Published From Aurangabad & Buldhana

شیعہ وقف بورڈ چیئرمین وسیم رضوی نے شری شری کے فارمولہ کو کیا خارج ، کہا : لکھنو میں ہی بنے مسجد امن

لکھنو : شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی نے ہفتہ کو ایک پریس ریلیز جاری کرکے کہا ہے کہ شری شری روی شنکر کا جو فارمولہ میڈیا کے توسط سے سامنے آیا ہے ، اسے شیعہ وقف بورڈ پوری طرح سے خارج کرتا ہے ۔ شیعہ وقف بورڈ نے جو فیصلہ کیا ہے کہ مسجد امن اجودھیا کی بجائے لکھنو میں بنائی جائے ، اس پر ہی وہ بضد ہے۔
وسیم رضوی کے مطابق شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کا فیصلہ صاف ہے کہ وہاں سے بابری مسجد ہٹائی جانی چاہئے اور 14 کوسی پریکرما کے اندر کوئی مسجد کی تعمیر نہیں ہونی چاہئے ۔ خیال رہے کہ کچھ مہینے پہلے شیعہ سینٹرل وقف بورڈ چیئرمین نے کہا تھا کہ بابری مسجد کا نام مسجد امن ہوگا اور اسے اجودھیا سے ہٹاکر لکھنو لایا جائے گا تاکہ ہندو اور مسلمانوں کے درمیان کسی طرح کا کوئی اختلاف نہ ہو۔

قابل ذکر ہے کہ شیعہ وقف بورڈ چیئرمین حسین آباد کے گھنٹہ گھر کے سامنےخالی پڑی جس زمین پر مسجد بنائے جانے کی بات کہہ رہے ہیں ، اس پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر مولانا کلب صادق لڑکیوں کیلئے ڈگری کالج بنوانا چاہتے ہیں اور اس کیلئے باقاعدہ اس وقت کے وزیر اعلی ملائم سنگھ یادو نے اپنی رضامندی بھی دے رکھی ہے ۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!