Published From Aurangabad & Buldhana

فوج …سیاست اور جمہوریت

مسلح افواج کا سربراہ بھی اگرہندوتو ا لب و لہجہ میں بات کرنے لگے تو اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہئے کہ ملک کس سمت سفر کررہاہے ؟ بی جے پی دورِ اقتدار میں ملک ایک خطرناک موڑ تک پہنچ چکا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت پہلے ہی سیاستدانوں کے نرغہ میں ہے اب اگر فوج کی نظریں بھی سیاست پر مرکوز ہورہی ہیں ، فوج بھی سیاسی سرگرمیوں میں دلچسپی کا اظہار کررہی ہے اور سیاسی معاملات پر بلاتردد لب کشاہی کررہی ہے تو یہ جمہوریت کیلئے نیک شگون نہیں ہے ۔ آزادی کے 7؍ عشروں میں مسلح افواج نے کبھی سیاست میں دخل اندازی نہیں کی ۔ اس نے ملک کے دفاع اور سرحدوں کے تحفظ کو ہی اپنا اول و آخر فریضہ سمجھا ۔ مگر حال کا جائزہ لیں تو فوجی سربراہ سیاستدانوں کا طرزِ تخاطب اختیار کرتے جارہے ہیں ۔ سابق فوجی سربراہ و موجودہ بی جے پی وزیر جنرل وی کے سنگھ کے دور سے فوج کا سیاست میں عمل دخل بڑھا ۔ موجودہ فوجی سربراہ جنرل بپن راوت اپنے پیشرو کے نقشِ قدم پر چلنے کو عین سعادت تصور کررہے ہیں ۔ نظم و ضبط اور آئین کی پاسداری فوج کی شناخت ہے ۔ فوجی سربراہ ایک باوقار و بااختیار آئینی عہدہ ہے ، اس عہدہ پر فائز شخص کی ذمہ داری اگر ملک کی سلامتی ہے تو آئین کی پاسداری بھی اس کے فرائض میں شامل ہے ۔ اگر آئینی عہدیدار غیرآئینی طرزِ عمل کا مظاہرہ کرے تو اسی کا ساکھ ، وقار اور اعتبار پر حرف آئے گا ۔فوجی سربراہ جنرل بپن راوت کا متنازعہ بیان ان کے اعتبار پر سوالیہ نشان ثبت کررہاہے ۔ انہوں نے ملک کی شمال مشرقی ریاست کے دیرینہ تنازعہ کیلئے بین السطور مسلم سیاستداں اور ان کی جماعت کوذمہ دار قراردینے کی کوشش کی ۔ آسام میں غیرملکی دراندازی یا مبینہ طورپر بنگلہ دیشی شہریوں کا غیرقانونی داخلہ و ومستقل قیام تاریخی اعتبار سے درست ہے یا مفروضہ یا اس بہانے ریاستی مسلمانوں کی ملک بدری کی سازش ، بحث سے قطع نظر اس معاملہ میں فوجی سربراہ کی مداخلت افسوسناک ہی نہیں بلکہ غیرآئینی ہے ۔ فوج یہ تو قطعی برداشت نہیں کرتی کہ کوئی مسلم سیاستداں فوج کو فرقہ وارانہ نظروں سے دیکھے ، ملک کے دفاع کیلئے جان نچھاور کرنے والے فوجی افسران وجوانوں کی شہادت کو مذہب کے پیمانے میں تولے ، مگر یہی فوج ایک مسلم سیاسی جماعت کی عوامی مقولیت میں تیزی سے اضافہ پر فکرمندی کا اظہار بھی کررہی ہے اور اسے قومی سلامتی کامسئلہ بھی بنارہی ہے۔
آسام کی مسلم سیاسی جماعت آل انڈیا یونائیٹیڈڈیموکریٹک فرنٹ AIUDF کی عوامی مقبولیت اور کامیابی کو جنرل بپن راوت نے متنازعہ بنانے کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے ایک سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے رکن پارلیمان بدرالدین اجمل کی جماعت کا بی جے پی سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ AIUDF بی جے پی کے مقابلہ تیزی سے مقبول اور مستحکم ہورہی ہے ۔ بات اگر یہیں تک محدود رہتی تو اس پر اعتراض کی کسی کو کوئی گنجائش نہیں رہتی مگر انہوں نے AIUDFکی مقبولیت کا سبب بتاکر راست طور پرمسلمانانِ آسام کی شہریت مزید مشکوک و مشتبہ بنانے کی کوشش کی ۔ بپن راوت نے بلاتردد یہ کہہ دیا کہ بنگلہ دیشی شہری ہی AIUDFکی مقبولیت اور استحکام کا سبب ہیں۔ویسے توآسام کے دیرینہ تنازعہ پر کچھ کہنا ہے درست نہیں کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے ۔ آسام کے لاکھوں مسلمانوں کو شہریت سے محروم کرکے انہیں ملک بدر کرنے کی سازش برسوں سے جاری ہے ۔ مولانا بدرالدین اجمل کی جماعت اورجمعیۃ العلماء ہند آسامی مسلمانوں کی شہریت کے جائز وآئینی حق کیلئے حکومت سے برسرپیکار ہیں ۔ دونوں جماعتوں کی نمائندگی کے سبب حکومت کے مذموم عزائم ناکام ثابت ہورہے ہیں ۔ آسام میں AIUDF کی مقبولیت اور کامیابی کا راز یہی ہے کہ وہ بلالحاظ مذہب آسامی شہریوں کے سنگین بنیادی مسائل کی یکسوئی کیلئے جدوجہد کررہی ہے۔ شہریت کے معاملہ پر بی جے پی کاچہرہ بے نقاب ہوچکاہے ۔ آسام کی انتخابی مہم کے دوران وزیراعظم نریندرمودی نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ آسام میں رہائش پذیر لاکھوں غیرقانونی شہریوں کو ملک بدر کردیں گے جبکہ بنگلہ دیش یا دنیا کے کسی بھی ملک سے آنے والے ہندوؤں کا نہ صرف خیرمقدم کیاجائے گا بلکہ انہیں شہریت بھی عطا کردی جائے گی ۔ اس منظرنامہ میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا اب بی جے پی حکومت مسلح افواج کو بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت کا زہر گھولنے کیلئے استعمال کررہی ہے ؟
فوج کی سیاست میں دلچسپی اور سیاسی تبصرہ کی روایت کبھی نہیں رہی ۔فوج کی عدم مداخلت کے مثبت نتیجہ ہی ہے کہ ہندوستان کی جمہوریت مستحکم ہے ۔ فوج کی سیاست میں مداخلت کے نتائج ہم پڑوسی ملک میں دیکھ سکتے ہیں اور اس سے کچھ سبق بھی سیکھ سکتے ہیں ۔ اس تناظر میں یہ ضروری ہے کہ فوج کو سیاست سے دور رکھا جائے ۔ ہاں کوئی فوجی سربراہ ، افسر یا جوان خدمات سے سبکدوشی کے بعد سیاست میں قسمت آزمائی کیلئے آزاد ضرور ہے لیکن خدمات پر مامور فوج کو سیاسی مداخلت سے باز رکھا جانا چاہئے ۔اگر اسے نظرانداز کیا گیا یا کسی مخصوص حلقے سے اس کی ستائش کی گئی تو اس کے مضر اثرات رونما ہوں گے ، اگر جمہوریت کی بنیادیں کھوکھلی ہوگئیں توملک جمہوریت سے آمریت کی آغوش میں چلا جائے گا ۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!