Published From Aurangabad & Buldhana

فلسطینی اراضی پرناجائز تعمیرات ، ٹرمپ کا انتباہ

یہودی بستیوں کی تعمیر سے امن عمل پیچیدہ ہوجائے گا

واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ وہ یہودی آبادکاری کے معاملے میں احتیاط سے کام لے کیونکہ اس سے امن عمل پیچیدگی کا شکار ہو سکتا ہے۔انھوں نے ایک اسرائیل اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انھیں نہیں لگتا کہ فلسطین اور اسرائیل امن مذاکرات کے لیے فی الحال راضی ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ہم دیکھیں گے کہ کیا ہو گا۔ اس وقت فلسطین امن عمل شروع نہیں کرنا چاہتے۔ اسرائیل کے حوالے سے بھی میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ انہیں بھی اس میں کوئی دلچسپی ہے اس لیے ہمیں انتظار کرنا ہو گا۔یہودی بستیوں کے امن منصوبے کا حصہ ہونے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا ہم ان بستیوں سے متعلق بات کریں گے۔ ان بستیوں نے چیزوں کو ہمیشہ پیچیدہ بنایا اور میرا خیال ہے کہ اسرائیل کو ان بستیوں کی تعمیر کے حوالے سے محتاط ہونا چاہیے۔امریکی صدر نے گذشتہ برس دسمبر میں امریکی سفارتخانہ یروشلم منتقل کر کے فلسطینیوں کو ناراض کر دیا تھا۔اس کے علاوہ انھوں نے فلسطین کی امداد روکنے کی بھی دھمکی دی۔ اسرائیلی اخبار یسرائیل ہیوم کے ایڈیٹر کی جانب سے ممکنہ امریکی امن منصوبے کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ’ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوگا۔اسرائیل برسوں سے فلسطینی اراضی پر قبضہ کرکے غیرقانونی یہودی بستیاں تعمیرکررہاہے ۔ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف پوری دنیا میں مسلسل احتجاج بھی کیاجارہاہے ۔ خاص طورپر یورپی و مغربی ممالک اسرائیل سے بارہا یہ مطالبہ کرچکے ہیں کہ وہ غصب کی گئی فلسطینی اراضی سے دستبردار ہوجائے اور اراضی فلسطین کے سپرد کردے ، یورپ کے ساتھ بیشتر مغربی ممالک میں اسرائیلی مصنوعات کا برسوں سے بائیکاٹ کیاجارہاہے ۔ اقوام متحدہ بھی بارہا اسرائیل کو خبردار کرچکا ہے لیکن اسرائیل کسی کو خاطر میں لانے کیلئے تیار نہیں اور مسلسل فلسطینی اراضی پر ناجائز یہودی بستیوں کی تعمیرمیں مصروف ہے ۔ مشرقی یروشلم اور مغربی پٹی میں۱۹۶۷ء کے بعد سے تعمیر کی جانے والے یہودی بستیوں میں چھ لاکھ سے زائد یہودی آباد ہیں۔بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ آبادکاری غیر قانونی ہے تاہم اسرائیل اس بات کی مخالفت کرتا ہے۔ یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے پر امریکی صدر کا کہنا تھا یروشلم کا دارالحکومت ہونا بہت سے لوگوں کے لیے ایک اہم چیز تھی۔ میں نے ایک اہم وعدہ کیا تھا جو میں نے پورا کیا۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ پورا شہر اس کا دارالحکومت ہے جبکہ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ مشرقی یروشلم ان کا علاقہ ہے جس پر اسرائیل نے۱۹۶۷ء کی جنگ کے بعد قبضہ کر لیا۔ امریکی صدر کے تازہ مؤقف پر فلسطین کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!