Published From Aurangabad & Buldhana

سوڈان: سو سے زیادہ ہلاکتوں اور سول نافرمانی کے بعد مظاہرین فوج سے مذاکرات پر راضی

خرطوم: فوج کی جانب سے اقتدار سول حکومت کو منتقل نہ کرنے پر سوڈان میں جاری احتجاجی مظاہرین نے فوج سے مذاکرات کرنے پر رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ ایتھوپیا کے وزیر اعظم آبی احمد کے دورے کے بعد مظاہرین اور فوج کے درمیان ثالثی مشن کے لیے نمائندہ خصوصی محمود دریر کا کہنا تھا کہ ’’آزادی اور تبدیلی اتحاد نے سول نافرمانی مہم کے خاتمے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’اقتدار کو عوامی حکومت کے حوالے کرنے پر دونوں جانب سے مذاکرات جلد بحال کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا گیا ہے‘‘۔
احتجاجی تحریک نے بھی عوام کو آئندہ روز سے معمولات زندگی بحال کرنے کی کال دے دی ہے۔ دوسری جانب سوڈان کی فوجی کونسل نے بھی جھڑپ کے دوران حراست میں لیے گئے سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کردیا۔ خیال رہے کہ سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں مسلح افواج اور احتجاجی مظاہرین کی جھڑپوں میں 100 سے زائد ہلاکتوں کے بعد احتجاجی گروپ سوڈانی پروفیشنل ایسوسی ایشن (ایس پی اے) نے سول نافرمانی کا اعلان کیا تھا۔
خیال رہے گزشتہ 11 اپریل 2019 کو سوڈان کی فوج نے ملک میں جاری مظاہروں کے باعث 30 سال سے برسر اقتدار صدر عمر البشیر کو برطرف کرکے گرفتار کرلیا تھا اور اقتدار بھی سنبھال لیا تھا۔ وزیر دفاع نے ملک میں 2 سال کے لئے فوجی حکمرانی کا اعلان کرتے ہوئے سول جمہوری تبدیلی کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کو مشتعل ہونے سے روکنے کے لیے ایمرجنسی بھی نافذ کردی تھی۔
تاہم سوڈان کے وزیر دفاع جنرل عود ابن عوف نے 12 اپریل کو ملٹری کونسل کے سربراہ کے طور پر حلف اٹھایا تھا تاہم وہ اگلے ہی دن عہدہ سے دستبردار ہوگئے تھے جس کے بعد 13 اپریل کو جنرل عبدالفتح برہان نے حلف اٹھایا۔
فوج کی جانب سے صدر عمر البشیر کا تختہ الٹنے پر ہزاروں مظاہرین نے دارالحکومت خرطوم کے وسط کی طرف مارچ کیا تھا اور صدر کی برطرفی کی خوشیاں منائی تھیں۔ عود محمد ابن عوف نے کہا تھا کہ فوج، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سیکورٹی اداروں کی جانب سے بنائی جانے والی ملٹری کونسل آئندہ 2 سال تک حکومت کرے گی جس کے بعد ’’شفاف اور منصفانہ انتخابات کروائے جائیں گے‘‘۔
نہوں نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ فوج نے آئین معطل کردیا، حکومت تحلیل کردی اور 3 ماہ کے لیے ایمرجنسی بھی نافد کردی، تاہم صدر عمرالبشیر کی برطرفی کے بعد فوجی نظام سنبھالنے پر بھی مظاہرین نے غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔ احتجاج کرنے والے رہنماؤں نے صدر کی برطرفی کے بعد تشکیل دی گئی ملٹری کونسل کو بھی مسترد کردیا تھا۔
مظاہرین نے ملک میں جمہوری نظام کے نفاذ کے لیے سول قیادت اور سوڈان میں جاری تنازعات کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا جن کی وجہ سے ملک بدترین غربت کا شکار ہے۔ تاہم 4 جون کو سیکورٹی فورسز نے ملٹری ہیڈکوارٹرز کے باہر جمع مظاہرین پر فائر کھول دیئے تھے، جس میں ابتدائی طور پر 30 افراد ہلاک ہوئے۔ 8 جون کو سوڈان کے اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ دارالحکومت خرطوم میں دریائے نیل سے 40 لاشیں نکالی گئیں جس کے بعد سیکورٹی فورسز کے ذریعہ مظاہرین پر حملہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سو سے زائد بتائی گئی۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!