Published From Aurangabad & Buldhana

عالمی بھوک کے انڈیکس میں 119ممالک میں بھارت کا مقام 103واں، بنگلہ دیش اور ایتھوپیا سے بھی پیچھے

ممبئی: دنیا بھوک سے مکمل طریقہ سے لڑ کر اسے ختم کرنے کی بات کر رہی ہے تاکہ2030تک دنیا میں بھوک مری و کھانے کی قلت کا خاتمہ اور بہتر غذاء مہیاء کرانے کے قابل بن جانا ہے۔حال ہی میں نکالی گئی رپورٹ میں کیفیت تشویش ناک ہے۔ 2018کے گلوبل ہنگر انڈیکس (GHI) میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بھوک مری اور کم یا خراب غذائیت کا کھانہ مہیاء کرانے میں عالمی سطح پر کمی تو آئی ہے لیکن وہ ابھی بھی سنگین کیفیت میں ہے۔ 11اکتوبر کو گلوبل ہنگر انڈیکس کی تیرہویں رپورٹ پیش کی گئی۔ اس رپورٹ میں عالمی سطح پر ممالک کی درجہ بندی 4پیمانوں پر کی جاتی ہے۔ جس میں پہلا کم غذائیت کا کھانہ ہے اور بقیہ تین 1سال سے 5سال کے بچوں سے متعلق جڑے ہیں۔ بچوں کالمبائی کے لحاظ سے کم وزن، بچوں کا عمر کے لحاظ سے کم وزن اور بچوں کی اموات بقیہ تین پیمانے تھے۔ ان پیمانوں پر سب سے برا حال جنوبی ایشیائی ممالک کا رہا ہے جوکہ ریگستانی افریقی ممالک سے بہت قریب ہے۔

جن 119ممالک کا سروے کیا گیا ان میں بھارت کا نمبر 31.1نمبرات لے کر103آیا ہے۔2010میں 32.2کے اسکور کے مقابلہ میں بہت ہی کم ترقی ہوئی ہے جو بتاتا ہے کہ ہندوستان میں بھوک اور غذائیت کا حال کتنا برا ہے۔ اگر ہم ان اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو جو تفصیلات سامنے آتی ہیں وہ یہ ہیں کہ بھارت میں 21%بچیکم وزن کے ہیں۔ جنوبی ایشیائی ممالک میں لمبائی کے حساب سے بچوں کا وزن کا انتہائی برا حال ہے۔ اس کی بڑی وجہ خراب غذائیت کا کھانہ مانا جاتا ہے۔ ہندوستان میں اس پیمانہ میں سب سے زیادہ بچے آتے ہیں۔ دی ہندو اخبار کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے اس معاملے میں صرف جنگ زدہ سوڈان سے تھوڑا ہیٹھیک معاملہ ہے۔ دیگر دو پیمانوں میں 2000کے مقابلے میں کچھ حال تو ٹھیک ہوا ہے لیکن اس میں بھی کوئی نمایاں تیزی نہیں آئی ہے۔

واضح ہو کہ بھارت دنیا میں اناج پیدا کرنے والوں میں بہت بڑے ممالک میں سے ایک ہے لیکن اس کے باوجود بھارت میں 20فیصد آبادی رات کو بھوکے پیٹ سوتی ہے۔ وہیں کسان اپنے پر بڑھتے قرض اور کم ہوتی آمدنی کو لیکر سراپا احتجاج بن رہے ہیں۔ ساتھ ہی بھارت میں مستقل قدرتی آفات سے بھی پریشانی ہورہی ہے اور کھانے میں کمی آرہی ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!