Published From Aurangabad & Buldhana

شاہین باغ کی دادیوں کی امت شاہ سے ملاقات 16فروری کو متوقع

نئی دہلی : ایک طرف شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف مظاہروں کی علامت بن چکے شاہین باغ مظاہرہ کو آج دو ماہ مکمل ہو گئے ہیں، اور دوسری طرف ایسی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ عالمی شہرت یافتہ اس مظاہرے کو ختم کرنے کے لیے سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ایسی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ 16 فروری یعنی اتوار کے روز شاہین باغ کی ’دادیاں‘ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کریں گی اور مظاہرہ کے آگے کے منصوبوں پر کچھ بات چیت ہوگی۔

’قومی آواز‘ سے بات چیت کرتے ہوئے شاہین باغ کے مقامی سماجی کارکن اور سیاسی لیڈر آشو خان نے بتایا کہ ’’شاہین باغ کی دادیوں کو امت شاہ سے ملاقات کرانے کی تیاری چل رہی ہے اور امید ہے کہ اتوار کی دوپہر میں تقریباً 2 بجے یہ ملاقات ہوگی۔‘‘ آشو خان نے مزید بتایا کہ اس ملاقات کی کوششیں پہلے سے چل رہی تھیں اور سب کچھ تقریباً طے ہو چکا ہے، پوری امید ہے کہ ملاقات اتوار کے روز ہوگی اور مظاہرہ سے متعلق کوئی نہ کوئی حل سامنے آئے گا۔

کئی الیکٹرانک میڈیا پر امت شاہ اور شاہین باغ کے مظاہرین کی ممکنہ ملاقات سے متعلق خبریں چل رہی ہیں اور کچھ نیوز چینل پر یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ امت شاہ نے خود شاہین باغ کے مظاہرین سے ملاقات کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ حالانکہ اس پورے معاملے پر تذبذب کا ماحول برقرار ہے اور شاہین باغ کے کچھ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ابھی تک سب کچھ فائنل نہیں ہوا ہے۔ سینئر کانگریس لیڈر اور سماجی کارکن آصف محمد خان نے ’قومی آواز‘ سے بات چیت کے دوران بتایا کہ ’’امت شاہ سے شاہین باغ کی دادیوں کی ملاقات فی الحال طے نہیں ہے اور ایسی خبریں بلاوجہ پھیلائی جا رہی ہیں۔‘‘

دراصل امت شاہ سے ملاقات کرنے اور نہ کرنے کو لے کر شاہین باغ کے مظاہرین دو حصوں میں منقسم نظر آ رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سیاسی لیڈران اپنی سیاست چمکانے کے لیے اپنے حامیوں کے ساتھ فیصلے لے لیتے ہیں اور حتمی فیصلہ مظاہرہ میں شامل سبھی لوگوں کے ساتھ میٹنگ کے بعد ہی لیا جائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دنوں شاہین باغ سے متعلق ایک پریس کانفرنس کیے جانے کی خبریں بھی خوب پھیلی تھیں، لیکن بعد میں یہ پریس کانفرنس کینسل ہو گئی تھی۔ پریس کانفرنس کینسل ہونے کی وجہ بھی یہی بتائی گئی تھی کہ کچھ لوگوں نے اپنی سیاست چمکانے کے لیے میڈیا والوں کو بلایا تھا، لیکن شاہین باغ مظاہرہ میں شامل خواتین اور مرد حضرات نے بالآخر کوئی بھی پریس کانفرنس کرنے سے منع کر دیا تھا۔

قومی آوازبیورو

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!