Published From Aurangabad & Buldhana

سوشل میڈیا پر بن رہا بی جے پی رکن پارلیمنٹ سبرامنیم سوامی کا مذاق، جانیں کیوں…

بی جے پی رکن پارلیمنٹ سبرامنیم سوامی کا ان دنوں سوشل میڈیا پر خوب مذاق بن رہا ہے۔ ہاورڈ یونیورسٹی سے پڑھائی کر چکے سبرامنیم سوامی کا شمار یوں تو کئی لوگ دانشور طبقہ میں کرتے ہیں، لیکن گزشتہ کچھ دنوں سے ٹوئٹر پر 10 ملین فالووَرس رکھنے والے سوامی خوب ٹرول ہو رہے ہیں۔ ایک وقت تھا جب سوامی جو بھی بات ٹوئٹر پر کہتے تھے، اسے ہاتھوں ہاتھوں لوگ آگے بڑھا دیتے تھے اور آنکھ بند کر کے ان پر یقین کرتے تھے۔ لیکن اب ماحول کافی بدل چکا ہے۔ حالت یہ ہے کہ کچھ دن پہلے ہی ‘بوسٹ لائک سوامی’ (سوامی جیسا ڈینگ باز) ہیش ٹیگ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ میں شامل رہا۔

سوال اٹھتا ہے کہ آخر یہ ماحول کیوں بدلا؟ دراصل سبرامنیم سوامی ہر ایشو پر بیان دینے کے ساتھ کریڈٹ خود لینے سے باز نہیں آتے۔ حالیہ دنوں میں ان کی اسی عادت نے لوگوں کی نظر سے پردہ ہٹا دیا اور دھیرے دھیرے لوگ انھیں ‘ڈینگ باز’ سمجھنے لگے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی حال ہی میں سبرامنیم سوامی نے گیان واپی کاشی مندر سے متعلق ایک ٹوئٹ کیا جس میں کہا کہ انھیں سینئر ہندو آچاریہ کمیٹی کا چیئرمین منتخب کیا گیا ہے اور وارانسی کے جگت گرو شنکراچاریہ جتیندر کو اس کا جنرل سکریٹری بنایا گیا ہے۔ لیکن ان کے اس دعوے کے کچھ وقت بعد ہی سوامی جتیندر نے ان کی باتوں کی تردید کر دی۔ گویا کہ سبرامنیم سوامی کی مٹی پلید ہو گئی اور ان کا لوگ مذاق بنانے لگے۔

ہندی نیوز پورٹل ‘اے بی پی’ پر اس تعلق سے ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سوامی جتیندر نے سبرامنیم سوامی کے دعوے پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے صاف لفظوں میں کہا کہ "اکھل بھارتیہ سنت سمیتی کے اصل قرارداد میں ایودھیا، متھرا، کاشی تینوں ایک ساتھ ہیں۔ شری رام جنم بھومی پر عظیم رام مندر تعمیر کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔ پی ایم مودی کے انتخابی حلقہ میں کاشی وشوناتھ دھام کوریڈور جس تیزی کے ساتھ ایک احاطہ کا سائز لیتا نظر آ رہا ہے، یہ ہم سبھی سنتوں کے لیے خوشی کی بات ہے۔ اور سبھی سنتوں میں اس بات کو لے کر مسرت بھی ہے کہ کاشی وشوناتھ کوریڈور کی تعمیر ہو رہی ہے۔ جہاں تک مستقبل میں کسی تحریک کا سوال ہے، مجھے لگتا ہے کہ سنتوں کے درمیان ابھی ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے کہ کاشی یا متھرا کے لیے کوئی تحریک کھڑی کریں۔ تحریک سے متعلق ابھی سنت کمیٹی کی میٹنگ میں ایسی کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔”

اس کے علاوہ بھی گزشتہ دنوں کئی جھوٹ سبرامنیم سوامی نے بولے۔ مثلاً جے ای ای مینش امتحان کو لے کر بھی انھوں نے غلط فہمی پھیلانے کی کوشش کی اور دعویٰ کر دیا کہ 18 لاکھ امیدواروں نے ایڈمٹ کارڈ ڈاؤن لوڈ کیا، لیکن صرف 8 لاکھ امتحان دہندگان ہی امتحان میں شامل ہوئے۔ سوامی کی اس غلطی پر خود مرکزی وزیر تعلیم رمیش پوکھریال نشنک نے ایک بیان جاری کیا اور بتایا کہ جے ای ای مینس امتحان میں امیدوارون کی تعداد 18 لاکھ نہیں بلکہ 8.58 لاکھ ہے۔

رام مندر کے تعلق سے بھی سبرامنیم سوامی کئی بار ڈینگیں ہانک چکے ہیں جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر ان کا خوب مذاق بنا ہے۔ آج کل بھی لوگ اس تعلق سے کافی میمس بنا کر شیئر کر رہے ہیں۔ دراصل رام مندر کو لے کر سوامی نے کریڈٹ لینے کی کوشش کئی بار کی، لیکن سچ تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں ان کی عرضی 2018 میں ہی خارج کر دی تھی۔ یعنی وہ نہ تو اس معاملے میں پارٹی تھے اور نہ ہی لیگل ٹیم کے رکن تھے۔ گویا کہ کسی بھی طرح سے ‘کامیابی’ کا سہرا اپنے سر باندھنے کی سبرامنیم سوامی کی کوشش نے اب لوگوں کو ان کا ناقد بنا دیا ہے اور سوشل میڈیا پر سوامی مخالفت کی ایک لہر دیکھنے کو مل رہی ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!