Published From Aurangabad & Buldhana

شریعہ عدالت کی طرز پر ہندو کورٹ : ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے 17 ستمبر تک طلب کیا جواب

کانپور کے انکت سنگھ نے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کر کے ہندو کورٹ کی تشکیل کو چیلنج کیا ہے۔

شریعہ عدالت کی طرز پر ہندو کورٹ تشکیل دینے کے معاملے میں منگل کو الہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ اس دوران ریاستی حکومت کی جانب سے جواب داخل کرنے کیلئے کورٹ سے تھوڑا اور وقت کا مطالبہ کیا گیا۔ جس پر ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو 17 ستمبر تک جواب داخل کرنے کی مہلت دی۔ بتا دیں کہ اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا کے اعلان کے خلاف کانپور کے انکت کمار سنگھ نے یہ عرضی داخل کی ہے۔ عرضی پر اگلی سماعت اب 17 ستمبر کو ہوگی۔

معاملے میں کورٹ نے ہندو مہاسبھا کے سکریٹری اور میرٹھ کے ضلع صدر سمیت ریاستی حکومت اور دوسرے اپوزیشن سے جواب طلب کیا تھا۔ معاملے کی اگلی سنوائی 11 ستمبر تھی۔ چیف جسٹس ڈی بی بھوسلے اور یشونت ورما کی بینچ نے یہ حکم دیا۔ عدالت نے اس معاملے میں ڈی ایم میرٹھ اور ہندو کورٹ میں تعینات جج ڈاکٹر پوجا شکن پانڈے کو فریق بنانے کا حکم دیتے ہوئے دونوں کو نوٹس جاری کیا ہے۔

در اصل کانپور کے انکت سنگھ نے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کر کے ہندو کورٹ کی تشکیل کو چیلنج کیا ہے۔ عرضی میں اخبارات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ہندو تنظیموں نے مغربی اتر پردیش کے کچھ اضلاع میں ہندوکورٹ کی تشکیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالتوں پر مقدمات کا بہت بوجھ ہے اور لوگوں کو وقت سے انصاف نہیں مل پا رہا ہے۔ اسی کو دھیان میں رکھتے ہوئے شریعہ کورٹ کی طرز پر ہندو کورٹ کی تشکیل کی گئی ہے۔ یہی نہیں، اس کورٹ میں پہلی جسٹس ڈاکٹر پوجا شکن پانڈے کو بنایا گیا ہے۔

عدالت کے مطابق اس معاملے میں کسی کو فریق نہیں بنایا گیا ہے۔ لہذا ڈی ایم اور ہندو کورٹ میں تعینات ڈاکٹر پوجا شکن کو اس میں فریق بناتے ہوئے انہیں نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی معاملے میں یوپی حکومت سے مکمل جانکاری بھی طلب کی گئی ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!