا دعویٰ کر رہے ہیں اور 6 مہینے قبل یہاں عرس کا انعقاد روک دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ہی مزار کے پاس موجود اس زمین پر پولس تعینات ہے۔

ذرائع کے مطابق ایک ماہ سے یہاں آر ایس ایس کارکنان نے شاخ لگانا شروع کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے علاقے میں کشیدگی بڑھنے لگی۔ گزشتہ بدھ کے روز پولس نے ماحول کو بہتر بنانے کے مقصد سے آر ایس ایس کو شاخ لگانے پر یہ حوالہ دیتے ہوئے پابندی لگا دی کہ معاملہ عدالت میں ہے اور اسی لیے اس مقام پر عرس بھی نہیں ہونے دیا گیا تھا۔ یہ کارروائی مقامی چوکی انچارج راج کمار یادو نے کی تھی۔ یہ متنازعہ علاقہ آگرہ کے تاج گنج کوتوالی کے تحت آتا ہے۔

راج کمار یادو کے ذریعہ کی گئی اس کارروائی کے بعد یہاں بی جے پی ممبران اسمبلی پہنچے اور پولس کے خلاف دھرنے پر بیٹھ گئے۔ وہ اس معاملے کی شکایت کرنے کے لیے کوتوال شیلندر سنگھ کے پاس گئے لیکن انھوں نے بھی اپنے چوکی انچارج کی حمایت کی۔ اتنا ہی نہیں، بعد میں ایس پی سٹی کنور انوپم سنگھ نے مقامی پولس کے ذریعہ کی گئی کارروائی کو صحیح ٹھہراتے ہوئے نظامِ قانون برقرار رکھنے کے لیے پولس کی غیر جانبداری کے لیے تعریف بھی کی تھی۔ لیکن مقامی پولس کو اس غیر جانبداری کے لیے سخت نتیجہ بھگتنا پڑا ہے۔ ایس پی سٹی کنور انوپم سنگھ کو فوری اثر سے تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ کوتوال شیلندر سنگھ اور چوکی انچارج راج کمار یادو کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ کارروائی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی مداخلت کے بعد کی گئی ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس پورے معاملے میں اپوزیشن خاموش ہے۔آگرہ میں اس پورے عمل کے بعد کشیدگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ جہاں تک آر ایس ایس کے ذریعہ شاخ لگائے جانے کا معاملہ ہے، 18 جون کی شام یہاں کے پون دھام کالونی میں تقریباً 68 سویم سیوک شامل تھے جب انھیں ایسا کرنے سے پولس نے منع کیا۔ آر ایس ایس کے ڈپارٹمنٹ چیف ایڈورٹائزر کے مطابق چوکی انچارج نے بھگوا جھنڈا اکھاڑ کر پھینک دیا گیا اور کہا گیا کہ تم یہاں دہشت گرد بنا رہے ہو۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ایسا حملہ تو آر ایس ایس پر سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور کانگریس کی حکومت میں بھی نہیں ہوا۔ جب ہم نے اس کی شکایت انسپکٹر سے کی تو اس نے بھی یہی سوال کر دیا کہ تم شاخ یہاں کیوں لگا رہے ہو!‘‘اس تنازعہ پر مقامی کانگریس سٹی پریسیڈنٹ حاجی جمیل الدین کا کہنا ہے کہ کریل والے بابا کی درگاہ کی زمین پر کچھ غیر سماجی عناصر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہاں گزشتہ چھ مہینے سے پولس تعینات ہے جن کی شر پسند عناصر کو کوئی پرواہ نہیں۔ جمیل الدین نے مزید کہا کہ یہاں عرس کا انعقاد بھی روک دیا گیا تھا لیکن اب جب کہ آر ایس ایس کی شاخ لگنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے تو انھیں تکلیف کیوں ہو رہی ہے۔ انھوں نے غیر جانبدارانہ کارروائی کرنے والے چوکی انچارج، کوتوال اور ایس پی سٹی تینوں کو ہٹائے جانے کی پرزور مذمت کی۔ آگرہ کے سماجوادی پارٹی لیڈر ندیم منصوری نے بھی پولس افسروں کو ہٹائے جانے کو افسوسناک قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ غیر جانبداری کے ساتھ اپنا کام کرنے والے پولس افسران کو اس طرح ہٹایا جانا ان کی حوصلہ شکنی ہے۔

ذرائع کے مطابق چوکی انچارج، کوتوال اور ایس پی سٹی تینوں کی شکایت لے کر بی جے پی کے آگرہ جنوب کے ممبر اسمبلی یوگیندر اپادھیائے اور سیکری ممبر اسمبلی اودے بھان سنگھ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے پاس پہنچے تھے اور پورے واقع سے انھیں مطلع کرایا تھا۔ اس ملاقات کے بعد جس طرح سبھی کو ہٹانے کا فرمان صادر ہو گیا اس سے ظاہر ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کو یہ پسند نہیں آیا کہ پولس آر ایس ایس کے کارکنان کے خلاف کوئی قدم اٹھائے حتیٰ کہ وہ کچھ غلط ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایک بار پھر متنازعہ زمین پر آر ایس ایس کی شاخ لگنی شروع ہو گئی ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!