Published From Aurangabad & Buldhana

شاہین باغ کے مظاہرین اب خود سپریم کورٹ میں پیش کریں گے اپنا موقف ، انس تنویر صدیقی کو بنایا وکیل

نئی دہلی : شاہین باغ کے مظاہرین کے ذریعہ کالندی کنج روڈ بند کیے جانے کو لے کر سپریم کورٹ میں سماعت 17 فروری کو ہونے جارہی ہے ۔ اسی کے پیش نظر شاہین باغ کے لوگوں نے اپنا معاملہ سپریم کورٹ میں پیش کرنے اور اور قانونی طور پر فریق بننے کا فیصلہ کیا ہے ۔ شاہین باغ کے لوگ باضابطہ طور پر سپریم کورٹ میں اپنا وکیل کھڑا کریں گے ۔ وکیل کے طور پرایڈووکیٹ انس تنویر صدیقی شاہین باغ کے لوگوں کا موقف عدالت کے سامنے رکھیں گے۔

نیوز 18 سے گفتگو کرتے ہوئے رضاکار سونو وارثی نے کہا کہ شاہین باغ کی نمائندگی کرنے کا دعوی سپریم کورٹ سے کیا جارہا ہے ، لہذا کنفیوزن دور کرنے کیلئے شاہین باغ کے لوگ پارٹی بنیں گے ۔ سونو وارثی نے کہا کہ صرف نصف کلومیٹر کا علاقہ احتجاج کی وجہ سے بند ہے جبکہ باقی تمام علاقے دہلی پولیس نے بند کر رکھے ہیں ۔ غور طلب ہے کہ مشہور وکیل محمود پراچہ نے سپریم کورٹ میں شاہین باغ کی نمائندگی کرنے کا دعوی کیا تھا ، لیکن شاہین باغ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ محمود پراچہ ان کے نمائندے نہیں ہیں۔

امت شاہ سے ملاقات پر بھی غور
ادھر شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کر رہے لوگوں کو ملاقات کیلئے وقت دئے جانے اور کسی بھی طرح کی وضاحت کیلئے دروازہ کھلے ہونے کو لے کر وزیرداخلہ امت شاہ کے ذریعہ آئے بیان پر مظاہرین نے واضح کر دیا ہے کہ وہ حکومت سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں ۔ احتجاج میں شامل محمد آصف نے نیوز 18 سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سرکار کی طرف سے گفتگو کا آغاز ہونا چاہئے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس مسئلہ کا حل مذاکرات کے ذریعہ نکالا جائے ۔ وزیرداخلہ امت شاہ دہلی میں لوگوں کے گھر جا سکتے ہیں ، تو پھر شاہین باغ بھی ان کو آنا چاہئے ۔ وہیں ذرائع کے حوالے سے یہ خبر بھی سامنے آرہی ہے کہ شاہین باغ کے لوگ وزیر داخلہ سے ملاقات کرسکتے ہیں ۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!