Published From Aurangabad & Buldhana

طلاق آرڈیننس : ہمارے کرنے کے کام

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

آج بالآخر ہندوستانی حکومت کی یونین کیبنٹ نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں اس آرڈیننس کو منظوری دے دی جس میں 3 طلاق کو قابلِ تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے اور اس پر 3 برس کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا ہے جب حکومت 3 طلاق بل 2017 کو راجیہ سبھا میں منظور نہیں کراپائی ہے۔ وزیر قانون جناب روی پرشاد شنکر نے کابینہ کی میٹنگ کے بعد میڈیا کے سامنے فیصلے کی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ راجیہ سبھا سے منظوری نہ ملنے کے بعد یہ آرڈیننس لانا بہت ضروری تھا۔ اس کا کسی عقیدہ، طریقۂ عبادت یا مذھب سے تعلق نہیں ہے، بلکہ یہ صنفی عدل، عورتوں کے تشخص اور مردوں اور عورتوں کے درمیان مساوات کا کیس ہے۔

یہ قانون کہتا ہے کہ اگر کوئی 3 طلاق دے گا تو طلاق واقع نہیں ہوگی، ایک بھی نہیں، لیکن اس کی سزا کے طور پر اسے 3 برس جیل میں رہنا ہوگا اور اس عرصے میں اسے بیوی بچوں کا گزارہ بھی دینا ہوگا۔ شاید یہ دنیا کا واحد قانون ہے جس میں کسی عمل کا کوئی اثر نہ ہو، لیکن اس عمل کو انجام دینے والے کو اس کی سزا بھگتنی پڑے۔

ملک کا دستور اپنے ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کی آزادی دیتا ہے، لیکن ملک کو چلانے والے ملک کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد پر ایک ایسا قانون تھوپ رہے ہیں جو ان کے مذہبی قوانین سے ٹکراتا ہے۔ اسلام کے عائلی قوانین میں یہ بات متفقہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے تو وہ نافذ ہوگی۔ اختلاف صرف اس بات میں ہے کہ کوئی شخص بہ یک وقت 3 طلاق دے تو وہ 3 مانی جائیں گی یا ایک۔ مسلمانوں کے تمام فرقوں اور گروہوں میں سے کوئی نہیں کہتا کہ ایک بھی طلاق نہیں ہوگی۔ پھر مسلمانوں پر ایسا قانون تھوپنے کی ضرورت کیا ہے؟

وزیر قانون کہتے ہیں کہ ایسا صنفی عدل، تشخص اور مساوات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ مسلمان عورتیں ظلم کا شکار ہیں۔ اس قانون کے ذریعے انھیں ظلم سے نجات دلانا مقصود ہے، حالاں کہ یہ کھلی حقیقت ہے کہ ایسا آنے والے الیکشن میں ہندو مسلم فرقہ واریت کو بڑھاوا دینے کی غرض سے کیا گیا ہے۔ اس سے مسلمانوں میں اختلافات کو ابھارنا اور انھیں آپس میں لڑانا مقصود ہے۔ منصوبہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے کچھ گروہ اس قانون کے خلاف سڑکوں پر اتریں، احتجاج کریں اور حکومت کے خلاف برہمی کا اظہار کریں تو اس کے ذریعے ہندوؤں کو متحد کرنے اور ان کے ووٹ سمیٹنے کی کوشش کی جائے۔

مسلمانوں کے سربرآوردہ لوگوں، ان میں سیاسی اور سماجی بیداری لانے کی کوشش کرنے والوں اور مسلم جماعتوں اور تنظیموں کے سربراہوں کو اس صورت حال میں بہت دانش مندی کا ثبوت دینا ہوگا۔ انھیں بہت دانائی کے ساتھ ایسی منصوبہ بندی کرنی ہوگی کہ مسلمانوں کے بدخواہ اپنی سازشوں میں ناکام ہوں اور ان کے مذموم منصوبے کام یاب نہ ہونے پائیں۔ ان کی منصوبہ بندی درج ذیل نکات پر مبنی ہونی چاہیے :

(1) اس قانون کے خلاف جلوس، احتجاج اور مظاہرے ہرگز نہ کیے جائیں اور مسلم مردوں اور عورتوں کو سڑکوں پر لانے کی قطعاً کوشش نہ کی جائے۔

(2) اس کا مطلب یہ نہیں کہ بالکل خاموشی اختیار کرلی جائے، بلکہ پُرامن ذرائع اختیار کرکے اس کی نامعقولیت واضح کرنے کی کوشش کی جائے۔

(3) کوشش کی جائے گی کہ اس موضوع پر ٹی وی چینلوں پر ڈبیٹ کروائے جائیں اور کچھ مسلم خواتین کو مظلوم دکھا کر ان کے ذریعے مسلمان مردوں کے ظلم کی داستانیں پھیلائی جائیں۔ اس طرح اس قانون کی افادیت ثابت کی جائے۔ اس صورت حال میں اسلام کی نمائندگی کرنے والے سنجیدہ علماء اور دانش وروں کو تمام ٹی وی چینلوں کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔

(4) اس کا یہ مطلب نہیں کہ ملک کے عوام کو اسلام کے نظامِ طلاق کو سمجھانے کی کوئی کوشش نہ کی جائے، بلکہ اس سلسلے میں مذاکرے اور سمینار منعقد کیے جائیں، جن کے ذریعے اسلام کے عائلی قوانین کو عقلی طور پر انسانیت دوست اور عادلانہ ثابت کیا جائے اور ان کی ریکارڈنگ کرکے اسے عام کرنے کی کوشش کی جائے۔

(5) بہت سے مسائل اسلامی تعلیمات پر مسلمانوں کے عمل نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس بنا پر مسلم عوام کی تربیت کی سخت ضرورت ہے۔ انھیں اللہ اور رسول کی اطاعت کرنے اور ان کے احکام پر چلنے کی ترغیب دی جائے اور واضح کیا جائے کہ محض نام کا مسلمان ہونا کافی نہیں ہے، بلکہ اپنے کو مسلمان ثابت کرنے کے لیے اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اس کے لیے بستی بستی اصلاح معاشرہ کے جلسے کیے جائیں، ساتھ ہی اسلام کی عائلی تعلیمات کا عملی نمونہ بھی پیش کیا جائے۔

(6) یہ حقیقت ہے کہ بعض مسلمان مردوں کی طرف سے عورتوں پر ظلم ہوتا ہے۔ ایسی عورتوں کی داد رسی کی جائے اور سماج میں ایسا شعور پیدا کیا جائے کہ کسی عورت پر ظلم ہو تو لوگ اس کی حمایت میں کھڑے ہوں اور اسے انصاف دلانے کے لیے آگے آئیں۔

(7) ایسی تدابیر اختیار کی جائیں کہ مسلمانوں کے درمیان اگر عائلی تنازعات سر ابھاریں تو انھیں حل کرانے کے لئے فریقین کو ملکی عدالتوں سے رجوع نہ ہونا پڑے، بلکہ شرعی پنچایتوں اور دار القضاء کے ذریعے انھیں حل کرایا جائے۔ دیکھا گیا ہے کہ شرعی پنچایتوں کے نہ ہونے یا ان سے انصاف نہ ملنے کی صورت میں ہی کوئی فریق ملکی عدالت میں اپنا کیس دائر کرتا ہے۔

(8) سماج میں بعض مسلمان ایسی حرکتیں کرتے ہیں جن سے اسلام بدنام ہوتا ہے اور مسلمان عورتوں کی مظلومیت نمایاں ہوتی ہے۔ مسلمانوں کے پاس کوئی قوتِ نافذہ نہیں ہے جس سے وہ ایسے مسلمانوں کی سرزنش کر سکیں۔ ایسی صورت میں وہ ایسے ناہنجاروں کا سماجی بائیکاٹ کرکے ان پر دباؤ بنا سکتے ہیں اور انھیں قابو میں کر سکتے ہیں۔

(9) مسلمانوں کے بدخواہوں کا منصوبہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو خوب ہوا دی جائے اور ان کے مختلف گروہوں کو لڑایا جائے۔ ہمیں اتحاد و اتفاق کے پہلوؤں کو نمایاں کرکے ان کے منصوبوں کو ناکام کرنا ہوگا۔

(10) آنے والے انتخابات ملک کے لیے بہت اہم ہیں۔ مسلمانوں کے لیے بھی ان کی اہمیت کم نہیں ہے۔ مسلمانوں کی تمام تنظیموں کو اس سلسلے میں ابھی سے منصوبہ بندی کرنی چاہیے اور ایسی پلاننگ کرنی چاہیے کہ ان کے ووٹ نہ بٹیں اور ان کی سیاسی قوت ضائع نہ ہو۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!