Published From Aurangabad & Buldhana

طلبا لیڈر عمر خالد کا دعویٰ ’حملہ کرنے والا سدرشن نیوز ایڈیٹر کا قریبی‘

دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب کے باہر 13 اگست کو جے این یو طلبا لیڈرعمرخالد پر گولی چلائی گئی تھی جس میں وہ بچ گئے تھے۔ پولس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر بھاگتے ہوئے حملہ آور کی تصویر جاری کی تھی۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طلبا لیڈر عمر خالد پر راجدھانی کے انتہائی محفوظ مانے جانے والے پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب کانسٹی ٹیوشن کلب کے باہر پیر کے روز ہوئے حملے میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔ عمر خالد پر حملہ کرنے والا ایک مشہور ہندوتوادی نیوز چینل کے چیف ایڈیٹر کا قریبی بتایا جا رہا ہے۔ خود عمر خالد نے ٹوئٹ کر کے ایک حملہ آور کی تصویر جاری کی ہے جس میں وہ متنازعہ نیوز چینل ’سدرشن نیوز‘ کے چیف ایڈیٹر سریش چوہانکے کے ساتھ نظر آ رہا ہے۔ تصویر میں سریش چوہانکے مشتبہ حملہ آور اور ایک دیگر لڑکے کے ساتھ نظر آ رہے ہیں۔ عمر خالد نے فوٹو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ’’مجھ پر حملہ کرنے والا سدرشن نیوز کے چیف ایڈیٹر سریش چوہانکے کے ساتھ۔ آگے کچھ نہیں کہنا ہے۔‘‘

اس سے قبل 15 اگست کو ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا جس میں دو نوجوان عمر خالد پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے نظر آئے۔ ویڈیو میں نظر آ رہے دونوں نوجوانوں نے کہا کہ وہ خالد پر حملہ کر کے یومِ آزادی کے موقع پر لوگوں کو آزادی کا تحفہ دینا چاہتے تھے۔ چار منٹ کے اس ویڈیو میں نظر آ رہے دونوں نوجوانوں نے اپنا نام سرویش شاہ پور اور نوین دلال بتایا ہے۔ ویڈیو میں دونوں نے کہا کہ خالد پر حملے کی ذمہ داری ان کی ہے۔ مبینہ حملہ آوروں نے 17 اگست کو انقلابی کرتار سنگھ سرابھا کے گھر پر خود سپردگی کرنے کی بات کہی ہے۔

ویڈیو میں نظر آ رہے ایک شخص کا چہرہ حملے کے بعد سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر جاری مشتبہ کی تصویر سے میل کھاتا ہے۔ ساتھ ہی اس شخص کا چہرہ ’سدرشن نیوز‘ کے چیف ایڈیٹر کے ساتھ نظر آ رہے نوجوان سے بھی مل رہا ہے۔ بتا دیں کہ ’سدرشن نیوز‘ اپنے سخت ہندوتوادی اور مسلم مخالف نظریے کے لیے اکثر تنازعوں میں رہتا ہے۔ ایسے میں اس کے مدیر کے ساتھ قاتلانہ حملہ کے ملزم کی تصویر سامنے آنے سے چینل اور اس کے مالکوں پر سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔

واضح رہے کہ 13 اگست کو دہلی میں کانسٹی ٹیوشن کلب کے باہر جے این یو طالب علم عمر خالد پر ایک شخص نے حملہ کر انھیں نیچے زمین پر گرا دیا اور پستول نکال کر ان پر گولی چلانے کی کوشش کی۔ لیکن زبردست احتجاج اور ہنگامہ ہو جانے کی وجہ سے حملہ آور وہاں سے بھاگنے لگا۔ حملہ آور نے سڑک کے پار پہنچ کر پیچھا کر رہے لوگوں پر ایک گولی چلائی اور پستول وہیں چھوڑ کر بھاگ گیا۔ عمر خالد اپنے ساتھیوں کے ساتھ ’یونائٹیڈ اگینسٹ ہیٹ‘ کے ذریعہ منعقد ’خوف سے آزادی‘ نامی ایک پروگرام میں حصہ لینے کانسٹی ٹیوش کلب پہنچے تھے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!