Published From Aurangabad & Buldhana

طلاقِ ثلاثہ پر قانون مسئلہ کے حل کی کوشش یا …؟

طلاقِ ثلاثہ پر قانون سازی کے ذریعہ اسے قابلِ تعزیر جرم قرار دینے کا معاملہ بادی النظر میں جتنا سہل نظر آتاہے حقیقتاََ اتنا ہی دشوار اور پیچیدہ ہے ۔ مرکز کی بی جے پی حکومت کا یہ فیصلہ مسئلہ کے حل کی کوشش نہیں بلکہ مسائل پیدا کرنے کے مترادف ہے ۔ حکومت کے فیصلہ کے بعد سے ہی بیشتر ماہرین قانون اور تجزیہ نگاروں کا یہ سوال بالکل درست ہے کہ بغیرکسی جرم کے سزا کس بنیاد پر دی جائے گی ؟ انڈین پینل کوڈ کے مطابق سزا کیلئے کسی جرم کا ہونا ضروری ہے ۔ مرکزی حکومت طلاقِ ثلاثہ کو جرم تسلیم کرتے ہوئے طلاق دینے والے کو سزا دے گی ۔ سپریم کورٹ کی آئینی بنچ اپنے فیصلہ میں واضح طور پر طلاقِ ثلاثہ کو غیرشرعی و غیرآئینی قرار دے چکی ہے ۔ سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک نشست میں تین طلاق دیتاہے تو ازروئے شریعت طلاق واقع ہوجائے گی علمائے احناف کا اسی پر اتفاق ہے حالانکہ طلاق کا یہ طریقہ احسن نہیں ہے مگر ایک مجلس کی تین طلاق کے بعد ازدواجی رشتہ منقطع ہوجاتا ہے ۔ اگر ایک مجلس کی تین طلاق سے ازدواجی رشتہ منقطع ہوجاتا ہے تو یہ متاثرہ خاتون کے ساتھ ناانصافی و زیادتی میں شمار ہوگا اور اسے جرم بھی کہا جاسکتاہے ۔ اگر جرم سرزد ہوجائے تو سزا بھی واجب ہے ۔ اب آئینی بنچ یہ فیصلہ صادر کرچکی ہے کہ کسی شخص کے ایک مجلس میں تین طلاق دینے کے باوجود طلاق واقع نہیں ہوگی تو واضح ہوجاتاہے کہ محض تین طلاق کہنے کے باوجود کوئی خاتون متاثر نہیں ہورہی ہے ، کسی کے ساتھ زیادتی و ناانصافی نہیں ہورہی ہے ، کسی پر ظلم نہیں ہورہاہے کہ طلاق دینے کے باوجود مطلقہ اس کی زوجیت میں برقرار ہے اور اس کے نان و نفقہ کی پوری ذمہ داری شوہر کی ہے تو یہ سوال اہم ہے کہ کیا سپریم کورٹ اور حکومت کے فیصلے متصادم نہیں ؟ یہ واضح تضاد ہے ۔
مرکزی کابینہ کے ذریعہ طلاقِ ثلاثہ پر قانونی مسودہ کی منظوری کے بعد ہم نے اسی کالم میں یہ سوال کیا تھا کہ حکومت آخر کس بنیاد پر سزا دے گی ؟ یہی سوال اب آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بھی کیا ہے ؟ اتوار کے دن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا ہنگامی اجلاس ہوا ۔ اس اجلاس میں طلاقِ ثلاثہ پر مجوزہ قانون کے مسودہ کا باریک بینی کے ساتھ جائزہ لیا گیا ۔ اس کے تباہ کُن اثرات و نتائج پر غور و خوص کیا گیا ۔ بورڈ کے ترجمان مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے اجلاس کی رودادسے واقف کرواتے ہوئے کہاکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ حکومت کے اس فیصلہ کو شریعت میں مداخلت تصور کرتاہے ۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ یہ اعتراف کیا کہ ایک مجلس کی تین طلاق کا طریقہ غلط ضرور ہے یہ ایک معاشرتی برائی ہے لیکن اس کے خاتمہ کیلئے قانون کی ضرورت نہیں ۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کو اصلاح کا موقع دیاجائے ۔ حکومت اس میں مداخلت نہ کرے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مجوزہ مسودہ قانون کی خامیوں اور نقائص پر اعتراض کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مذکورہ بِل پارلیمنٹ میں پیش نہ کرے بلکہ اس موضوع پر مسلم پرسنل لاء بورڈ اور مسلم قیادت کے ساتھ صلاح و مشورہ کیاجائے تاکہ کوئی مؤثر راہ تلاش کی جاسکے ۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مجوزہ بِل کی سب سے خامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بِل میں طلاقِ ثلاثہ کی جو تعریف بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ’ کسی شخص کے ذریعہ اپنی بیوی سے طلاق کا اظہار لفظوں میں ،زبانی ، تحریری ، الیکٹرانک شکل میں یا کسی اور شکل میں ‘طلاقِ ثلاثہ کی یہ تعریف یا تشریح ایسی ہے جس کی بنیاد پر طلاق کے تمام طریقے زد میں آجائیں گے ۔ اس زمرہ میں طلاقِ بائن بھی آسکتی ہے ۔ اسی طرح ایک اور زبردست خامی یہ ہے کہ طلاق ثلاثہ کے باوجود کوئی خاتون اپنے شوہر کے خلاف شکایت نہیں درج کرواتی ، اگر اس کے پڑوسی یا کسی رشتہ دار نے بھی پولس سے شکایت کردی تو طلاق دینے والے شخص کو گرفتار کرلیا جائے گا ۔ یہ ایک ایسی شِق ہے جو باہمی رقابت و دشمنی کا انتقام لینے والوں کیلئے ایک حربہ ثابت ہوگی ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اسی لئے مجوزہ مسودہ کو آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کا اعلان کیا ہے ۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کا یہ جواز بھی بالکل حق بجانب اور درست ہے کہ طلاق دینے والے شخص کو اگر ۳ برسوں کیلئے جیل بھیج دیا گیا تو اس کے اہلخانہ کی کفالت کس کی ذمہ داری ہوگی ؟ کیا متاثرہ خاتون اور اس کے عیال معاشی مسائل کے شکار نہیں ہوں گے ؟ ان کی دیکھ بھال اور تحفظ کون کرے گا ؟ یہ کسی مسلم مطلقہ قانون کے ساتھ ہمدردی و بہی خواہی ہوگی یا ظلم و زیادتی ! طلاقِ ثلاثہ کے بہانے مسلم خواتین کی خیرخواہی کی دعویدار حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی طلاقِ ثلاثہ پر قانون سازی کے ذریعہ مسلم خواتین کے ساتھ بھلائی کررہی ہے یا ان پر مزید ظلم کررہی ہے ؟ کیا اس فیصلہ سے معاشرتی مسائل میں اضافہ نہیں ہوگا ؟ درحقیقت مرکز کی بی جے پی حکومت طلاقِ ثلاثہ کے بہانے شریعت میں مداخلت کے اپنے ایجنڈہ کی سمت پیشرفت کررہی ہے ۔ اگر حکمراں بی جے پی کو مسلم خواتین سے اتنی ہی ہمدردی اور مسلم خواتین کے تحفظ کا خیال ہے تو وہ پرسنل لاء بورڈ اور مسلم قیادت سے صلاح و مشورہ کے بعد ایسا بِل تیار کرے جس سے واقعی مسلم خواتین کا تحفظ ہوسکے ، ساتھ ہی یہ شریعت اسلامی اور آئینِ ہند سے مطابقت رکھتا ہو ۔ اربابِ اقتدارکو یہ ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ ملک کا سب سے بڑا اقلیتی طبقہ ایسا کوئی بِل یا ایسا کوئی قانون تسلیم نہیں کرے گی تو شریعت اور آئین مخالف ہو ۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!