Published From Aurangabad & Buldhana

غزل-اساتذہ کے نام

عبداللطیف جوہر

ریا سےدکھاوے سے،خود نمائی سے کیا ہوگا
یوں آپس میں زور آزمائی سے کیا ہوگا

اس طرح لگائی بجھائی سے کیا ہوگا
خود اپنی ہی جگ ہنسائی سے کیاہوگا

عمل کی جزا تو وہی دینے والا ہے
کسی کی وفا اور بے وفائی سے کیا ہوگا

جو بھی کرنا تم بے لوث کرو یارو
کسی پر یوں انگشت نمائی سے کیا ہوگا

خونِ دل کاغذ پہ اترے تو مزہ ہے ورنہ
شعر بندی سے غزل سرائی سے کیا ہوگا

ھےعمل کی بھی جوہر ضرورت تمہیں
صرف باتوں سے،قافیہ پیمائی سے کیا ہوگا

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!