Published From Aurangabad & Buldhana

سپریم کورٹ کا فیصلہ: باہمی رضامندی سے ہم جنس پرستی جرم نہیں

سپریم کورٹ کی پانچ ججوں کی بینچ نے ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے سے باہر کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ کی پانچ ججوں کی بینچ نے ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے سے باہر کر دیا ہے۔ سیکشن 377 پر فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس دیپک مشرا نے کہا کہ سماجی اخلاقیات کی آڑ میں دوسروں کے حقوق کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا ہے کہ دو بالغ افراد کے درمیان باہمی رضامندی سے بنائے گئے تعلق کو جرم کے زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ اس معاملہ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس روهنگٹن ایف نریمن، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس اندو ملہوترا نے الگ -الگ لیکن رضامندی کا فیصلہ سنایا۔ یہ عرضیاں نوتیج جوهار اور دیگر نے دائر کی تھیں۔ ان درخواستوں میں دفعہ 377 کو چیلنج کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا کی صدارت والی پانچ ججوں کی آئینی بینچ نے ہم جنس پرستوں کے حقوق کے کارکنوں سمیت مختلف فریقوں کو سننے کے بعد 17 جولائی کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

دفعہ 377 پر فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس دیپک مشرا نے کہا کہ ” ہمیں ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا چاہئے اور انسانیت دکھانی چاہئے اور یہ بھی کہا کہ پرانے خیال کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ سماج کی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے”۔

چیف جسٹس دیپک مشرا نے کہا کہ ہم جنس پرستوں کو برابر کے حقوق ملنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم جنس پرستوں کو عزت کے ساتھ جینے کا حق ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پرانا حکم صحیح نہیں تھا۔ وقت کے ساتھ قانون کو بدلنا چاہئے۔

بتا دیں کہ دفعہ ۔377 کو انگریزوں نے 1862 میں نافذ کیا تھا ۔اس قانون کے تحت غیر فطری سیکس کو غیر قانونی ٹھہرایا گیا ہے۔ اگر کوئی خاتون۔مرد آپسی رضامندی سے بھی غیر فطری سیکس کرتے ہیں تو اس دفعہ کے تحت 10 سال کی سزا اور جرمانہ کا التزام ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!