Published From Aurangabad & Buldhana

لاتور میں مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے بیروزگا طلباء کا مورچہ

بڑھتی عمریں، ملازمت و روزگار کے قلیل مواقع اور حکومت کی غیر سنجیدگی سے نوجوانوں میں مایوسی

لاتور(محمدمسلم کبیر)دن بہ دن بڑھتی ہوئی عمریں،روزگار کے نہایت قلیل مواقع،اور حکومت کی نوجوانوں کو روزگار مہیا کرانے کی پالیسی پر عدم دلچسپی اور غیر سنجیدگی سے دلبرداشتہ ہوکر مسابقتی امتحانات کی تیاری میں لگے نوجوانوں نے احتجاج کا راستہ اختیار کرلیا ہے۔ریاستی خدمات میں جائیدادوں کا اضافہ کیا جائے، مشترکہ امتحانی طریقہ کار کو منسوخ کرکے حسب سابق پی ایس آئی، ایس ٹی آئی، آئی ایس او، ٹیکسس اسسٹنٹ، کلریکل جابس، ایکسائز ڈپارٹمنٹ، اسسٹنٹ انسپکٹر اور دیگر سرکاری محکموں میں درجہ سوم کی ملازمت کے لئے علیحدہ امتحانات کا نظم کرتے ہوئے اسامیوں میں اضافہ کیا جائے۔ان مطالبات کولے کر لاتور میں مسابقتی امتحانات کی تیاریوں میں لگے بیروزگار ہزاروں نوجوان طلباء نے ایک عظیم مورچہ نکالا۔ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر پارک ٹاؤن ہال لاتور سے قدیم کلکٹر آفس تک نکالے گئے اس مورچے کے ۱۵؍ رکنی وفد نے ضلع کلکٹر کو اپنے مطالبات پر مبنی ایک یادداشت پیش کی۔اپنے مطالبات میں کہا گیا ہے کہ ریاست مہاراشٹر میں ۲۳؍ ہزار ۴۳۵؍ مخلوعہ اسامیاں ہیں انھیں فوری پر کرکے بھارت کے درخشاں مستقبل کا خواب دیکھنے والے معصوم طلباء کی درس وتدریس کو یقینی بنایا جائے۔ایم پی ایس سی امتحانات کے دوران بائیو میٹرک سسٹم کا استعمال کرکے حاضری لی جائے۔تلاٹھی کے عہدے کے لئے بھی مسابقتی امتحانات لئے جائیں اور اسامیوں میں اضافہ کیا جائے۔مسابقتی امتحانات میں شریک ہونے والے جعلی امیدواروں کی سی بی آئی کے توسط سے تحقیقات کی جائے۔اسی طرح ریاستی حکومت ہر عہدے کیلئے ویٹنگ لسٹ کا اعلان کرتی رہے اور تاملناڈو پبلک سروس کمیشن کی طرح مہاراشٹر میں بھی عمل آوری کو یقینی بنائے جائے۔تلاٹھی،کلرکس اور اساتذہ کی بھرتی ضلع سطحی افسروں کے ذریعے نہ کرتے ہوئے اس کیلئے ریاستی سطح کے ایک بااختیار اور آزادانہ ٹیم کی جانب سے کئے جائیں۔اس طرح کے مطالبات کئے گئے۔ اس مورچے کو پرامن طریقے سے نکالا گیا جس میں بیشتر نوجوانوں کے ہاتھوں میں مطالبات پر مبنی پلے کارڈس تھے۔ انتظامیہ اور پولس نے سخت انتظامات کئے تھے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!