Published From Aurangabad & Buldhana

عشر، زکوٰۃ اور سرکاری ٹیکس

جسٹس ملک غلام علی

سوال : ایک صاحب جو جج بھی رہ چکے ہیں نے ایک مجلس میں فرمایا: ’’عشر، زمینی پیداوار کے دسویں حصے پر اور زکوٰ? جمع شدہ دولت کا صرف ڈھائی فی صد حصہ ہوتی ہے۔ مالیہ و آبیانہ، زمینی پیداوار کے نصف پر تشخیص کیا جاتا ہے۔ اسی طرح جمع شدہ دولت پر بھاری انکم ٹیکس بھی لگایا جاتا ہے اور چوں کہ یہ رقم ریاستی بیت المال میں داخل ہوکر رفاہِ عامہ کیکاموں کے لیے خرچ ہوتی ہے، اس لیے زکوٰۃ اور عشر دینا لازم نہیں‘‘۔ کیا ان ریاستی ٹیکسوں کی موجودگی میں واقعی زکوٰۃ اورعشر دینا ضروری نہیں ہے؟
جواب :زکوٰۃ کے متعلق پہلی بات یہ سمجھ لینی چاہیے کہ یہ ٹیکس نہیں ہے بلکہ ایک عبادت اور رکنِ اسلام ہے، جس طرح نماز، روزہ اور حج ارکانِ اسلام ہیں۔ جس شخص نے کبھی قرآنِ مجید کو آنکھیں کھول کر پڑھا ہے، وہ دیکھ سکتا ہے کہ قرآن بالعموم نماز اور زکوٰۃ کا ایک ساتھ ذکر کرتا ہے اور اسے اْس دین کا ایک رکن قرار دیتا ہے، جو ہر زمانے میں انبیاے کرام علیہم السلام کا دین رہا ہے۔ اس لیے اس کو ٹیکس سمجھنا اور ٹیکس کی طرح اس سے معاملہ کرنا پہلی بنیادی غلطی ہے۔ ایک اسلامی حکومت جس طرح اپنے ملازموں سے دفتری کام اور دوسری خدمات لے کر یہ نہیں کہہ سکتی کہ اب نماز کی ضرورت باقی نہیں ہے کیوں کہ انھوں نے سرکاری ڈیوٹی دے دی ہے، بالکل اسی طرح وہ لوگوں سے ٹیکس لے کر نہیں کہہ سکتی کہ اب زکوٰۃ کی ضرورت باقی نہیں کیونکہ ٹیکس لے لیا گیا ہے۔ اسلامی حکومت کو اپنے نظام الاوقات لازماً اس طرح مقرر کرنے ہوں گے کہ اْس کے ملازمین نماز وقت پر ادا کرسکیں۔ اسی طرح اْس کو اپنے ٹیکسوں کے نظام میں زکوٰۃ کی جگہ نکالنے کے لیے مناسب ترمیمات کرنی ہوں گی۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ حکومت کے موجودہ ٹیکسوں میں کوئی ٹیکس اْن مقاصد کے لیے اْس طرح استعمال نہیں ہوتا کہ جن کے لیے قرآن میں زکوٰۃفرض کی گئی ہے اور جس طرح اس کے تقسیم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!