Published From Aurangabad & Buldhana

مالدیپ کا بحران، سیاسی و جغرافیائی کھیل

جیمز ایم ڈور سے
مالدیپ میں اقتدار کیلئے جاری کشمکش کے نتیجے میں ہنگامی حالت نافذ کی جا چکی ہے۔ پارلیمنٹ پر فوج کا کنٹرول ہو چکا ہے اور بعض سینئر شخصیات کو گرفتار کیا جا چکا ہے، ممکنہ طور پر چین، بھارت، امریکہ اور سعودی عرب اس صورتحال کو خطے میں اپنے سیاسی و جغرافیائی عزائم تشکیل دینے کیلئے استعمال کرینگے۔ مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین اور جلا وطن سابق صدر محمد نشید (جو بیرون ملک جانے سے قبل قید میں تھے ) کے مابین سیاسی آویزش جاری ہے، محمد نشید اپنے ملک میں چین اور سعودی عرب کے مفادات اور ترجیحات کے سخت مخالف ہیں، یہ ایک ایسا عنصر ہے جو ان دونوں ممالک کیساتھ مالدیپ کے تعلقات پر براہ راست اثر انداز ہوگا۔ مالدیپ میں بڑے پیمانے پر ان ممالک نے جو سرمایہ کاری کی ہوئی ہے اس کی بدولت مالدیپ کے شہریوں کی سماجی اور سیاسی زندگی پر نمایاں اثرات ہوئے ہیں۔ اقتدار کیلئے جاری اس کشمکش میں مامون عبدالقیوم کا بھی اہم کردار ہے، وہ ایسے سیاستدان ہیں جو طویل ترین عرصے تک ملک کے صدر رہ چکے ہیں، گزشتہ ہفتے ہی مامون عبدالرشید کے داماد اور چیف جسٹس سمیت سینئر ججوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا، ان سب پر کرپشن اور حکومت کو ختم کرنے کی کوشش کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق زید رعد الحسین نے صدر یامین کی جانب سے ہنگامی حالت کے نفاذ کو جمہوریت پر بھرپور حملہ قرار دیا ہے، صدر یامین نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے فوری بعد ہی ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی، سپریم کورٹ نے اپنے اس فیصلے میں حکم دیا تھا کہ جیلوں میں بند اپوزیشن کے تمام سیاستدانوں کو رہا کر دیا جائے، عدالت عظمٰی کے اس فیصلے کو تسلیم کرنے کے بجائے حکومت نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی جس کے تحت نہ صرف یہ کہ شہریوں سے اجتماع کا حق چھین لیا گیا بلکہ حکومت کو شہریوں اور ان کے گھروں کی تلاشی لینے یہاں تک کہ ان کی جائیداد ضبط کرنے کے اختیارات بھی مل گئے، عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے ایسا محسوس ہوا کہ اس سے سابق صدر محمد نشید کو بہت فائدہ ہوگا کیونکہ اس کے بعد وہ آئندہ الیکشن میں صدر یامین کو چیلنج کرنے کیلئے زیادہ بہتر پوزیشن میں آجائینگے ، یہ الیکشن رواں سال کے آخر میں ہونیوالے ہیں، عدالتی فیصلے سے یہ امکان پید اہوا تھا کہ الیکشن کے بعد قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن کو اکثریت حاصل ہو جائیگی۔ مالدیپ کا رقبہ 820 کلومیٹر اور اس کی آبادی 4 لاکھ 20 ہزار افراد پر مشتمل ہے، اسے سیاحت کا ایک مقبول مقام مانا جاتا تھا، لیکن اب ماحولیاتی تبدیلیاں سیاحت میں مالدیپ کی اس منفرد حیثیت کیلئے خطرہ بن چکی ہیں، یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ سابق صدر مامون عبدالقیوم موجودہ صدر یامین کے سوتیلے بھائی ہیں، وہ نہ صرف صدر یامین بلکہ سابق صدر محمد نشیدکے بھی سخت خلاف ہیں۔
محمد نشید نے 2008 کے دوران ملک کے پہلے عام انتخابات میں مامون عبدالقیوم کو شکست دی تھی۔ موجودہ صدر یامین 2013 کے متنازعہ انتخابات کے بعد برسراقتدار آئے تھے، ان کے مخالفین کا موقف ہے کہ صدر یامین نے ان انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی، جمہوریت کو شدید نقصان پہنچایا، اسلام کے نام پر عسکریت پسندی کو پھیلنے کا موقع دیا، یہی نہیں بلکہ انہوں اختلاف کرنیوالے اپنے ساتھیوں اور اپوزیشن رہنماؤں کو جیلوں میں بند کر دیا، صدر یامین کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے ملک اور خطے میں چینی اور سعودی عزائم سے اتفاق کرتے ہیں، تجزیہ کاروں کے مطابق اس کے نتیجے میں مالدیپ میں ان ممالک کے فوجی اڈے قائم ہوسکتے ہیں۔ چین کیلئے مالدیپ تیل سمیت مختلف اشیا کی تجارت کا بہت اہم روٹ ہے، بالخصوص مشرق وسطیٰ کیساتھ تجارت کیلئے چین کے نقطہ نظر سے مالدیپ انفرادی اہمیت رکھتا ہے، دوسری جانب سعودی عرب کیلئے مالدیپ اس لیے اہمیت رکھتا ہے کہ اس روٹ سے اس کے سب سے بڑے بدترین علاقائی حریف ایران سے اس کا فاصلہ بہت کم ہو جائے گا۔ اگر مالدیپ میں چین اور سعودی عرب کے فوجی اڈے بن جائیں تو اس کے بعد نہ صرف یہ کہ جبوتی میں قائم ان کے فوجی اڈے مزید مستحکم ہونگے بلکہ توانائی کی برآمد کیلئے بھی ایک بہترین روٹ مل جائیگا۔ سابق صدرمحمد نشید نے گزشتہ سال کہا تھا کہ چین اور سعودی عرب مالدیپ میں اپنے فوجی اڈے اس لیے بنانا چاہتے ہیں کہ ان کے ذریعے وہ اپنی نئی مارکیٹوٍں تک تیل اور دیگر اشیا کی تجارت کے راستوں کی حفاظت کرسکیں، اس مقصد کیلئے دونوں ممالک مالدیپ میں سٹریٹجک انفراسٹرکچر بہتر بنانے کیلئے تنصیبات بھی کرنا چاہتے ہیں۔دوسری جانب امریکہ ہے جو چین کے اس منصوبے کو ناکام بنانا چاہتا ہے ، اسے مالدیپ میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر سخت تشویش ہے ، اسی لیے امریکہ نے بھارت اور سری لنکا میں تعینات اپنے سفیروں کے ذریعے صدر یامین پرزور دیا ہے کہ وہ جمہوری اقدار اور اصولوں کی پابندی کریں، جب صدر یامین نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی تو سابق صدر محمد نشید کولمبو میں تھے اور ان کا بھارت سے بھی قریبی رابطہ تھا۔ 2013 میں جب یامین متنازعہ صدارتی انتخاب میں کامیابی کے بعد برسراقتدار آئے تو اس وقت ان کے ملک اور امریکہ کے مابین سوفا معاہدے (Status of Forces Agreement) میں مالدیپ کی شرکت کیلئے مذاکرات جاری تھے لیکن یامین کے صدر بننے کے بعد بات چیت کا یہ عمل معطل ہوگیا، اگر یہ معاہدہ ہو جاتا تو مالدیپ کیساتھ امریکہ کے فوجی تعاون میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا، اگر محمد نشید جو ملک کے پہلے جمہوری انتخابات کے بعد 2009 میں صدر بنے تھے دوبارہ اقتدار میں آجاتے تو شاید امریکہ کے ساتھ ان کے ملک کے یہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوجاتے۔ 2016 میں دولت مشترکہ نے صدر یامین کو خبردار کیا کہ اگر وہ ملک میں جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا عمل نہیں بند کرتے تو ان کے ملک کو دولت مشترکہ کی رکنیت سے معطل کر دیا جائیگا، اس کے فوری بعد صدر یامین نے چین کی طرف اپنا جھکاؤ بڑھا دیا، مالدیپ کے ساتھ تعلقات کو فروغ دیکر سعودی عرب چین کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اس کے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے میں وہ رکاوٹ نہیں بلکہ معاون ہوسکتا ہے۔ سعودی عرب نے حالیہ برسوں کے دوران مالدیپ میں مذہبی تعلیمی اداروں کی مالی مدد شروع کرنے کے علاوہ مکہ اور مدینہ میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ کو وظیفے دینا بھی شروع کیے، سعودی عرب کی جانب سے ان اقدامات کے بعد ایک جانب مالدیپ میں اسلامی اقدار کو فروغ ملا تو بڑی حد تک مذہبی عدم برداشت میں بھی اضافہ ہوگیا، مہنگے سیاحتی مقامات کے سوا کسی اور جگہ مغربی انداز کی پارٹیاں، خواتین کا مردوں کے ساتھ رقص اور ساحل سمندر پر مغربی لباس وغیرہ کو نہایت برا سمجھا جانے لگا، اگر آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو یہ تعداد دیگر ممالک کی نسبت جو اس تنازع میں براہ راست فریق نہیں زیادہ تھی۔ سابق صدر محمد نشید نے کہا ہے سعودی عرب یوں تو داعش کا سخت مخالف ہے لیکن گزشتہ 30 سال سے وہ مالدیپ میں جو پراپیگنڈا کر رہا ہے وہ داعش کے نظریات سے بہت مشابہ ہے، محمد نشید نے کہا شاید سعودی عرب کا یہ خیال ہے کہ اس طرح وہ مالدیپ کے شہریوں کے دلوں میں اپنے لیے جگہ بنانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ مالدیپ کے دو سابق صدور مامون عبدالقیوم اور محمد نشید نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ ان کے ملک میں قید کیے گئے ججوں اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کیلئے مالدیپ کے صدر یامین پر دباؤ ڈالیں، محمد نشید نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ بھارت کو چاہیے کہ مالدیپ میں اپنے نمائندے تعینات کر دے۔ یاد رہے کہ 1980 کے عشرے میں بھارت نے مالدیپ میں بغاوت کو کچلنے میں ہم کردار ادا کیا تھا۔ بھارت نے اپنے ایک بیان کے ذریعے مالدیپ کے صدر یامین پر زو ردیا کہ وہ قانون کی بالادستی اور جمہوری اقدار کی پابندی یقینی بنائیں، بھارتی بیان میں مزید کہا گیا کہ ریاست کے تمام اداروں کی جانب سے عدلیہ کا احترام اور اس کے فیصلوں کی پابندی ضروری ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے صدر یامین پر الزام لگایا کہ انہوں نے باقاعدہ منصوبے کے تحت سیاسی مخالفین کیخلاف کارروائیاں کیں، تقریباً تمام اہم سیاسی شخصیات کو جیل میں ڈال دیا یا ملک بدر کر دیا، پارلیمنٹ کے ارکان کو عوامی احساسات کی ترجمانی سے روک دیا، انسانی حقوق کو پامال کرنے کیلئے قوانین میں من پسند ترامیم کیں اور حکومتی اداروں کو جان بوجھ کر کمزور کر دیا۔ ان تمام باتوں کے باوجود خیال ہے کہ صدر یامین امریکہ اور چین کی پشت پناہی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی روش پر قائم رہیں گے، بالخصوص اس لیے بھی کہ انہیں بھارت اور امریکہ کی جانب سے مخالفانہ بیانات کے سوا کسی سخت اقدام کا کوئی اندیشہ نہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایمرجنسی نافذ کرتے ہی صدر یامین کی جانب سے پولیس کمیشن کو تحلیل کرنے کے باوجود انہیں فوج اور پولیس کی مکمل حمایت حاصل ہے، سرکاری ٹی وی پر فوجی او ر پولیس افسروں کو یہ عہد کرتے دکھایا جاتا ہے کہ وہ ‘‘ موجودہ قانونی حکومت کے دفاع میں اپنے خون کا آخری قطرہ ’’ تک بہا دینگے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!