Published From Aurangabad & Buldhana

! سوئنگ شہنشاہ” کے بعد پاکستان کی سیاست کے سلطان بنیں گےعمران خان”

پاکستان میں بدھ کوعام انتخابات ختم ہو گئے ہیں اور اس کے بعد وہاں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ اس مرتبہ انتخابات میں سابق کرکٹر اور "پاکستان تحریک انصاف ” کے سربراہ عمران خان کا نام سب سے زیادہ سرخیوں میں ہے۔

مانا جا رہا ہے کہ اس مرتبہ ملک کی باگ ڈور کرکٹر سے سیاست داں بنے عمران خان کو ملنے جا رہی ہے۔ حالانکہ اس مقام تک پہنچنے میں انہیں 22 سال کا وقت لگ گیا۔

کون ہیں عمران خان

عمران خان ، شوکت خانم اور اکرام اللہ خان نیازی کے گھر پیدا ہوئے۔ والد اکرام اللہ خان لاہور میں ایک سول انجینئر تھے۔ عمران خان اپنے بچپن کے ایام میں ایک پر سکون اور شرمیلے لڑکے تھے۔ ایک مڈل کلاس کنبہ میں اپنی چار بہنوں کے ساتھ بڑے ہوئے۔ پنجاب میں بسا خان کنبہ بنیادی طور سے میاں والا کے پشتون نیازی شیر من کھیل ٹرائب سے تعلق رکھتا ہے۔ ان کی ماں کے کنبے سے جاوید برقی اور ماجد خان جیسے کامیاب کرکٹر رہ چکے ہیں۔

عمران خان نے تعلیم لاہور میں اے چیسن کالج ، کیتھڈرل اسکول سے حاصل کی۔ اس کے بعد وہ آگے کی پڑھائی کرنے انگلینڈ چلے گئے جہاں انہوں نے رائل گرامر اسکول ورسیسٹر میں اعلی تعلیم حاصل کی۔ یہاں بھی کرکٹ میں ان کی پرفارمینس قابل تعریف تھی۔ 1972 میں انہوں نے کیبل کالج ، آکسفورڈ یونیورسٹی میں فلاسفی ، سیاست اور اقتصادیات کی پڑھائی کی۔ اسی دوران عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے۔

پاکستان نیشنل کرکٹ ٹیم جوائن کرنے سے پہلے عمران خان نے کرکٹ کا آغاز سال 1969 میں لاہور کی جانب سے سروودا کے خلاف میچ کھیل کر کیا۔ ا س کے بعد 3 جون 1971 کو وہ پاکستان کی نیشنل ٹیم میں شامل ہوئے اور اپنا پہلا انٹرنیشنل کرکٹ میچ انگلینڈ کے خلاف کھیلا۔اس وقت عمران خان کی عمر 21 سال تھی۔ اس کے بعد عمران خان 1973۔75 میں’ یونیورسٹی آف آکسفورڈ بلو ‘ کی ٹیم کیلئے کھیلتے رہے۔ عمران مستقل طور پر 1976 میں پاکستان واپس آ گئے اور نیشنل ٹیم کیلئے مسلسل کھیلنے لگے۔

عمران خان کی پہچان ایک بہترین سوئنگ گیند باز کے طور پر ہوتی تھی۔ اس لئے انہیں سوئنگ شہنشاہ بھی کہا جاتا تھا۔ عمران خان کی قیادت میں پاکستان نے 1992 میں پہلا ورلڈ کپ جیتا۔ اس کامیابی کے بعد عمران کے مداح انہیں ‘کپتان خان ‘کہنے لگے۔ ورلڈ کپ جیتنے کے بعد عمران خان نے کرکٹ سے سبکدوش ہو گئے۔ جلد ہی انہوں نے اپنے خواب کو پورا کرتے ہوئے لاہور میں اپنی ماں کے نام پر شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال اور ریسرچ سینٹر کھولا۔

سیاسی سفر

عمران خان نے 25 اپریل 1996 کو’ پاکستان تحریک انصاف ‘ کے نام سے ایک سیاسی جماعت قائم کرکے سیاست کے میدان میں پہلا قدم رکھا۔ شروعاتی دور میں انہیں کامیابی نہیں مل سکی۔ 1997 میں ان کی پارٹی نے پہلی مرتبہ الیکشن لڑا لیکن ان کی پارٹی کو ایک بھی سیٹ نہیں حاصل ہوئی۔ پھر 2002 کے انتخابات میں بھی ان کی پارٹی کی حالت پتلی رہی حالانکہ تحریک انصاف ایک سیٹ جیتنے میں کامیاب رہی۔ اس کے بعد 2008 میں پرویز مشرف کی دیکھ ریکھ میں کرائے گئے الیکشن میں ان کی پارٹی نے شامل ہونے سے منع کر دیا۔3 نومبر 2007 میں جب مشرف نے پاکستان میں ایمرجنسی نافذ کی تب عمران خان کو نظربند کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے بعد 14 نومبر 2007 کو پولیس نے عمران خان کو گرفتار کر لیا۔ جیل میں چار دن رہنے کے بعد عمران خان نے بھوک ہڑتال شروع کردی۔22 نومبر کو آنا فانا میں انہیں اچانک رہا کر دیا گیا۔

پھر 2011 میں عمران ںے لاہور میں ایک بڑے اجلاس کا انعقاد کیا جس میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ پہنچے۔ یہ جلسہ حکومت کی پالیسی کے خلاف تھا ۔اس جلسے کے بعد سے عمران خان کو پاکستان کی سیاست مین ایک بڑی طاقت مانا جانے لگا۔ اس کے بعد عمران خان نے مسلسل جلسے پر جلسے کئے۔2013 میں عمران خان نے’ ںیا بنے گا پاکستان’ کا نعرہ دیا۔ عمران کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف پارٹی ( پی ٹی آئی ) 2013 کے عام انتخابات میں ووٹ فیصد کے حساب سے دوسری سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری۔ پاکستان کے ‘خیبر پختونخوا’صوبہ میں پی ٹی آئی کی حکومت بنی، لیکن عمران پی ٹی آئی کے اس پرفارمینس سے خوش نہیں تھے کیونکہ انہیں اس الیکشن میں اپنی سرکار بننے کی پوری امید تھی۔

۔2014 کے بعد کا عمران خان

بتا دیں کہ 2014 میں عمران خان اور پی ٹی آئی کے کارکنوں نے لاہور سے اسلام آباد تک ایک ریلی کے طور پر مارچ کیا۔ یہ مارچ آگے بڑھ کر اسلام آباد کے ہائی الرٹ ریڈ زون میں داخل ہو گیا۔ پولیس کے ساتھ ہوئے تصادم میں پی ٹی آئی کے تین کارکنوں کی موت ہو گئی اور تقریبا پانچ سو سے زائد زخمی ہوئے۔ اس کے بعد سے عمران خان کو نواز شریف کی پارٹی پاکستان مسلم لیگ (نواز) کا اہم اپوزیشن سمجھا جانے لگا۔

عمران خان مسلسل نواز شریف پر بدعنوانی کا الزام لگاتے رہے ہیں ۔ پناما پیپر لیک معاملے میں شریف کنبے کا نام آنے پر عمران خان نے پاکستان میں ان کے خلاف ملک بھر میں آندولن کا آغاز کیا اور پھر 2017 میں اسی معاملے کی وجہ سے شریف کو وزیر اعظم کے عہدے کیلئے نا اہل قرار دیا گیا۔ عمران کی تحریک کا نتیجہ تھا کہ نواز شریف کو اپنے عہدے سے استعفی دینا پڑا۔ یہ واقعہ عمران خان کی انسداد بدعنوانی تحریک کی ہی بڑی کامیابی تھی۔ شریف کنبے کا کا نام ” پناما پیپرس ” میں آنے کے بعد عمران خان نے ان کے خلاف ملک بھر میں تحریک شروع کی تھی۔ نواز شریف کے خلاف انہوں نے سڑک سے لیکر عدالت تک لڑائی لڑی۔ بد عنوانی کےمعاملے میں نواز شریف کو10 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔

اس وقت پاکستان میں خواتین اور نوجوانوں کا ایک طبقہ عمران خان کا حمایتی ہے۔ سیاست میں عمران خان کی قسمت اب جا کر چمکی ہے جب نواز شریف کو کسی بھی قسم کے عوامی عہدے کے لئے نا اہل قرار دیا جا چکا ہے۔ انتخابات مین عمران کیلئے ایک اچھی بات یہ ہے کہ ان کی نجی زندگی کو چھوڑ دیں تو ان کی سیاسی زندگی پر کوئی داغ نہیں ہے۔ ایسے میں وہ اپنے مخالفین سے کافی الگ دکھائی دیتے ہیں۔ پردے کے پیچھے سرگرمی عمران خان کیلئے کام کر رہی ہے تاکہ نتیجے پی ٹی آئی کے حق میں آئے۔

پی ایم ایل این کی جانب سے بھی ایک ایسی بات کہی جا رہی ہے جسے سازش قرار دیا جا رہا ہے لیکن کئی لوگ اس بات کو مان رہے ہیں۔ نواز شریف کی پارٹی پاکستان میں گزشتہ کچھ سالوں میں کافی مضبوط ہو چکی تھی۔ لیکن جو حالات بنے ہیں انہوں نے کہیں نہ کہیں نواز کی پارٹی کو جم کر کمزور کر دیا ہے۔ جس کا سیدھا فائدہ عمران خان اور ان کی پارٹی پی ٹی آئی کو ملتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اگر عمران خان فوج کی مدد سے پاکستان میں اقتدار پر قابض ہوتے ہیں تو وہ اس آزادی سے کام نہیں کر پائیں گے جس کی ضرورت انہیں ‘ نیا پاکستان’ بنانے میں ہوگی۔

عمران ںے جب وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف چل رہے آپریشن کی مخالفت کی تھی تب سے ان کے ناقدین نے انہیں ‘ طالبان خان ‘ کا نام دے دیا ہے۔ پاکستان کی عوام اب ایک ایسا لیڈر چاہتی ہے جو دہشت گردی کا جم کر مقابلہ کرے۔ اگر عمران اقتدار میں آنے کے بعد دہشت گردی کو لیکر ذرا سا بھی سافٹ رہتے ہیں تو اس سے ان کی مقبولیت کو بڑا دھکا لگ سکتا ہے۔

جن لوگوں نے عمران خان کے سیاسی سفر کو شروعات سے لیکر اب تک کور کیا ہے وہ اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ عمران اور پی ٹی آئی کے سیاسی رویہ میں 2013 کے انتخابات کے بعد فرق دیکھنے کو ملا ہے۔ 2013 کے انتخابات سے پہلے عمران زور شور سے سیکولرزم کی بات کرتے تھے پر اب وہ رائٹ ونگ کے حمایتی ہیں۔ یہی وہ بات ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں رائٹ ونگ کے خلاف جا کر اقتدارپانا تقریبا نا ممکن ہے۔ اس دوہرے رویے سے بین الاقوامی سطح پر عمران کی ‘ انقلابی لیڈر’ والی شبیہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

عمران خان کی نجی زندگی

عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما برطانیہ کے ایک بڑے امیر اور طاقت ور کنبے سے تعلق رکھتی ہیں۔ جمائما سے عمران کے دو بچے ہیں۔ سلیمان، اور قاسم۔ 1995 میں عمران خان کی جمائما گولڈ اسمتھ کے ساتھ شادی ہوئی۔ جمائما نے شادی سے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا۔ پاکستان کی زندگی سے تال میل نہیں بٹھا پانے کی وجہ سے 2004 میں انہوں نے عمران خان سےطلاق لے لی تھی۔ تب وہ 42 سال کے تھے اور جمائما 21 سال کی تھیں۔ شروعاتی ایام میں جمائما کے یہودی ہونے کو لیکر اکثر یہ الزام لگتے رہے کہ عمران خان مغربی ملکوں کے ایجنٹ ہیں۔

بینظیر بھٹو کے ساتھ بھی عمران خان کا تعلق کافی وقت چلا۔ وہ سال 1975 کا تھا جب دونوں آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھائی کر رہے تھے۔ بینظیر بھٹو تب 21 سال کی تھیں ۔ دونوں تقریبا ہم عمر تھے۔ کچھ وجوہات سے یہ افیئر نکاح میں تبدیل نہیں ہو سکا۔ عمران خان کی بایو گرافی میں بھی اس رشتے کا ذکر ہے۔

بتا دیں کہ 1990 میں عمران کا نام سیتا وہائٹ سے بھی جڑا تھا۔ سیتا نے لوگوں کو بتایا کہ ان کی بیٹی طائرین وہائیٹ کے والد عمران خان ہیں پر عمران اس بات سے انکار کرتے رہے۔ کورٹ میں جب یہ ثابت ہو گیا تب عمران نے طائرین کے والد ہونے کی بات قبول کر لی۔

عمران خان اپنے افیئرس اور رشتوں کو لیکر ہمیشہ سرخیوں میں رہتے ہیں۔65 سال کے عمران خان کی معشوقاوں کی فہرست کافی طویل ہے۔ ہندی فلموں کی اداکارہ زینت امان بھی اس فہرست میں شامل رہی ہیں۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!