Published From Aurangabad & Buldhana

صحیح تصور دین، صالح کرداراور منظم تحریک غلبہ دین کی ضرورت بھی اور تقاضہ بھی: مجتبیٰ فاروق

SIOتلنگانہ کی ریاستی کانفرنس سے ملک و ریاست کے معروف اسکالرز نے کیا خطاب ۔

حیدراآباد: صحیح تصور دین، صالح کرداراور منظم تحریک غلبہ دین کی ضرورت بھی اور تقاضہ بھی ہے ۔امت کا وجود اس کے دین کی اساس پر ہے، اگر امت کے نوجوانوں میں شعور، تربیت اور تنظیم آجائے تو کامیابی لازمی ہوگی اور یہی سب کے رہنماء ہونگے۔اس طرح کی گفتگو سیکریٹری جنرل آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت و رکن مرکزی مجلس شوریٰ جماعت اسلامی ہند مجتبیٰ فاروق نے اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا تلنگانہ کی جانب سے حیدرآباد میں منعقدہ یک روزہ ریاستی کانفرنس میں کی ۔وہ یک روزہ کانفرنس کے عوامی سیشن سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوتوا طاقتیں اس وقت کا الیکشن جیتنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے، جس کا وہ کئی مرتبہ اظہار کرچکی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایس آئی او کی کانفرنس کا عنوان "حال سے سوال ۔ مستقبل کی تعبیر” پہلی مرتبہ نہیں ہے۔

بلکہ یہ اپنے وجود کے آغاز سے ہی اس کا اظہار کر چکی ہے۔ آج نوجوانوں کو ظاہری مسائل میں الجھنے کے بجائے اصل مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اسلئے کہ موجودہ اقتدار میں بیٹھے لوگ خود اپنے ساتھ والوں کی ناراضگی کا شکار ہیں اور ان کے عتاب سے بچنے کے لئے مستقل حکومت میں رہنے کے لئے وہ کچھ بھی کرنے تیار ہیں۔ مودی حکومت نے عوام سے جو وعدے کئے تھے اس میں وہ مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اس کا وہ چہرہ جو بحیثیت چیف منسٹر گجرات تھا وہ کھل کر سامنے آچکا ہے،اس کو چھپانے کے لئے وہ مختلف ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ نوڑ بندی مودی کا ایک کرائم ہے اور مودی ایک مجرم ہے۔


سید سعادت اللہ حسینی (نائب امیر جماعت اسلامی ہند) نے ولولہ انگیز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا مستقبل آپ نوجوانوں ہاتھوں میں ہے، آپ مے ساتھ رہنے والے کلاس کے ساتھیوں کی فکر کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، جب ہم اس کام میں کامیاب ہوجائیں گے تب ہم معاشرے کی تشکیل نو میں کامیاب ہوجائیں گے۔

اس کے بعد سہیل کے کے (ڈائریکٹر Quill فاؤنڈیشن و سابق صدر تنظیم ایس آئی او) نے کہا کہ اس وقت میڈیا خبروں کے سچ اور جھوٹ کو اس طرح ملا رہی ہے کہ حقیقت کا اندازہ لگانا مشکل ہے، قاتل اور مقتول میں فرق کرنا بھی مشکل بنادیا گیا ہے۔ انکے علاوہ کانفرنس سے مہارشٹر کے سابق جسٹس کولسے پاٹل، نجیب کی والدہ فاطمہ نفیس، عمر خالد، روہت ویمولہ کی والدہ رادھیکا ویمولہ ،SIOتلنگانہ کے صدر لئیق احمد و دیگر نے خطاب کیا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!