Published From Aurangabad & Buldhana

شادی کرنے کورٹ پہنچا عاشق جوڑا، لوجہاد کےجھوٹےالزام میں لوگوں نے تحصیل احاطے میں کی پٹائی

مدھیہ پردیش کے رہنے والے ایک مسلم نوجوان کی غازی آباد میں پیر کو جم کر پٹائی کی گئی۔ نوجوان کے ساتھ مارپیٹ کا ویڈیو بھی وائرل ہورہا ہے۔ دراصل مسلم نوجوان بجنور کی رہنے والی ایک ہندو لڑکی سے شادی کرنے کے لئے میرج رجسٹرار کے پاس پہنچا تھا۔

ابھی کورٹ میرج کا عمل چل ہی رہا تھا کہ اسی وقت کچھ نوجوان تحصیل احاطے میں گھس گئے اورنوجوان کو پیٹنا شروع کردیا۔ پٹائی کررہے نوجوانوں کا الزام تھا کہ مسلم نوجوان نے ہندو لڑکی کو بہلا پھسلا کراپنے جال میں پھنسا یا ہے اوراب اس سے شادی کرنے جارہا ہے۔

فی الحال ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس نے معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے نامعلوم لوگوں کے خلاف معاملہ درج کرلیا ہے۔ ایس پی شہر آکاش تومر کا کہنا ہے کہ لڑکا اورلڑکی دونوں ہی بالغ ہیں اوروہ اپنی مرضی سے شادی کررہے ہیں۔ جن لوگوں نے بھی ان کے ساتھ ایسا برتاو کیا ہے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ بجنور کی رہنے والی لڑکی اورمدھیہ پردیش کا لڑکا دونوں ہی نوئیڈا واقع ایک کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں۔ دونوں ہی بالغ ہیں۔ پیرکو دونوں تحصیل میں میرج (شادی) رجسٹرڈ کرانے پہنچے تھے۔ بس اسی دوران کہیں سے اس بات کی خبرمارپیٹ کرنے والوں کو لگ گئی، جس کے بعد وکیلوں سے بھری تحصیل میں شادی رجسٹریشن کرانے آئے نوجوان کو جم کر پیٹا گیا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!