Published From Aurangabad & Buldhana

فرنچ ویب سائٹ کا دعویٰ، رافیل ڈیل کے لئے حکومت ہند کی شرط تھی کہ ریلائنس کو منتخب کرنا ہوگا

فرانس کی انویسٹی گیٹیو ویب سائٹ’میڈیاپارٹ‘نے ڈاسسو ایویشن کے دستاویز کے حوالے سے بتایا ہے کہ رافیل کی ڈیل حاصل کرنے کے لئے ڈاسسو کا انل امبانی کی ریلائنس ڈیفنس سے پارٹنرشپ کرنا’لازمی‘تھا۔ اس رپورٹ کے بعد ڈاسسو نے صفائی دی ہے کہ اس نے بنا کسی دباؤ کے ریلائنس کو منتخب کیا تھا۔

نئی دہلی: ہندوستان کے لئے 36 رافیل بنانے کا کانٹریکٹ پانے کے لئے ڈاسسو ایویشن کے انل امبانی کے ریلائنس ڈیفنس کے ساتھ جوائنٹ وینچر شروع کرنے کو راضی ہونا ‘لازمی’تھا۔ فرانس کی ایک انویسٹی گیٹیو ویب سائٹ ‘میڈیاپارٹ’نے اپنی ایک رپورٹ میں ایسا بتایا ہے۔میڈیاپارٹ کی اس رپورٹ میں ڈاسسو سے حاصل ایک دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیاہے کہ رافیل ڈیل کے لئے ریلائنس کو ‘ٹریڈ آف ‘(ایک طرح کا سمجھوتہ)کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ یعنی اگر ریلائنس کو پارٹنر منتخب کیا جائے‌گا، تبھی ان کو رافیل کا کانٹریکٹ ملے‌گا۔

اگر اس انکشاف کو سچ مانا جائے، تو یہ نریندر مودی حکومت کے اس دعویٰ کو خارج کرتا ہے، جس میں اس نے کہا تھا کہ رافیل ڈیل میں آفسیٹ پارٹنر کے طورپر ریلائنس کے انتخاب میں اس کا کوئی کردار نہیں تھا۔میڈیاپارٹ کی رپورٹ میں ڈاسسو کے ڈپٹی سی ای او لوئیک سیگلیں کے ذریعے ناگپور میں کمپنی کے اسٹاف نمائندوں کو مئی 2017 میں دیے ایک Presentationکے بارے میں بتایا گیا ہے،جس میں سیگلیں نے رافیل ڈیل حاصل کرنے کے لئے ریلائنس کی پارٹنرشپ کو ‘لازمی’بتایا تھا۔

میڈیاپارٹ کی رپورٹ کے ایک حصے میں بتایا گیا ہے :

یہ ایک دم جھوٹا افتتاح تھا۔ ناگپور (وسط ہندوستان)کے ایک میدان میں ٹینٹ کے نیچے’ سنگ بنیاد’رکھا گیا اور اعلان کیا گیا کہ یہ’مستقبل کی ڈاسسو-ریلائنس فیکٹری’کی تعمیر کی شروعات ہے۔میڈیاپارٹ کے پاس آئے ڈاسسو کے ایک اندرونی دستاویز کے مطابق، اس ایویشن گروپ کے ایک سینئر ایگزیکٹیونے اپنے اسٹاف نمائندوں کو بتایا تھا کہ یہ جوائنٹ وینچر رافیل ڈیل حاصل کرنے کے لئے ‘ٹریڈ آف اور’لازمی’تھا۔

واضح ہو کہ اس سے پہلے میڈیاپارٹ نے سابق فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند کے حوالے سے بتایا تھا کہ اربوں ڈالر کی اس ڈیل میں حکومت ہند نے انل امبانی کے ریلائنس ڈیفنس کو ڈاسسو ایویشن کا ساجھےدار بنانے کی تجویز دی تھی۔اولاند کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ حکومت ہند نے اس گروپ کو تجویز دی تھی اور ڈاسسو ایویشن نے (انل) امبانی گروپ کے ساتھ بات چیت کی۔ ہمارے پاس کوئی اختیار نہیں تھا، ہم نے وہ مذاکرہ کار لیا جو ہمیں دیا گیا۔یہ پوچھے جانے پر کہ ساجھےدار کے طور پر کس نے ریلائنس کا انتخاب کیا اور کیوں، اولاند نے کہا، ‘اس میں ہمارا کوئی رول نہیں تھا۔ ‘

حالانکہ ہندوستان اور فرانس حکومت دونوں نے ہی اس کی تردید کی تھی۔تب ڈاسسو ایویشن نے بھی کہا تھا کہ کمپنی نے ریلائنس ڈیفنس کا انتخاب حکومت ہند کی’میک ان انڈیا’پالیسی کے تحت کیا ہے۔بدھ کی شام میڈیاپارٹ کی رپورٹ آنے کے بعد ڈاسسو ایویشن نے وضاحت دی ہے کہ آفسیٹ پارٹنر کے طور پر ریلائنس کو اپنی مرضی سے منتخب کیا ہے۔ ان پر اس کے لئے کوئی دباؤ نہیں تھا۔

این ڈی ٹی وی کی خبر کے مطابق ڈاسسو نے کہا کہ اس نے ہندوستانی اصولوں (Defence Procurement Procedure)اور ایسے ڈیل کی روایت کے مطابق کسی ہندوستانی کمپنی کو آفسیٹ پارٹنر منتخب کرنے کا وعدہ کیا تھا۔اس لئے کمپنی نے جوائنٹ-وینچر بنانے کا فیصلہ کیا۔ڈاسسو نے یہ بھی کہا کہ کہ ہندوستان اور فرانس کی حکومت کے درمیان یہ سمجھوتہ ہوا ہے اور بنا کسی دباؤ کے اس نے ریلائنس کو منتخب کیا۔ساتھ ہی ان کا کئی کمپنیوں کے ساتھ سمجھوتہ ہوا ہے۔

کمپنی نے کہا کہ ہندوستان اور فرانس کے درمیان 36 رافیل ہوائی جہازوں کی خرید کی ڈیل ہوئی ہے اور یہ ڈیل حکومت ہند کے اصولوں کے تحت ہوئی ہے۔ کمپنی نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ آفسیٹ کے لئے کچھ دیگر ہندوستانی کمپنیوں سے بھی سمجھوتہ ہوا ہے، جن میں مہندرا، بی ٹی ایس ایل، کائی نیٹک وغیرہ شامل ہیں۔

دی وائر

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!