Published From Aurangabad & Buldhana

شہریت ترمیمی بل پر جنتا دل یو میں ’شگاف‘، دو سرکردہ لیڈران بل کے خلاف

لوک سبھا میں شہریت ترمیمی بل کی حمایت کر کے جنتا دل یو نے کئی لوگوں کو حیرات میں ڈال دیا۔ جنتا دل یو کے اس فیصلے سے نہ صرف عام لوگ بلکہ پارٹی کے کئی اہم لیڈران بھی مایوس ہیں۔ پارٹی کے قومی نائب صدر پرشانت کشور نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل لوگوں سے مذہب کی بنیاد پر تفریق کرتا ہے۔ دیر رات لوک سبھا میں بل پر ووٹنگ ہونے کے بعد جب وہ پاس ہو گیا تب پرشانت کشور نے ٹوئٹ کیا کہ بل پارٹی کے آئین سے میل نہیں کھاتا۔

پرشانت کشور نے ٹوئٹ کر کے لکھا ہے کہ ’’جنتا دل یو کے ذریعہ شہریت ترمیمی بل کو حمایت دینے سے مایوسی ہوئی۔ یہ بل شہریت کے حق سے مذہب کی بنیاد پر تفریق کرتا ہے۔ یہ پارٹی کے آئین سے میل نہیں کھاتا ہے جس میں سیکولرزم لفظ پہلے صفحہ پر تین مرتبہ لکھا ہوا ہے۔ پارٹی کی قیادت گاندھی کے اصولوں کو ماننے والا ہے۔‘‘

پرشانت کشور کے بعد جنتا دل یو کے ایک دیگر اہم لیڈر پون ورما نے بھی اس بل کی مخالفت میں آواز بلند کر دی ہے اور نتیش کمار سے فیصلے پر از سر نو غور کرنے کے لیے کہا ہے۔ جنتا دل یو ترجمان پون کمار نے منگل کو اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’میں نتیش کمار سے اپیل کرتا ہوں کہ راجیہ سبھا میں شہریت ترمیمی بل (سی اے بی) پر حمایت سے متعلق دوبارہ غور کریں۔ یہ بل پوری طرح سے غیر آئینی ہے اور ملک کے اتحاد کے خلاف ہے۔ یہ بل جنتا دل یو کے بنیادی اصولوں کے بھی خلاف ہے، گاندھی جی اس کی پوری طرح سے مخالفت کرتے۔‘‘

حالانکہ پارٹی کے ذریعہ بل کی حمایت میں دلیلیں پیش کی گئی تھیں۔ بل پر بحث مین حصہ لیتے ہوئے لوک سبھا میں جنتا دل یو کے لیڈر راجیو رنجن عرف للن سنگھ نے کہا کہ جنتا دل یو بل کی حمایت اس لیے کر رہی ہے کیونکہ یہ سیکولرزم کے خلاف نہیں ہے۔ راجیو رنجن سنگھ نے کہا کہ ایوان میں کچھ لوگ اپنے اپنے حساب سے سیکولرزم کی تعریف بیان کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ بل کسی بھی طرح سے سیکولرزم کے خلاف نہیں ہے۔ راجیو رنجن نے یہ بھی کہا کہ اس بل سے متعلق شمال مشرق کے لوگوں کو کچھ اندیشے تھے، لیکن اب ان اندیشوں کو بھی دور کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’جو لوگ اتنے وقت سے انصاف کی امید لگائے ہوئے تھے، انھیں یہ بڑی راحت فراہم کرے گا۔‘‘

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!