Published From Aurangabad & Buldhana

سپریم کورٹ کا بحران

جمہوریت خطرے میں...!

ملک اسے عدلیہ کی تاریخ کا سیاہ دن قرار دے رہاہے ۔ یہ بھی درست ہے کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ کا اولین موقع ہے جب نظامِ عدل کے اعلیٰ ترین مرکز میں خدمات پر مامورچار سینیئرججس نے عدلیہ کی آزادی اور شفافیت پر سوالیہ نشان ثبت کردیا ۔عدلیہ کی تاریخ کا یہ سیاہ دن ضرور ہوسکتاہے لیکن ملک و قوم کیلئے خوش آئند ہے کہ چاروں ججوں نے جمہوری ستون کو لاحق مہلک مرض کی بروقت تشخیص کرکے اس کے فوری علاج و معالجہ کی طرف اشارہ کردیا ۔ عدلیہ کی آزادی و خودمختاری ، شفافیت اور عدل و انصاف کے تقاضوں کی دیانتداری کے ساتھ تکمیل کی دیرینہ روایات ہیں ۔چند مستثنیات کے مجموعی طور پر عدلیہ کی کارکردگی کبھی مشکوک ومشتبہ نہیں رہی ۔ماضی میں کبھی اقتدارکے ایوانوں کی مداخلت کے سبب کچھ معاملات موضوعِ بحث ضرور بنے لیکن کبھی بھی عدلیہ پر اعتماد و ایقان متزلزل نہیں ہوا ،پھر وہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے گزشتہ روز چار سینیئر ججس کو علم بغاوت بلند کرنے پر مجبورکردیا ۔ سپریم کورٹ کے چار ججس جسٹس جے چیلمیشورز ،جسٹس کوریان جوزف، جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس مدن لوکورنے سپریم کورٹ میں پریس کانفرنس کے ذریعہ چیف جسٹس دیپک مشرا کے آمرانہ طرزِ عمل سے ملک کوباور کروایا ۔فاضل منصفین نے کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے۴ ماہ قبل چیف جسٹس کو ایک مکتوب روانہ کیا تھا ، اس مکتوب میں عدلیہ میں بدنظمی اور خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کے تدارک کی استدعا کی گئی تھی ۔ چیف جسٹس دیپک مشرا نے چاروں سینیئر ججس کے مکتوب کو لائق اعتناء نہیں سمجھا ۔ چیف جسٹس کے رویہ نے ہی جسٹس جے چیلمیشور، جسٹس کوریان جوزف ، جسٹس رنجن گوگوئی اورجسٹن مدن لوکور کو دیرینہ روایات سے انحراف کیلئے مجبور کیا ۔عام طور پر ذیلی عدالتوں سے لے کر اعلیٰ عدالتوں اور عدالتِ عظمیٰ میں خدمات پرمامورججس اضول و ضوابط کی پاسداری کرتے ہیں ۔ کچھ شکایات ہوتو تب بھی برسرعام اس کے تذکرہ سے اجتناب کرتے ہیں ، یہ پہلا موقع ہے جب ججس نے عدالتی نظام میں خامیوں اور عدم شفافیت سے کا ذکر اس انداز میں کیا ہے کہ پوراملک اس سے آگاہ ہوجائے ۔
بی جے پی اقتدار میں جس طرح ملک کی سالمیت ، یکجہتی ، کثرت میں وحدت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خطرات لاحق ہوتے جارہے ہیں ، اسی طرح جمہوریت کا ایک اہم ستون عدلیہ بھی اربابِ اقتدار کی چیرہ دستیوں سے محفوظ نہیں ۔ سپریم کورٹ کے مذکورہ چاروں ججس نے بی جے پی حکومت کی عدلیہ میں مداخلت اور عدلیہ کی آزادی سلب کرنے کوششوں پر تصدیقی مُہر لگادی ہے ۔ عدلیہ میں بدنظمی اور چیف جسٹس مشرا کے طرزِ عمل کونشانہ بناتے ہوئے جسٹس چیلمیشور ، جسٹس کوریان جوزف، جسٹس گوگوئی اور جسٹس مدن نے الزام عائد کیا کہ اصول و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مقدمات کیلئے ججوں کا انتخاب پسند ناپسند کی بنیاد پر کیا جارہاہے ۔ ایسے مقدمات بھی ایسی بنچوں کی سپرد کئے جارہے ہیں ، جن سے اپنی پسند کے نتائج حاصل کئے جاسکیں ۔ ججوں نے بین السطور یہ واضح کردیا کہ سپریم کورٹ میں Dictation کا دور شروع ہوچکاہے ۔ چاروں ججوں نے دعویٰ کیا کہ اس طرزِ عمل سے عدالتِ عظمیٰ کی دیانتداری مشکوک ہوجاتی ہے ۔ مذکورہ ججوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے چیف جسٹس دیپک مشراکوسپریم کورٹ کے چندعدالتی احکامات پر اپنے تحفظات سے آگاہ کروانے کی ہر ممکن سعی کی لیکن تمام کوششیں رائیگاں گئیں ۔ چاروں ججوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں بہت کچھ ایسا ہوا جو نہیں ہونا چاہئے تھا ، ہمیں لگا ہماری ملک کے تئیں جوابدہی ہے اگر اس ادارہ کو نہیں بچایا گیا تو جمہوریت ختم ہوجائے گی۔
سپریم کورٹ کے چاروں ججس کی جرأت یقیناًملک میں نئی تاریخ رقم کرے گی ۔ عدلیہ میں بدنظمی کے اظہار نے مرکز کی بی جے پی حکومت کی پریشانیوں میں اضافہ کردیا ہے تو پورا ملک اس حق بیانی کا خیرمقدم کررہاہے ۔ ججس کی پریس کانفرنس کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے فوری وزیرقانون روی شنکر پرساد سے ملاقات کی اور اسے عدلیہ کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے مداخلت سے گریز کا عندیہ دیا ۔ حالانکہ اب یہ عدالت کا اندرونی معاملہ نہیں رہا بلکہ اب یہ ملک و قوم کا مسئلہ بن چکاہے ۔ شرمناک حقیقت یہ ہے کہ حکمراں بی جے پی پر عدلیہ میں مداخلت کے تواتر کے ساتھ الزامات عائد ہورہے ہیں ۔جب اربابِ اقتدار ہی جمہوریت کے اس ستون کو کمزورکرنے اور عدلیہ سے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کیلئے بیجا مداخلت کررہے ہوں توان سے عدلیہ کے وقار و ساکھ کی بحالی کیلئے عملی اقدامات کی توقع رکھنا ہی فضول ہوگی۔ یہ ملک کیلئے لمح�ۂ فکریہ ہے ۔ چاروں ججس کا تبصرہ بالکل درست ہے کہ عدلیہ کی بدنظمی کا سدباب نہیں کیا گیا تو جمہوریت کی بقاء خطرے میں پڑ جائے گی ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک و معاشرہ کا زوال کوئی حادثہ نہیں ہوتا۔انحطاط رفتہ رفتہاور بتدریج نمودار ہوتا ہے اور آخرکار المیہ بن جاتا ہے۔ انحطاط و زوال کے نظر آتے ہی اگر اس کے سدباب کیلئے کچھ تلخ و تُرش فیصلے کرنے پڑیں توبھی کوئی ہرج نہیں کہ صحت مندی کیلئے تلخ ادویات کا استعمال ناگزیر ہوجاتاہے ۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!