Published From Aurangabad & Buldhana

سقوطِ حیدرآباد سردار پٹیل کا رول؟

۔۔۔ رشید انصاری

ستمبر کا مہینہ سلطنت آصفجاہی حیدرآباد سے وابستگی یا اسے یاد رکھنے والوں کیلئے زخموں کے کریدے جانے کا مہینہ ہے۔ اسلامیان ہند کی تاریخ کا یہ ناقابل فراموش المیہ نہ صرف دکن یا ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ آج بظاہریہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ اگر مملکت حیدرآباد کی شاہی یا جمہوری حکومت (جوبھی ہوتی) تو وہ عالم اسلام کے لئے بہت کچھ کرسکتی تھی! لیکن اس بات کو اس تناظر میں سونچیں کہ آج دنیا میں جغرافیائی فاصلے اہمیت کھوچکے ہیں اور آج سے تقریباً سو سال قبل نظام حیدرآباد عثمان علی خاں مرحوم نے جزیرہ نما عرب کے ابتر حالات سن کر سینکڑوں عربوں کو حیدرآباد میں بس جانے کیلئے مدعو کیا تھا۔ حرمین و شرفین میں روشنی کا انتظام آصف سابع نے اپنے محل سے پہلے کیا تھا۔ خیر اب ان باتوں کا ذکر درد کی شدت اور زخم کی اذیت ہی بڑھا سکتا ہے۔ سقوط حیدرآباد کے منصوبے اور عملی اقدامات (جس میں سب سے اہم بہیمانہ طاقت سے مملکت نظام پر بھر پور فوجی حملہ اور اس سے قبل آصف سابع کے درباریوں (جن میں زین یا رجنگ، علی یا ورجنگ، آرمودوآئنگار وغیرہ کی مدد سے آصف سابع کے سپہ سالار حبیب العید روس کو غداری کیلئے آمادہ کرنا اور غداری بھی ایسی کہ آصف سابع کی افواج کو جنگ میں حصہ لینے ہی نہیں دیا جائے۔ ہندوستانی افواج بلا مزاحمت یا مجلس اتحادالمسلمین کے رضاکاروں کی مزاحمت کو روندتے ہوئے ہر محاذ پر تیزی سے آگے بڑھتی رہیں اور حبیب العبدروس اپنی افواج کو ہر محاذ سے پیچھے ہٹنے کا حکم دیتا رہا۔ ایسی ساری سازشوں اور فوجی کارروائی کی ساری ذمہ داری نریندر مودی کے پسندیدہ ہیرو سردار ولبھ بھائی پٹیل پر عائد ہوتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ سقوط کے بعد مملکت حیدرآباد کے کئی اضلاع میں قتل عام، غارت گری، آتشزنی، عورتوں کی عصمت ریزی، لوٹ مار زبردستی ناجائز قبضوں بلکہ تمام مظالم کے ذمہ دار بھی سردار پٹیل ہی ہیں، کیونکہ آزادی کے بعد ریاستوں کے امور کے وزیر نائب وزیراعظم وزیر داخلہ ہونے کے علاوہ سردار پٹیل ہی تھے اور مسلمانوں کے نقصانات کے ازالے اور مصیبت زدہ افراد کے زخموں پر مرہم تک لگانے کی فکر سردار پٹیل نے کبھی نہیں کی نہ ہی کبھی بعد میں بھی حیدرآبادی مسلمانوں پر توڑی گئی قیامت صغریٰ پر معذرت وندامت تو دور کی بات ہے کبھی اظہار افسوس تک نہیں کیا تھا۔ اسی سلسلے میں بیرسٹر نورانی نے اپنی انگریزی میں لکھی گئی کتاب دی ڈسٹرکشن آف حیدرآباد The Destruction of Hyderabad میں کئی جگہ سردار پٹیل کے تعصب و مسلم دشمنی کا ذکر کیا ہے۔ ہم صرف حوالے دے سکتے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔ سردار پٹیل کو پنڈت جواہر لال نہرو کے ’’سیکولر ہندوستان ‘‘کا تصور ہی پسند نہیں تھا اور نہ ہی مسلمانوں سے نہرو کا رویہ پٹیل کو پسند تھا (ص؍2)۔ نہرو کو حیدرآباد کے خلاف فوجی کارروائی پسند نہیں تھی جبکہ سردار پٹیل اس پر عزم مصمم کئے ہوئے تھے (ص؍15)۔ اسی کتاب سے ماخوذ ایک اقتباس کا ترجمہ پٹیل کے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ ’’ولبھ بھائی پٹیل کو حیدرآباد کی شناخت (اسلامی) اور تہذیب و تمدن سے نفرت تھی نیز مسلمانوں سے ان کا رویہ نمایاں طور پر معاندانہ اور جارحانہ تھا۔ (ص؍293) حیدرآباد کا مسئلہ طئے کرنے کے لئے سردارپٹیل کے پاس (مذاکرات ٹوٹنے کے بعد) مسئلہ کا حل صرف فوجی کارروائی تھی۔ فوجی کارروائی کے تو نہرو بھی اصولاًمخالف نہیں تھے لیکن نہرو جلد بازی کے قائل نہیں تھے اور نہرو فوجی کارروائی کے بھیانک نتائج و عواقب پر غور کرکے اس کو ٹالنا چاہتے تھے جبکہ پٹیل کی رائے اس کے برعکس تھی۔ (ص؍xx(تعارف)۔ سردار پٹیل پکے ہندو قوم پرست تھے۔ اسی لئے نہرو سے ان کی بنتی نہیں تھی۔ حیدرآباد کے معاملات پٹیل مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے تھے۔ چنانچہ محمد علی جناح کے انتقال کے فوراً بعد حیدرآباد پر فوجی حملہ، نظام اور مسلمانوں سے کیا جانے والاسلوک، نظام کی حکومت کے انتظامیہ کو جڑسے اکھاڑ پھینکنا ریاست میں مسلمانوں کے وسیع پیمانے پر قتل عام اور اس قتل عام پر پنڈت سندر لال کی رپورٹ کا مسترد کیا جانا بلکہ اس پر کوئی کارروائی کا نہیں کیا جانا وغیرہ کے تمام فیصلے اور عملی اقدامات صرف اور صرف سردار پٹیل کی مرضی سے ہوئے تھے۔ اسکی ساری ذمہ داری صرف سردار پٹیل پر ہے۔ (ص؍xxi) تعارف۔ اس کتاب میں حیدرآباد کے تعلق سے پٹیل کے نا روا رویہ کی تفصیلات موجود ہیں۔

حیدرآباد میں ہندوستان کے ایجنٹ جنرل کے ایم منشی سردار پٹیل کے خاص بلکہ پسندیدہ شخص تھے اور حیدرآباد میں ان کی رسمی غیر رسمی سفارتی اور غیر سفارتی سرگرمیاں پٹیل کی مرضی کے مطابق تھیں۔ منشی نے ہی اپنی کتاب ایک عہد کا خاتمہ End of An Era میں لکھا کہ لارڈ ماونٹ بیٹن نے حیدرآباد سے معاہدہ کیلئے جو آخری مسودہ تیار کیا تھا اس معاہدہ کے ذکر پر سردار پٹیل نے کہا تھا کہ کون سا معاہدہ، معاہدہ تو لندن چلا گیا۔ اس سے ظاہر ہے کہ سردار پٹیل مذاکرات اور معاہدات کے قائل ہی نہ تھے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے کہ سردار پٹیل اور ان کے معتمد خاص پی مینن کی وجہ سے انڈین یونین سے حیدرآبا د کا کوئی معاہدہ نہ مستقل نہ عارضی ممکن ہوسکا بلکہ جو عارضی معاہدہ ہوا تھا اس کی مدت ختم ہونے سے قبل ہی پٹیل نے حیدرآباد پر قبضے کیلئے فوجی کارروائی کا حکم دیا تھا۔ سردار پٹیل کی ہی ذہنیت کے مالک ان کے دو ساتھیوں میں اچاریہ جے بی کرپلانی اور روی شنکر شکلا وزیر اعلیٰ مدھیہ پردیش (سابق سنٹرل پروانس CP) بھی حیدرآباد کے حوالے سے ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف تحقیر آمیز بیانات کیلئے خاصے مشہور تھے۔ اس کے برخلاف پنڈت جواہر لال نہرو نے حیدرآباد پر حملے سے صرف چند ہفتے قبل 27؍ جولائی 1947ء کے روزنامہ اسٹیٹمین کے مطابق سابق شہر مدراس (چینائی) میں حیدرآباد سے فوری جنگ کے امکانات کو مسترد کیا تھا (نورانی کی کتاب ص؍195) دوسری طرف خود سردار پٹیل کھلے بندوں دھمکیاں دیتے رہے تھے کہ حیدرآباد جو ناگڑھ کے انجام سے سبق لے، حیدرآباد نہیں مانے گا تو ہندوستان کے ساڑھے چار کروڑ مسلمان بھی متاثر ہوں گے۔ (ص؍196)
ملک کی آزادی کے بعد ہندوستان میں مسلم اقتدار کی آخری نشانی حیدرآباد سے پٹیل کو شدید نفرت تھی۔ حیدرآباد کی مخلوط گنگا جمنی تہذیب سے ان کو دلچسپی نہیں تھی۔ پٹیل نظام سے بغض وعداوت رکھتے تھے۔ ان کا بس چلتا تو نظام کو فوراً ہٹاکر ان کو کم از کم نظر بند ہی کردیتے اور حیدرآباد و حیدرآبادی کلچر کو برباد ہی کردیتے۔ بے شمار غیر جانبدار مورخین اور تجزیہ نگاروں کی طرح بیرسٹر نورانی کی بھی سردار پٹیل کے بارے میں یہی رائے ہے کہ سردار پٹیل نے یہ فرض کرلیا تھا کہ ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کرنے کے باوجود ہندوستانی مسلمان ہندوستان کے وفادار نہیں ہوسکتے ہیں۔ ان پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے۔ ہندوستانی مسلمان ایک طرح سے یرغمال ہیں جن کی سلامتی پاکستان کے ہندووں کی سلامتی اور تحفظ پر منحصر ہے۔ دہلی میں آزادی کے بعد ہوئے فسادات میں پٹیل کے نزدیک مسلم بستیوں کی حفاظت کیلئے فوج متعین کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ ممتاز کانگریسی لیڈر آصف علی کا خیال ہے کہ پٹیل مسلمانوں پر بھروسہ نہیں کرتے تھے اور مولانا آزاد کی نہرو کی پہلی کابینہ میں شرکت کے تک خلاف تھے۔ سردار پٹیل نے مسلمانوں کے خلاف کچھ کرنے کیلئے آر ایس ایس اور ہندومہا سبھا کو کانگریس میں شریک ہونے کی دعوت کئی بار دی تھی۔ بیرسٹر اے جی نورانی نے یہ باتیں مستند حوالوں کے ساتھ صفحات 218 و 219 پر رقم کی ہیں۔ پٹیل کی مسلم دشمنی کا حال تو مولانا آزاد اور دیگر کئی غیر مسلم اصحاب نے بھی مختلف مواقع پر کئی بار اور تفصیلات کے ساتھ لکھا ہے۔ انضمام حیدرآباد کیلئے اصرار کی سب سے بڑی وجہ حیدرآباد پر مسلم اقتدار تھا جو ان کو قطعی نہیں بھاتا تھا۔ اسی لئے انہوں نے حیدرآباد کو ہندوستان کے قلب و جسم میں ایک زخم یا ناسور یا پھوڑا قرار دیا تھا۔ حیدرآباد کے خلاف جنگ کرنے کیلئے پٹیل نے نہرو کو مجبور کیا تھا۔ سردار پٹیل تو کانگریس کی مجلس عاملہ سے نہرو کے خلاف قرار داد عدم اعتماد تک منظور کروانے کا ارادہ کئے ہوئے تھے۔ اس بات کا ذکر مہاتما گاندھی کے پوتے راج موہن گاندھی نے پٹیل کی سوانح میں کیا تھا۔ نظام حیدرآباد آصف سابع میر عثمان علی خان کی توہین جس طرح اور جس قدر سردار پٹیل نے کی ہے، وہ ان کی فطرت، انتقامی جذبہ اور مسلم دشمنی کا ثبوت ہے۔ آصف سابع سے ملاقات میں پٹیل نے اپنی فطرت، فکر اور رجحانات کے پوشیدہ گوشے کھل کر برملا ظاہر کئے جس سے معمولی سوجھ بوجھ کا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کو سارا سنگھ پریوار اسکے حلیف اور خود نریندر مودی کیوں اس قدر پٹیل کے مداح اور قدرداں ہیں۔ دورانِ ملاقات سردار پٹیل نے ابتداء میں ہی نظام پر واضح کردیا کہ ماضی میں نظام کی غلطیاں ناقابل فراموش ہیں۔ جارحانہ اور غرور سے بھر پور لہجہ میں پٹیل نے نظام سے توہین آمیز انداز میں گفتگو کی اور تہذیب و اخلاق کے معاشرتی و سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھ دیاتھا۔ آصف سابع کی منکسرالمزاجی نے پٹیل کو اور شیر بنادیا تھا۔ پٹیل نے اس بات پر سخت اعتراض کیا تھا کہ نظام نے نواب چھتاری والٹر مانکٹن (نظام کے دستوری مشیر )اور سرسلطان احمد پر بھروسہ نہ کرکے لائق علی، قاسم رضوی اور معین نواز جنگ پر کیوں بھروسہ کیا تھا۔ پاکستان سے نظام کے تعلقات پر بھی پٹیل نے نظام کی خوب خبر لی تھی۔ حد تو یہ ہے کہ 1939ء میں لکھے گئے نظام کے ایک شعر پر تک شعری نزاکتوں اور حس لطیف سے عاری پٹیل نے جارحانہ بلکہ غیر مہذب انداز میں سخت اعتراض کیا تھا۔

جنرل جے این چودھری نے جو اس ملاقات کے وقت موجود تھے لکھا ہے کہ اس رسمی ملاقات میں بھی پٹیل نے نظام کی ہر طرح توہین کی اور یہاں تک کہہ دیا کہ اگر میں تمہاری جگہ ہوتا تو عمر کا باقی ماندہ حصہ اپنی غلطیوں پر ندامت کااظہار اور توبہ و معذرت میں گزار دیتا، مختصر یہ کہ یہ ملاقات پٹیل کی جارحیت، فسطائی ذہنیت اور تنگ نظری و کم ظرفی کی آئینہ دار تھی۔ سقوط کے بعد مسلمانوں پر ہوئے مظالم، ان کے مصائب سے پٹیل کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ پٹیل مسلمانوں کی شکایات سننے تک کے روادار نہ تھے۔ نظام کے دور کے بیشتر ہندو اعلیٰ عہدیداروں کو تک پٹیل نے ہٹاکر غیر حیدرآبادی ہندووں کو ان کی جگہ مامور کیا۔ حیدرآباد کے قتل عام اور مظالم کے بارے میں پنڈت سندر لال،قاضی عبدالغفار اور یونس سلیم جیسے معتبر افراد کی تیار کی ہوئی حقائق پر مبنی رپورٹ (جو پنڈت نہرو اور مولانا آزاد کی ایماء پر تیار کی گئی تھی) کو پٹیل نے بغیر دیکھے داخل دفتر کردیا اس پر کچھ کارروائی تو دور کی بات ہے مختصر یہ کہ المیہ سقوط حیدرآباد اور اس کے بعد ہوئے مظالم کی سب سے زیادہ ذمہ داری پٹیل پر ہی عائد ہوتی ہے۔ اس شخص کو مہاتما گاندھی کے ہم مرتبہ اور نہرو سے برتر و بہتر ثابت کرنا نہ صرف بدترین فرقہ پرستی بلکہ مسلم دشمنی کے ساتھ ذہنی دیوالیہ پن ہے۔

نوٹ: (مضمون نگار گذشتہ20سال سے سقوطِ حیدرآباد پر مضامین لکھ رہے ہیں)۔
[email protected]

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!