Published From Aurangabad & Buldhana

فڑنویس حکومت کے زریعہ گجراتی کمپنی کو دیا گیا 321کروڑ کا ٹھیکہ ادھوٹھاکرے حکومت نے کیا رد

ادھو ٹھاکرے نےمہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالتے ہی فڑنویس حکومت میں لیے گئے کچھ اہم فیصلوں کو پلٹ دیا ہے۔ گزشتہ دنوں آڑےمعاملے پر ادھو حکومت نے فڑنویس حکومت کے برعکس رویہ ظاہر کیا تھا، اور اب ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے گجرات کی کمپنی کو دیے گئے 321 کروڑ کے ٹھیکہ کو رد کر دیا ہے۔ ٹھیکہ گجرات کی ایک ایونٹ مینجمنٹ کمپنی کو ملا تھا جو کہ ’بین الاقوامی گھوڑا میلہ‘ کا انعقاد کرنے والی تھی۔ اب یہ کمپنی مالی بے ضابطگیوں کے الزام میں پھنس گئی ہے۔

دراصل 26 دسمبر 2017 کو ریاست کے ماتحت مہاراشٹر سیاحتی ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم ٹی ڈی سی) لمیٹڈ نے احمد آباد کے ’للو جی اینڈ سنس‘ کے ساتھ ترکی کی بنیاد پر نندوربار میں سارنگ کھیڑا دیپک تقریب کے لیے کانسپٹ، ڈیزائن اور مینجمنٹ وغیرہ کے لیے معاہدہ کیا تھا۔ یہ فرم پہلے کمبھ میلہ اور رَن اُتسو کے کے لیے کام کر چکی تھی۔ لیکن اس سال 28 نومبر کو جس دن اُدھو ٹھاکرے کی قیادت والی نئی شیوسینا-این سی پی-کانگریس حکومت نے حلف برداری کی، ریاست کے محکمہ سیاحت نے چیف سکریٹری اجے مہتا کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے معاہدہ کو ’فوری طور پر رَد‘ کرنے کا حکم صادر کر دیا۔

ایک میڈیا ذرائع کے مطابق محکمہ سیاحت کے انڈر سکریٹری ایس لمبھیٹ کا کہنا ہے کہ ’’حکومت کی منظوری کے بغیر ہی معاہدے اور کاروبار میں منافع کا عمل شروع ہو چکا تھا۔ چونکہ یہ مرکز کے پیمانوں کے مطابق نہیں ہے، اس لیے یہ ایک سنگین مالی بے ضابطگی ہے۔‘‘ قابل غور ہے کہ ایم ٹی ڈی سی اس انعقاد سے جڑا ہوا ہے او ریہ ہر سال دسمبر میں منعقد کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ گھوڑوں پر مبنی ہندوستان کا سب سے قدیم میلہ ہے۔

نومبر 2017 میں اس وقت کے وزیر جے کمار راول کی صدارت میں ایم ٹی ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرس نے انعقاد کو وسیع پیمانے پر فروغ دینے کے لیے ایک قرارداد تیار کیا۔ کارپوریشن نے اسی مہینے ایک ایونٹ مینجمنٹ ایجنسی کا انتخاب کرنے کے لیے ٹنڈر جاری کیا اور تین بولی لگانے والوں میں سے للو جی اینڈ سنس کا انتخاب کیا۔ ایم ٹی ڈی سی اور فرم کے درمیان ہوئے معاہدہ کے مطابق 18-2017 سے 27-2026 تک میلہ کے انعقاد اور مارکیٹنگ کے لیے 321 کروڑ روپے خرچ کیے جانے تھے۔ کارپوریشن نے ان دس سالوں میں ٹھیکہ کو وی جی ایف (ویابلٹی گیپ فنڈ) کی شکل میں 75.45 کروڑ روپے (ٹیکس ملا کر) دینے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

بہر حال، بتایا جاتا ہے کہ ستمبر 2018 میں پرنسپل اکاؤنٹینٹ جنرل کے دفتر نے ایک آڈٹ میں اعتراض ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ ’’فرم کو اضافی رقم کی ادائیگی کی گئی تھی‘‘۔ اس سال مئی میں ریاست کے پلاننگ ڈپارٹمنٹ نے وی جی ایف جاری کرنے کے قدم پر سوال اٹھاتے ہوئے پروجیکٹ پر روک لگا دی۔

قومی آوازبیورو

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!