Published From Aurangabad & Buldhana

فرنویس حکومت کے 4سال: حزب مخالف پارٹیوں کے بجائے احتجاجوں سے مقابلہ

مجتبیٰ ایم

ممبئی : ریاست کی دیویندر فرنویس حکومت کو 31اکتوبر کو 4سال مکمل ہو رہے ہیں۔ ملک کی دوسری سب سے زیادہ لوک سبھا سیٹوں والی اس ریاست کی سیاست کا اثر مرکزی حکومت پر بھی دکھائی دیتا ہے۔ لیکن بی جے پی کے ساتھ حکومت میں شریک شیو سینا کی حکومت کو دھمکی کی خبریں بھی ان چار سالوں میں سرخیوں میں رہی ہیں۔ اگر فرنویس سرکار اپنی پانچ سال کی مدت کو پورا کرتے ہیں تو وہ سال 1967-68کے بعد پانچ سال لگاتار حکومت کرنے والے مہاراشٹر کے پہلے وزیر اعلیٰ ہونگے۔ لیکن گذرے ان چار سالوں میں فرنویس سرکار کے سامنے بڑی سیاسی رکاوٹیں نہیں آئی ہیں۔ ریاست میں بھی کانگریس جارحانہ نہیں دکھ رہی ہے۔ NCPاورکانگریس کے اپنے اپنے مدعے ہیں۔ بیچ بیچ میں شرد پورا مودی کے حق میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ وہیں بات بات پر بی جے پی حکومت میں ساتھ شیو سینا جہاں سابق میں دیگر معاملوں پر بی جے پی پر حملہ کر رہی تھی تو اب ایودھیا کے رام مندر معاملے پر آواز اٹھانے لگی ہے۔ حال ہی میں پارٹی کے صدر ادھو ٹھاکرے نے ایودھیا بھی جانے کی بات کہی تھی۔ ظاہر ہے وہ اس طرح کا عمل دکھا کر دوبارہ بی جے پی کے ساتھ ہی جاسکتے ہیں۔ ایسی حالت میں بی جے پی اور شیو سینا کا اتحاد دوبارہ ہونا طئے محسوس ہوتا ہے جو ہر لحاظ سے دونوں پارٹیوں کے مستقبل کے لئے اچھی بات ہے۔ ان تمام معاملات میں حکومت جہاں کمزور نظر آئی ہے وہ الگ الگ سماجوں کے احتجاجوں کے ساتھ ٹھیک طرح سے پیش آنا ہے۔ مراٹھا، دھنگر، دلت یا پھر کسان احتجاج کیسے کئی احتجاجوں کا سامنا فرنویس سرکار کوپچھلے چار سالوں سے کرنا پڑا ہے۔

ان سب چیزوں میں یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ موجودہ فرنویس حکومت کو حزب مخالف کانگریس یا این سی پی سے کوئی خطرہ نہیں ہے ساتھ ہی نئے سیاسی اتحاد کے عنوان سے ابھر کر سامنے آئے ایم آئی ایم۔ امبیڈکر سے بھی بی جے پی کو سکون یا فائدہ محسوس ہوتا ہے۔ یہ اتحاد اگر کانگریس ۔ این سی پی سے الگ ہوکر جتنا مضبوط ہوگا اتنا ہی بی جے پی ۔شیو سینا کو راحت ملے گی۔ جہاں فرنویس حکومت نے ذراعت کے معاملے میں کافی بجٹ رکھنے کی کوشش کی لیکن قرض معافی اور فصلوں کی صحیح قیمت نہ ملنے پر کسانوں کا لمبا مورچہ ناسک سے ممبئی تک نکلاتھا۔
اس کے علاوہ میک ان انڈیا کی رفتار میں سستی آئی ہے ۔ 2014میں مرکز کے بعد جب ریاست میں بی جے پی کی حکومت آئی تو ایسا لگا کہ تھا کہ میک ان انڈیا کے عنوان سے ریاست مرکزی حکومت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلے گی۔ لیکن ساتھ تو چلی مگر اس طرح کہ نہ تو مرکز نے خاطر خواہ کام کیا اور نہ ہی ریاست نے۔ آئی فون بنا نے والی کمپنی Foxconnکے ساتھ میک ان انڈیا اور میک ان مہاراشٹر کے تحت حکومت مہاراشٹر نے قرار نامہ کیا تھا لیکن آج چار سال بعد بھی یہ کمپنی زمین پر نہیں شروع ہوپائی ہے۔

ریاستی حکومت کے لئے اب ایک بڑا مسئلہ سوکھے کا ہے۔ ریاست میں اس سال بھی بارش بہت کم ہوئی ہے۔ اس کے لئے گاؤں اور تعلقہ میں پانی کے مسئلہ کو حل کرنا بھی حکومت کے لئے بڑا مسئلہ رہے گا۔ اس مسئلہ کا حل یا اس پر حکومت کا عمل کسانوں کے کے ووٹوں کا رخ طئے کرسکتا ہے۔ جہاں تک بات مراٹھا ریزرویشن کی ہے حال ہی میں ہوئے تشدد بھرے احتجاجوں کے بعد اب مراٹھا دوبارہ تحریک شروع کرنے کی تیاری میں۔ اگر یہ تحریک بھی کنٹرول سے باہر نکلتی ہے تو حکومت کے لئے مزید پریشانی بڑھ سکتی ہے۔

اب اگر ہم رخ حزب مخالف کی جانب کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ حزب مخالف اندرونی سیاست کی شکار ہوگئی ہے ۔ اسی لئے حکومت میں اتنے زیادہ مسائل ہونے کے باوجود کانگریس و این سی پی کی جانب سے مناسب حرکت محسوس نہیں ہوتی ہے۔ نتیجتاً لگتا ہے کہ فرنویس سرکار کو حزب مخالف کی کوئی ڈر نہیں۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!