Published From Aurangabad & Buldhana

سعودی عرب : سرکاری پالیسیوں کی تنقید کرنے پر امام کعبہ شیخ ڈاکٹر صالح الطالب کو گرفتار کرلیا گیا

محمد بن سلمان کے ولی عہد مقرر ہونے کے بعد سے جون 2017 سے اب تک درجنوں مساجد کے اماموں، خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے رضاکاروں اور شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

سرکاری پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے پر امامِ کعبہ کو مبینہ طور پر گرفتار کر لیا گیاہے۔ یہ اطلاع الجزیرہ نے دی ہے ۔ قطر کے اس نشریاتی ادارے نے سعودی عرب میں قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ کے سوشل میڈیا پر جاری بیان کا حوالہ دیتے ہوئے امامِ کعبہ شیخ ڈاکٹر صالح الطالب کی حراست کی خبر دی ہے۔

عرب ویب سائٹ خلیج آن لائن کے مطابق شیخ ڈاکٹر صالح الطالب نے، جو مکہ میں جج کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں، اپنی تقریر میں کنسرٹس اور تفریحاتی تقریبات میں نامحرم مرد و خواتین کے گھلنے ملنے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

واضح رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی سربراہی میں سعودی عرب کے قدامت پسند معاشرے میں کئی جدید اصلاحات متعارف کروائی گئیں ہیں، جس کے تحت خواتین کو عوامی اجتماعات میں شرکت کی اجازت کے لیے قوانین میں نرمی بھی کی گئی۔

اخباری دستاویزات کے مطابق سعودی فرماں رواں شاہ سلمان کے بیٹے محمد بن سلمان کے ولی عہد مقرر ہونے کے بعد سے جون 2017 سے اب تک درجنوں مساجد کے اماموں، خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے رضاکاروں اور شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔
پریزنر آف کنسائینس نامی یہ گروپ سعودی عرب میں مذہبی شخصیات، علما اور مبلغین کی گرفتاریوں پر نظر رکھتا ہے اور اس حوالے سے دستاویزات مرتب کرتا ہے۔ آن لائن اطلاع یہ بھی ہے کہ ان کی گرفتاری کے چند گھنٹوں بعد ہی ان کا انگریزی اور عربی ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی ڈی ایکٹِویٹ ہوگیا تھا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!