Published From Aurangabad & Buldhana

سہراب الدین انکاؤنٹر: بامبے ہائی کورٹ نے بری کئے گئے سبھی 22 لوگوں کو بھیجا نوٹس

نئی دہلی: بامبے ہائی کورٹ سہراب الدین شیخ کے بھائیوں کی اس اپیل پر سماعت کے لئے سوموار کو راضی ہو گیا جس میں گجرات اور راجستھان کے پولیس افسروں سمیت 22 لوگوں کو بری کئے جانے کے خصوصی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔جسٹس آئی اے مہنتی اور جسٹس اے ایم بدر کی عدالتی بنچ ان اپیلوں پر سماعت کو تیار ہو گئی اور بری کئے گئے لوگوں کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ بنچ بعد میں ان اپیلوں پر آخری سماعت کرے‌گی۔سہراب الدین کو 2005 میں مبینہ طور پر فرضی انکاؤنٹرمیں مارا گیا تھا۔ 2018 میں ایک خصوصی عدالت نے گجرات اور راجستھان کے پولیس افسروں سمیت 22 لوگوں کو اس معاملے میں بری کر دیا تھا۔

خصوصی سی بی آئی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ سہراب الدین اور دیگر-اس کی بیوی کوثر بی اور اس کے دوست تلسی پرجاپتی کو مارنے کے لئے کوئی سازش رچی گئی تھی اور ملزمین کا اس میں کوئی کردار تھا۔عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سہراب الدین اور دیگر مارے گئے ہیں۔سی بی آئی کے مطابق سہراب الدین اور کوثر بی نومبر 2005 میں گجرات اے ٹی ایس کے ذریعے الگ الگ مارے گئے تھے اور مبینہ طور پر فرضی انکاؤنٹر کا چشم دید گواہ ہونے کی وجہ سے پرجاپتی کو راجستھان اور گجرات پولیس نے 2006 میں مار دیا تھا۔

خصوصی عدالت کے فیصلے کو چیلنج دینے والی اپیل اس سال اپریل میں سہراب الدین کے بھائیوں-رباب الدین شیخ اور نیاب الدین شیخ نے دائر کی تھیں۔بری کئے گئے لوگوں میں سے گجرات اور راجستھان کے 21 پولیس افسر شامل ہیں۔ ایک دیگر شخص گجرات واقع اس فارم ہاؤس کا مالک ہے جہاں سہراب الدین اور کوثر بی کو مبینہ طور پر مارنے سے پہلے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا تھا۔

واضح ہو کہ، اس سے پہلے سہراب الدین شیخ کے بھائی رباب الدین شیخ نے اس سال جنوری میں وزارت داخلہ اور سی بی آئی سے گزارش کی تھی کہ معاملے میں تمام ملزمین کو بری کئے جانے کے نچلی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کریں۔ سہراب الدین کو مبینہ طور پر فرضی انکاؤنٹر میں مارا گیا تھا۔

کیا ہے معاملہ

2005 میں ہوئے اس مبینہ انکاؤنٹر معاملے میں 22 لوگ مقدمہ کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں زیادہ تر پولیس اہلکار ہیں۔اس معاملے پر خاص نگاہ رہی ہے کیونکہ بی جے پی صدر امت شاہ ملزمین میں شامل تھے۔ حالانکہ، ان کو سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے ذریعے 2014 میں بری کر دیا گیا تھا۔ شاہ ان واقعات کے وقت گجرات کے وزیر داخلہ تھے۔ مقدمہ کے دوران استغاثہ فریق کے قریب 92 گواہ مُکر گئے۔گزشتہ سال دسمبر مہینے کی شروعات میں آخری دلیلیں پوری کئے جانے کے بعد سی بی آئی معاملوں کے خصوصی جج ایس جے شرما نے کہا تھا کہ وہ 21 دسمبر کو فیصلہ سنائیں‌گے۔ زیادہ تر ملزم گجرات اور راجستھان کے پولیس افسر ہیں۔

عدالت نے سی بی آئی کے چارج شیٹ میں نامزد 38 لوگوں میں 16 کو ثبوت کے فقدان میں بری کر دیا ہے۔ ان میں امت شاہ، راجستھان کے اس وقت کے وزیر داخلہ گلاب چند کٹاریہ، گجرات پولیس کے سابق چیف پی سی پانڈے اور گجرات پولیس کے سابق سینئر افسر ڈی جی ونجارا شامل ہیں۔سی بی آئی کے مطابق دہشت گردوں سے مبینہ طور پرتعلق رکھنے والے سہراب الدین شیخ، اس کی بیوی کوثر بی اور اس کے معاون تلسی رام پرجاپتی کو گجرات پولیس نے ایک بس سے اس وقت اغوا کر لیا تھا، جب وہ لوگ 22 اور 23 نومبر 2005 کی درمیانی رات حیدر آباد سے مہاراشٹر کے سانگلی جا رہے تھے۔

سی بی آئی کے مطابق شیخ کا 26 نومبر 2005 کو احمد آباد کے پاس مبینہ فرضی انکاؤنٹر میں قتل کر دیا گیا۔ اس کی بیوی کو تین دن بعد مار ڈالا گیا۔سال بھر بعد 27 دسمبر 2006 کو پرجاپتی کا گجرات اور راجستھان پولیس نے گجرات-راجستھان سرحد کے پاس چاپری میں مبینہ فرضی تصادم میں گولی مار‌کر قتل کر دیا گیا تھا۔استغاثہ نے اس معاملے میں 210 گواہوں سے پوچھ تاچھ کی جن میں سے 92 مُکر گئے۔اس بیچ، دسمبر مہینے میں ہی استغاثہ کے دو گواہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ ان سے پھر سے پوچھ تاچھ کی جائے۔ ان میں سے ایک کا نام اعظم خان ہے اور وہ شیخ کا معاون تھا۔

اعظم خان نے اپنی عرضی میں دعویٰ کیا ہے کہ سہراب الدین شیخ پر مبینہ طور پر گولی چلانے والے ملزم اور سابق پولیس انسپکٹر عبدالرحمان نے اس کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے منھ کھولا تو اس کو جھوٹے معاملے میں پھنسا دیا جائے‌گا۔ایک دیگر گواہ ایک پٹرول پمپ کا مالک مہیندر جالا ہے۔ عدالت دونوں عرضی کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ یہ سماعت کے لائق نہیں ہے۔

بری کئے گئے سبھی 22 افراد

سہراب الدین شیخ، اس کی بیوی کوثر بی اور اس کے معاون تلسی رام پرجاپتی کا مبینہ فرضی انکاؤنٹر میں کیا گیا قتل کے معاملے میں سی بی آئی کی ایک خصوصی عدالت کے ذریعے بری کئے گئے 22 ملزمین کی فہرست ؛

عبدالرحمان: راجستھان میں اس وقت کے پولس انسپکٹر۔ سی بی آئی کے مطابق، وہ اس ٹیم کا حصہ تھا جس نے شیخ اور کوثر بی کو اغوا کیا۔ اس پر شیخ پر گولی چلانے کا بھی الزام تھا۔

نارائن سنگھ ڈابھی: گجرات اے ٹی ایس میں اس وقت کے انسپکٹر۔ ڈابھی پر شیخ کا مبینہ قتل کرنے والی ٹیم کا حصہ ہونے کا الزام تھا۔

مکیش کمار پرمار: گجرات اے ٹی ایس میں اس وقت کے ڈی ایس پی۔ پرمار پر شیخ کا مبینہ قتل کرنے والی ٹیم کا حصہ ہونے کا الزام تھا۔

ہمانشوسنگھ راجاوت: راجستھان پولیس میں اس وقت کے سب انسپکٹر۔ راجاوت پر شیخ کا مبینہ قتل کرنے والی ٹیم کا حصہ ہونے کا الزام تھا۔

شیام سنگھ چارن: راجستھان پولیس میں اس وقت کے سب انسپکٹر۔ شیخ پر مبینہ طور پر گولی چلانے کا ملزم۔

راجیندر جیراوالا: گجرات میں ایک فارم ہاؤس کا مالک۔ سی بی آئی کے مطابق، اس کو اس بات کی جانکاری تھی کہ شیخ اور کوثر بی کو رکھنے کے لئے پولیس اہلکاروں کے ذریعے اس کے فارم ہاؤس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس پر شیخ اور کوثر بی کو غیر قانونی طور پر گروی بنائے رکھنے میں مدد کرنے کا الزام تھا۔

آشیش پانڈیا: گجرات پولیس کے اس وقت کے سب انسپکٹر۔ اس پر تلسی رام پرجاپتی پر گولی چلانے کا الزام تھا۔

گھٹّامنینی ایس راؤ: آندھر اپردیش پولیس میں اس وقت کے سب انسپکٹر۔ اس پر شیخ اور کوثر بی کو آندھر اپردیش سے گجرات لے جانے کا الزام تھا۔

یدھ بیر سنگھ، کرتار سنگھ، نارائن سنگھ چوہان، جیٹھاسنگھ سولنکی، کانجی بھائی اچھی، ونودکمار لمبچھیا، کرن سنگھ چوہان اور کرن سنگھ سسودیا : سی بی آئی نے کہا کہ وہ پرجاپتی کے مبینہ قتل کرنے والی گجرات اور راجستھان پولیس کی مشترکہ ٹیم کا حصہ تھے۔

اجئے کمار پرمار اور سنت رام شرما : گجرات پولیس میں اس وقت کے کانسٹبل۔ ان پر شیخ اور اس کی بیوی کو گجرات لے جانے والی ٹیم کا حصہ ہونے کا الزام تھا۔

بال کرشن چوبے: گجرات اے ٹی ایس میں اس وقت کے انسپکٹر۔ سی بی آئی کے مطابق، وہ اس جگہ پر موجود تھا جہاں شیخ کا مبینہ قتل کیا گیا۔ سی بی آئی نے کہا کہ اس نے کوثر بی کی لاش کو ٹھکانے لگانے میں مدد کی۔

رمن بھائی کے پٹیل: گجرات سی آئی ڈی کے تفتیشی اہلکار۔ سی بی آئی نے اس پر شیخ تصادم معاملے میں ‘ غلط تفتیش ‘ کرنے کا الزام لگایا تھا۔

نریش وی چوہان: گجرات پولیس میں اس وقت کے سب انسپکٹر۔ سی بی آئی کے مطابق، وہ اس فارم ہاؤس میں موجود تھا جہاں کوثر بی کو رکھا گیا تھا۔جانچ ایجنسی کے مطابق، وہ اس جگہ بھی موجود تھا جہاں کوثر بی کی لاش ٹھکانے لگایا گیا۔

وجئےکمار راٹھوڑ: گجرات اے ٹی ایس میں اس وقت کے انسپکٹر۔ اس پر کوثر بی کی لاش ٹھکانے لگانے کی سازش کا حصہ ہونے کا الزام تھا۔

سہراب الدین انکاؤنٹر

22 نومبر 2005: حیدر آباد سے بس سے سانگلی لوٹنے کے دوران پولیس کی ایک ٹیم نے ان کو روک‌کر پوچھ تاچھ کی اور حراست میں لے لیا۔ شیخ اور اس کی بیوی کو ایک گاڑی میں رکھا گیا جبکہ پرجاپتی دوسری گاڑی میں۔

22 سے 25 نومبر 2005: شیخ اور کوثر بی کو احمد آباد کے پاس ایک فارم ہاؤس میں رکھا گیا۔ پرجاپتی کو ادےپور بھیجا گیا جہاں اس کو سماعت کے لئے ایک جیل میں رکھا گیا۔

26 نومبر 2005: گجرات اور راجستھان پولیس کی مشترکہ ٹیم نے مبینہ فرضی تصادم میں شیخ کو مار دیا۔

29 نومبر 2005: کوثر بی کو بھی پولیس نے مبینہ طور پر قتل کر دیا۔ اس کی لاش کو جلا دیا گیا۔

27 دسمبر 2006: راجستھان اور گجرات پولیس کی مشترکہ ٹیم پرجاپتی کو ادےپور سینٹرل جیل سے لےکے آئی اور گجرات-راجستھان سرحد پر سرحد چھپری کے پاس ایک تصادم میں مبینہ طور پر مار دیا۔

2005-2006 :شیخ فیملی نے تصادم معاملے میں تفتیش کے لئے عدالت عظمیٰ کا رخ کیا اور کوثر بی کا پتہ مانگا۔ عدالت نے ہدایت دی کہ گجرات ریاست سی آئی ڈی کو معاملے میں تفتیش شروع کرنے کی ہدایت دی۔

30 اپریل 2007: گجرات حکومت نے عدالت عظمیٰ میں رپورٹ پیش کر بتایا کہ کوثر بی کی موت ہو گئی ہے اور اس کی لاش کو جلا دیا گیا ہے۔

جنوری 2010: عدالت عظمیٰ نے معاملے کی تفتیش کا ذمہ سی بی آئی کو سونپا۔

23 جولائی 2010: سی بی آئی نے معاملے میں گجرات کے اس وقت کے وزیر داخلہ امت شاہ، راجستھان کے اس وقت کے وزیر داخلہ گلاب چند کٹاریہ اور سینئر آئی پی ایس افسروں سمیت 38 لوگوں کے خلاف چارج شیٹ دائر کیا۔

25 جولائی 2010: سی بی آئی نے معاملے میں امت شاہ کو گرفتار کیا۔

27 ستمبر 2012: عدالت عظمیٰ نے سہراب الدین شیخ-کوثر بی کے مبینہ تصادم معاملے میں سماعت گجرات سے ممبئی منتقل کیا اور سی بی آئی سے غیر جانبدارانہ تفتیش کرنے کو کہا۔

30 دسمبر 2014: ممبئی میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے معاملے سے امت شاہ کو بری کر دیا۔ اس کے بعد معاملے میں کٹاریہ اور سینئر آئی پی ایس افسروں سمیت 15 ملزمین کو بھی بری کر دیا گیا۔

نومبر 2015: شیخ کے بھائی رباب الدین نے معاملے میں امت شاہ کی رہائی کو چیلنج کرتے ہوئے ممبئی ہائی کورٹ کا رخ کیا۔ اسی مہینے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ معاملے میں سماعت آگے نہیں بڑھانا چاہتے اس لئے وہ اپنی عرضی واپس لینا چاہتے ہیں۔

اکتوبر 2017: ممبئی میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے 22 ملزمین کے خلاف الزام طے کئے۔

نومبر 2017: سی بی آئی کے خصوصی جج ایس جے شرما نے معاملے میں سماعت شروع کی۔ استغاثہ فریق نے 210 لوگوں کی گواہی لی جن میں سے 92 مُکر گئے۔

ستمبر 2018: ممبئی ہائی کورٹ نے سینئر پولیس افسروں ڈی جی ونجارا، راج کمار پانڈین، این کے امین، وپل اگروال، دنیش ایم این اور دلپت سنگھ راٹھوڑ کو بری رکھا۔

05 دسمبر 2018: عدالت نے استغاثہ فریق اور بچاؤ فریق کے وکیلوں کی طرف سے آخری دلیلیں پوری ہونے کے بعد 21 دسمبر 2018 کو فیصلے کے لئے معاملہ بند کر دیا۔

21 دسمبر 2018: استغاثہ فریق کے ذریعے ملزمین کے خلاف الزام طے کرنے میں ناکام رہنے پر عدالت نے معاملے میں سبھی 22 ملزمین کو بری کر دیا۔

UNI_BHASHA

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!