Published From Aurangabad & Buldhana

غیر قانونی نل کنکشن نہیں شاہ گنج کا چپل مارکیٹ ہے فساد کی اصل وجہ

دکانداروں سے ہفتہ ویکمشت لاکھوں حاصل کرنے کی سازش میں بھگوا عہدیداران کے ساتھ ایک ایمان فروش مسلم نمائندہ بھی شامل ؟

اورنگ آباد ۱۲؍مئی ۔زعفرانی شرپسندوں نے شہر کو تعصب کی آگ میں جھونک دیا ہے ۔ رات کے اندھیرے میں پولس کی عدم موجودگی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے دکانوں ، مکانوں اور فوروہیلرس و ٹو وہیلرس کو بڑے پیمانہ پر نذرآتش کرکے لاکھوں کا مالی نقصان ، تلواروں اور مہلک ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کیا گیا ۔ دو افراد اس فساد کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ۔ گاندھی نگر سے اٹھی یہ چنگاری مسلم علاقوں تک پہنچتے پہنچتے شعلوں میں بدل گئی ۔ منصوبہ بند طریقہ سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا اور ہر فرقہ وارانہ فساد کی طرح اس فساد میں بھی بھگوا دہشت گردوں کے حملوں کے ساتھ ساتھ مسلمان ہی پولس کی گولیوں اور لاٹھیوں کا نشانہ بنائے گئے ۔اورنگ آباد میں کل جو ہوا، وہ پہلے سے طئے شدہ تھا، اس نتیجہ کے آثار پہلے سے ہی نمایاں کئے گئے تھے ۔ کچھ مخصوص تعصب پسندوں کی مفاد پرستی کا یہ نتیجہ ہے، لیکن پولس اور مقامی اخبارات نے میونسپل کارپوریشن کے تحت موتی کارنجہ میں شروع کی گئی غیر قانونی نل کنکشن منقطع کرنے کی مہم کو اس فساد کی وجہ بتلانے کی کوشش کی ہے ۔جبکہ یہ سراسر جھوٹ اور بے بنیاد بات ہے ۔ غیر قانونی نل کنکشن کاٹنے کا یہ نتیجہ نہیں بلکہ شاہ گنج چمن سے متصل چپل مارکیٹ اس فساد کی اصل وجہ ہے ۔ لچھو پہلوان اور کچھ بھگوا عہدیداران کو چپل مارکیٹ کے دکانداروں سے یکمشت ایک موٹی رقم اور پابندی سے ہفتہ مطلوب تھا۔ رقم دینے سے دکانداروں کے انکار کی وجہ سے گاندھی نگر کے معمولی جھگڑے کو شاہ گنج میں لاکر فرقہ وارانہ رنگ دیا گیا۔ گاندھی نگر کے والمیکی غنڈوں کا شاہ گنج چمن سے دور دور تک کوئی واستہ نہیں ہے، پھر شاہ گنج چمن سے متصل چپل مارکیٹ کی دکانوں کو نصف شب اچانک کس نے نذر آتش کر دیا ؟ اس سوال کے جواب کی تہہ میں جانے پر ہی حقیقت اجاگر ہوسکتی ہے ۔ تشویشناک امر یہ کہ چپل مارکیٹ کے دکانداروں سے ہفتہ اور یکمشت موٹی رقم نکالنے کی سازش میں لچھو اور بھگوا عہدیداران کے علاوہ ایک مسلم لیڈر بھی شامل ہونے کے تذکرے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ وہی مسلم نمائندہ ہے جو بظاہر تو مسلمانوں کی ہمدردی اور جانثاری کے دعوے کرتا ہے، لیکن ملّی جذبہ کے پس پشت ایمان فروشی کا مکروہ چہرہ چھپا ہوا ہے ۔ اسی نمائندہ کی ایماء پر چپل مارکیٹ پر کاروائی کا بھی فیصلہ کیا گیا تاکہ دکانداروں سے حاصل ہونے والے لاکھوں روپیوں کو آپس میں بانٹ سکیں۔ چپل مارکیٹ کے دکانداروں نے اس مسلم نمائندہ کو جلد ہی بے نقاب کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!