Published From Aurangabad & Buldhana

طلاق معاملہ میں سلفی مسلک سب سے درست، بورڈ اہل حدیثوں سے رجوع کرے: مولانا وحیدالدین خان

ریزرویشن سے متعلق کہا کہ مسلمانوں کو اسکی ہرگزضرورت نہیں ہے

نئی دہلی:معروف اسلامی اسکالر اورملک وبیرون میں مقبول، امن کے سفیر تصور کئے جانے والے مولانا وحید الدین خان نے کہا کہ مسلمانوں کے لئے طلاق ثلاثہ کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ صرف کچھ فتووں کی بنیاد پر یہ معاملہ بگڑ گیاہے۔ طلاق کے معاملے میں سلفی مسلک سب سے بہتر ہے ۔مولانا وحید الدین خان نے بات نیوز 18سے کی گئی گفتگو میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ میں حنفی مسلک کے لوگوں کا غلبہ ہے۔ اگر اہلحدیثوں کا غلبہ ہوتا تو طلاق ثلاثہ کو لے کریہ نوبت ہی نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ میں تو خود یہی کہوں گا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو سلفی مسلک سے رجوع کرلینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اہلحدیث یا سلفی مسلک کے لوگ طلاق کے معاملے میں بہت صحیح ہیں۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ عمومی طور پرمیں حنفی مسلک کا ہوں، دیوبندی اسکول سے میرا تعلق رہا ہے، لیکن میں طلاق کے معاملے میں اہلحدیث کے مسلک کودرست اور صحیح مانتا ہوں۔ اگر ایک وقت میں تین طلاق دیا جائے تو اسے ایک ہی شمار کیاجانا چاہئے۔ کیونکہ تین طلاق کو غصے سے مہمول کرتے ہیں۔

مولانا وحید نے کہا کہ مسلمانوں کی حب الوطنی کو لے کر کسی کو کوئی شک نہیں ہے۔ جو لوگ بھی اس طرح کی بات کرتے ہیں، وہ افواہیں اڑاتے ہیں۔

مسلم ریزرویشن سے متعلق ان سے سوال پر انہوں نے کہا ہے کہ مسلمانوں کو ریزرویشن کی ضرورت ہرگز نہیں ہے۔ اگر مسلمانوں کو ریزرویشن دے دیا جائے، تو پھران کے اندر سے عمل کا شوق ختم ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ مسلمان حاشیے پر ہرگز نہیں ہیں بلکہ وہ ترقی کررہے ہیں اوران کا معیار آج ہراعتبار سے اچھا ہے۔ مسلمانوں کے پاس دیکھئے آج ان کے بچے زیادہ اچھے اسکولوں میں پڑھتے ہیں، اچھی جگہوں پر رہتے ہیں۔ یہ باتیں میں صرف ہوا میں نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ یہ میرا سروے ہے۔ اس سروے کی بنیاد پر پر میں یہ بات کہہ رہا ہوں۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!