Published From Aurangabad & Buldhana

’ سیراٹ فلم ‘ کے ہدایت کار و اداکارہ راج ٹھاکرے کی پارٹی میں شامل

پارٹی کی فلم ورکر یونین کے ممبر بنے، راج ٹھاکرے کو ملک کا ہمدرد اور صحیح رہنماء بتایا

ممبئی : مراٹھی زبان کی مشہور ہوئی فلم ‘ سیراٹ ‘ کے ہدایت کار ناگ راج منجولے اور اس فلم کے اہم فنکار رنکو راج گرو اور آکاش ٹھوسر راج ٹھاکرے کی پارٹی مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس ) کے فلم ورکر یونین میں شامل ہو گئے ہیں۔ یہ تینوں منگل کو ایم این ایس کے راج گڑ پارٹی دفتر پہنچے اور انہوں نے مہاراشٹر نونرمان چترپٹ کرمچاری سینا میں شامل ہونے کے لئے فارم بھرے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے ناگ راج منجولے نے بتایا کہ راج ٹھاکرے دوراندیش آدمی اور ملک کے ہمدرد رہنما ہیں، اس لئے وہ ان کے ساتھ ہیں۔ مہاراشٹر نونرمان چترپٹ کرمچاری سینا کے صدر امئے کھوپکر نے بتایا، ‘ کئی فنکار ہیں جو چترپٹ سینا کے ممبر بن رہے ہیں کیونکہ راج ٹھاکرے فلمی دنیا کے لئے جو کرنا چاہتے ہیں، اس نظریہ میں وہ اعتماد کرتے ہیں۔ ہم ہندی اور مراٹھی فلمی دنیا کے لئے کام کرتے ہیں اور وہ اس کی تعریف کرتے ہیں۔ ‘ کھوپکر نے کہا کہ فلم اداکار عرفان خان اور منجولے سمیت فلمی دنیا کے 200 سے زیادہ لوگ یونین کے ممبر ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا، ‘ اگر آپ شوٹنگ کے دوران کسی مسئلہ کا سامنا کرتے ہیں تو ہمارے لوگ یا یہاں تک کہ راج ٹھاکرے بھی ان کی مدد کرتے ہیں۔ فلمی دنیا میں ہمارا سب سے مضبوط سنیما ونگ ہے‘۔ واضح ہو کہ سال 2016 میں آئی فلم ‘ سیراٹ ‘ ایک دلت لڑکے کے اونچے لڑکی سے محبت کی کہانی ہے، جس کا خاتمہ آنر کلنگ سے ہوتا ہے۔ ریلیز کے بعد ہی یہ فلم بحث میں رہی۔ فلم نے 100 کروڑ روپے سے زیادہ کا کاروبار کیا تھا۔ مراٹھی کی کامیاب فلموں میں سے ایک اس فلم نے مراٹھی سنیما صنعت کو نئی سمت بھی دی۔ فلم کی ریلیز کے ساتھ ہی یہ دونوں فنکار اسٹار بن گئے تھے۔ سال 2017 میں انتخابی کمیشن نے شہریوں میں ووٹ دینے کی بیداری پھیلانے کے لئے ان دونوں فنکاروں کو اپنا برانڈ ایمبیسڈر بنایا تھا۔ فلم اتنی مشہور رہی کہ مختلف زبانوں میں اس کا ریمیک بھی بنایا گیا۔ ہندی میں دھڑک (2018)، بنگالی میں نور جہاں (2018)، کنڑ میں منسو ملنگے (2017) اور پنجابی میں چنا میریا (2017) نام سے فلمیں بنائی گئیں۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!