Published From Aurangabad & Buldhana

مباح چیزوں کی نذر ماننا

علامہ یوسف القرضاوی

سوال : میں نے نذر مانی تھی کہ میں اپنے بیٹے کی صحت یابی کے بعد ایک شان دار پارٹی دوں گی۔ اس کے بعد میرے ماموں ۱۰؍سال کے لیے جیل چلے گئے اور میں ۱۰؍سال تک یہ نذر پوری نہ کرسکی۔ کیا اب میں یہ نذر پوری کروں یا ممکنہ اخراجات کے برابر رقم صدقہ وغیرہ کروں؟
جواب :سب سے پہلی بات یہ ہے کہ نذر ان چیزوں کی ماننی چاہیے جن میں اللہ کی عبادت، اس کی خوش نودی اور تقرب کا پہلو موجود ہو، مثلاً: نمازیں پڑھنا یا روزے رکھنا وغیرہ۔ پارٹیاں دینے یا اس جیسے کسی دوسرے مباح کام کی اگر نذر مانی ہے، تو اس ضمن میں علما کی دو طرح کی آرا ہیں: ایک یہ کہ اس نے جو اور جس شکل میں نذر مانی ہے وہی پورے کرے گا،اور دوسری یہ کہ قسم کا کفّارہ ادا کرے، یعنی دس مسکینوں کو کھانا کھلائے یا غلام آزاد کرے۔ ایسا نہیں کرسکتا تو تین دن روزے رکھے۔ علما ے کرام نے ان دونوں صورتوں کا اختیار دیا ہے۔ اب آپ ان میں سے کوئی بھی ایک شکل اختیار کریں۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!