Published From Aurangabad & Buldhana

عام خاص میدان پر تحفظِ شریعت کے عنوان سے عظیم الشان جلسہ کا انعقاد

ہم شریعت پر نہ چلیں تو زِندہ لاش بن جائیں گے ’مسٹر مودی مسلم بہنوں کی آپ کو فکر ہے تو گجرات کی بھابھی کی فکر کون کرے گا‘ جلسہ عام میں اسد الدین اویسی کا وزیراعظم سے سیدھا سوال

ایشیا ایکسپریس ٹیم
اورنگ آباد: مرکزی حکومت کے تین طلاق سے متعلق متنازعہ بل کو لوک سبھا میں منظوری ملنے کے بعد پورے ملک میں مسلمانوں میں بے چینی کا ماحول ہے، بلا لحاظ مسلک وجماعت تمام مسلمان مرکزی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کررہے ہیں، اسی سلسلے میں مجلس اتحاد المسلمین کی جانب سے ملک گیر سطح پر مسلمانوں میں بیداری پیدا کرنے کی غرض سے مہم چلائی جارہی ہے، اس ضمن میں آج اورنگ آباد میں ’’تحفظ شریعت‘‘ کے عنوان سے ایک جلسہ عام منعقد کیا گیا تھا، جس میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں نے شریک ہوکر ملی اتحاد اور مرکزی حکومت کے فیصلے کی مذمت میں شامل ہونے کا ثبوت دیا۔اس موقع پر جید علماء کرام نے بھی رہنمائی کی۔ اس جلسہ عام سے صدر جلسہ اسد الدین اویسی نے کلیدی خطاب کیا۔
انصاف تو ایک بہانہ ہے‘ شریعت اصل نشانہ ہے
جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے اسد الدین اویسی نے مسلمانوں سے صاف کہا کہ اگر ہم شریعت پر عمل پیرا نہ ہونگے تو اس ملک میں ہم ایک زندہ لاش کی مانند بن جائیں گے۔ اُنہوں نے مرکزی حکومت کے فیصلے کی سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلم خواتین کو انصاف دلانا ایک بہانہ ہے اصل میں شریعت نشانہ ہے۔ ملک کی زعفرانی طاقتیں چاہتی ہیں کہ وہ مسلمانوں کے خاندانی نظام کو درہم برہم کردیں۔اُنہوں نے کہا کہ طلاق ثلاثہ پرمرکزی حکومت کامجوزہ بل شریعت میں کھلی مداخلت ہے۔مسلم خواتین کوانصاف دلانا بہانہ ہے جبکہ شریعت اصل نشانہ ہے۔اس کالے قانون کامقصد مسلم نوجوانوں کو جیلوں میں بندکرنا اور اورمسلم خواتین کو عدالتوں کے چکرکاٹنے پر مجبور کرنا ہے۔ بھارتیہ مسلم مہیلا کے سروے کے مطابق مسلم معاشرہ میں طلاق ثلاثہ کا تناسب نہایت کم ہے اگروزیراعظم نریندرمودی مسلم خواتین کوانصاف دینے چاہتے ہیں تووہ آئندہ مرکزی بجٹ میں دوہزارکروڑکابجٹ ان کی فلاح وبہبودکیلئے مختص کریں اورہرماہ مطلقہ مسلم خواتین کوپندرہ ہزار کاوظیفہ جاری کریں۔ اویسی نے مزیدکہاکہ اس قانون کی کوئی ضرورت نہیں۔مسلم ممالک میں طلاق ثلاثہ پر اتنا بھیانک قانون نہیں ہے۔یہ قانون بنیادی حقوق اورمساوات کی پامالی کرتاہے جو ہمیں دستورہندعطاکرتاہے۔طلاق ثلاثہ کامسئلہ اصلاح معاشرہ کے اجلاس اور مسلم خواتین کی جدوجہد سے ختم ہوگا۔
گجراتی بھابھی کو انصاف کون دے گا۔۔۔۔
انہوں نے اعدادوشمارکاحوالے سے کہاکہ ملک ہندوستان میں۲۴؍لاکھ خواتین شوہروں کے بغیر رہتی ہیں جس میں ۲۲؍لاکھ ہندو‘ ۲؍لاکھ مسلم اور نوے ہزار عیسائی خواتین ہیں۔ہمارامطالبہ ہے کہ بیویوں کو چھوڑنے والے ایسے شوہروں کو جیل میں بندکردیاجائے۔انہوں نے نریندرمودی پرچٹکی کستے ہوئے کہاکہ گجرات کی بھابھی (یعنی وزیراعظم کی بیوی جو اکیلے زندگی گزارنے پر مجبور ہے) سے کون انصاف کرے گا؟انہوں نے اپنے حلف نامہ اورفارم میں لکھاکہ میری بیوی ہے لیکن میرے گھرمیں نہیں ہے۔بال ٹھاکرے کے بعد مودی جی ہندو ہردئے سمراٹ ہیں لیکن انہیں ہندو ماؤں بہنوں کی کوئی فکر نہیں ہے۔
تین طلاق دینے والے کا ہم سماجی بائیکاٹ کریں
مسلم پرسنل لاء بورڈ کی واضح ہدایات ہیں کہ اگرکوئی مسلمان اپنی بیوی کو طلاق ثلاثہ دیتاہے تواس کاسماجی بائیکاٹ کیاجائے۔دین اسلام نے چودہ سوسال قبل ماں بیوی اوربیٹی کو جائیدادمیں حصہ دیا‘تین لڑکیوں کی تربیت پر جنت کاوعدہ کیاہے۔اسلام میں خواتین کوبہت حقوق حاصل ہیں‘انہوں نے اپیل کی کہ مسلم خواتین تحفظ شریعت کیلئے ہماراساتھ دیں۔متنازعہ فلم پدماوت کاذکرکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ راجپوتوں کی آبادی ملک میں محض4%ہے۔لیکن انہوں نے فلم پدماوت پراحتجاج کیا‘ڈائریکٹرکی گردن مارنے‘ایکٹریس کی ناک کاٹ دینے کی دھمکی دی۔اس کیلئے مودی نے کمیٹی تشکیل دی’تکالیف کودورکرنے کاحکم دیا‘فلم کانام تبدیل ہوگیا اور ۳۰۰؍شارٹ کٹ کردیے گئے۔لیکن مسلمان 14% فیصد ہیں اور ہماری شریعت میں مداخلت کی کوشش کی جارہی ہے۔فلم پدماوت کیلئے کمیٹی تشکیل دی جاسکتی ہے لیکن شریعت میں مداخلت پرکمیٹی نہیں بنائی جاتی۔ انہوں نے مسلم نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ فلم پدماو ت نہ دیکھیں۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی کو مسلمانوں کی کوئی پرواہ اورفکرنہیں ہے۔ پورے ملک میں بی جے پی کے 1418ایم ایل ایزہیں جس میں صرف چارمسلم ہیں۔یہ کہاں کاانصاف ہے؟آخرہم کب تک ہم چوروں کاساتھ دیں گے جنہیں شریعت کاپاس ولحاظ نہیں۔گجرات انتخابات میں بی جے پی نے ایک بھی مسلم امیدوارکو ٹکٹ نہیں دیا۔ہمیں اپنی گردنوں سے سیکولرزم کاطوق نکال کر پھینکناہوگا۔گانگریس نرم ہندوتو اوربی جے پی ہندوتوکی سیاست کررہی ہے ۔کیامسلمانوں نے سیکولرزم کا ٹھیکہ لے رکھاہے۔انہوں نے دلت برداران سے متحدہونے اوربیدارہونے کی اپیل کی۔
عوام کو خواب غفلت سے بیدار ہونا ہوگا
انہوں نے کہاکہ روہت کی موت کے بعد دلتوں کو بیدار ہونا ہوگا‘ بھیما کوریگاؤں کے بعدانہیں خواب غفلت سے جاگناہوگا۔اویسی نے نہایت جذباتی اندازمیں مسلمانوں سے اپیل کی کہ اخلاق کی روح تمہیں پکار کر کہہ رہی ہے‘ شہید حافظ جنید کی روح تمہیں پکاررہی ہے‘ پہلو خان کی روح تم سے مخاطب ہے کہ جاگو۔اخلاق کی بیوہ اوریتیم بچے‘شہید حافظ جنیدکی والدہ تمہیں پکاررہی ہے کہ خواب غفلت سے بیدارہوجاؤ۔اگرہم اب بھی نہ جاگے توہم ختم ہوجائیں گے۔آرایس ایس بی جے پی مسلم دلت مکت بھارت بناناچاہتی ہے۔ وہ ملک پرساورکر‘ہیڈگیوار‘ گولوالکرکے افکارمسلط کرنا چاہتے ہیں وہ سیکولرزام کونہیں مانتے لیکن ہم مسلمان ہیں اور ہم ہمیشہ توحیدکومانیں گے‘ہم لڑتے رہیں گے‘ یہ ہماراجمہوری حق ہے۔بھیماکوریگاؤں حادثہ کے ملزم ایکبوٹے اور بھڑے کی گرفتاری نہ ہونے پر انہوں نے کہاکہ یہ دونوں کیامودی کے سگے ہیں؟اجلاس کا آغاز الیاس خان فلاحی (جماعتِ اسلامی ہند) کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ خان شمیم خان نے بیرسٹراسدالدین اویسی پرلکھی اپنی فی البدیہہ نظم پیش کی جسے سامعین نے بے حد سراہا۔مولاناعمرین محفوظ رحمانی (سیکریٹری آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ)نے اپنی مخاطبت میں کہاکہ اگر مسلمان بزدلی چھوڑکر متحدہوجائیں توکائنات کانظام بدل سکتے ہیں۔ظلم کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔ مدارس پر بے بنیادالزام عائدکیے جارہے ہیں حالانکہ مدرسہ کے فارغین نے ہی ہندوستان سے انگریزوں کو بے دخل کیاہے۔دلوں میں عزم پیداکریں اور قطعی مایوس نہ ہوں۔ہم اپنے کاروبارمیں نقصان برداشت کرلیں گے لیکن شریعت میں مداخلت ہرگزبرداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ مسلمان اپنی زندگی میں شریعت مطہرہ کو اپنائیں۔ مولانا عبدالحمید ازہری(رکن آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ)نے فرمایاکہ حکومت اسلام ہی کو برداشت نہیں کررہی ہے۔ملک ہندوستان میں اسلام حکمرانوں کے ذریعہ نہیں بلکہ اولیاء کرام کی وجہ سے پہنچا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان کا اقتدار عارضی ہے بہت جلدختم ہوجائے گا۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی کاحق ادا کردیا۔ انہوں نے کہاکہ مسلم اپنی بیوی کونوکرانی نہیں بلکہ رانی بنا کر گھر لاتا ہے۔ اگرہم شریعت میں مداخلت کے خلاف ہیں تو دنیاکی کوئی طاقت اس میں مداخلت نہیں کرسکتی۔رکن اسمبلی سیدامتیازجلیل نے کہاکہ مسلمان شریعت میں مداخلت ہرگز برداشت نہیں کرسکتا۔جوخودکی بیوی کو چھوڑ بیٹھاہے وہ ہماری خواتین کیلئے فکرمند ہے۔ حکومت اگریہ سمجھتی ہے کہ ہم شریعت میں مداخلت کوبرداشت کرلیں گے تویہ اس کی بیوقوفی اورغلط فہمی ہے۔اس اسٹیج پر ہرمسلک کے علماء کرام موجودہیں۔ جواس بات کی دلیل ہے کہ حکومت ہمیں توڑنہیں سکتی۔ اگرآج ہم انہیں نہیں روکیں گے توان کی ہمتیں بلندہوتی جائیں گی‘مسلمان حج سبسڈی کامحتاج نہیں ہے۔مجلس کے سینئر قائدڈاکٹرعبدالغفارقادری نے کہاکہ تحفظ شریعت کی جنگ ہمیں اتحاد کے ساتھ لڑنی ہوگی ہمیں باطل کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا ہوگا۔ آپسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ہمیں متحدہوناہوگا۔ شباب نقوی نے کہاکہ اسلام نے خواتین کومکمل تحفظ فراہم کیاہے ۔نظامت کے فرائض مولانا ایڈوکیٹ انوارالحق اشاعتی(ناظم مدرسہ حضرت ابوبکر صدیقؓ مٹمٹہ) نے بحسن وخوبی انجام دیے۔انہیں کے اظہارتشکراوردعاپر رات دس بجے اس اجلاس کااختتام عمل میں آیا۔

تصاویر: شیخ راجو، انیس رامپورے

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!