Published From Aurangabad & Buldhana

سر کی مدد سے ڈرائنگ میں مہارت حاصل کرنے والے معذور اکرم العدید کی سبق آموز کہانی

جسمانی طور پر معذوری سے دوچار ہونے افراد کو عام طور پر معاشرے پر بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ اگر ہاتھوں اور پیرں سے انسان معذور اور مفلوج ہو کر رہ جائے تو اس کے لیے زندگی کتنی مشکل ہوتی ہے اسے شاید الفاظ میں بیان نہ کیا جا سکے۔ البتہ دنیا میں ایسے باہمت معذور افراد کی بھی کمی نہیں جو ہاتھ اور پائوں نہ ہونے کے باوجود اپنے معاشرے کو اپنی اہمیت کا احساس دلاتے ہیں۔ ایسی ہی ایک سبق آموز کہانی ایک سعودی نوجوان کی ہے جو کھیل کے دوران حادثے کا شکار ہو کر دونوں ہاتھوں اور پیروں سے معذور ہوگیا۔ تاہم اس نے معذوری کو اپنے مشن کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا اور اپنے سر کی مدد سے کمپیوٹر پر خوبصورت اور دلفریب پینٹنگز اور ڈرائنگ کرنے لگا، جسے دیکھ کر دل دنگ رہ جاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ نے اس باہمت سعودی نوجوان کی کہانی شائع کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی کمپیوٹر ٹیچر اسکاؤٹ لیڈر اور ہینڈ بال پلیئر اکرم العدید نہیں جانتا تھا کہ دس سال قبل کویت میں سعودی قومی ٹیم کے ساتھ چیلنج ایڈونچر چیمپئن شپ میں اس کی شرکت خطرناک کھیل سے گرنے پر دونوں بازُووں اور دونوں ٹَانگوں سے معذوری یعنی’ ٹیٹراپلیجیا’ کا باعث بنے گی اور وہ ہمیشہ کے لیے اپنے دونوں‌ہاتھوں اور پاؤں کی صلاحیت کھو دے گا۔

اکرم العدید اپنے ‘کو ٹیٹراپلیجیا’ کا شکار ہونے کے بعد بھی کوئی ایسا کام کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ نام کما سکیں۔ اس کے ذہن میں ڈرائنگ اور پینٹنگز کا خیال آیا اور اس نے اس فن میں کام کرنا شروع کردیا۔ مگر اس نے یہ کام اپنے سر کی مدد سے کیا اور کمپیوٹر کی اسکرین پر ڈرائنگ شروع کردی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اپنی کہانی کے بارے میں العدید نے کہا کہ جب میں کویت میں ایڈونچر اور چیلینج گیمز کے لیے پہلے ٹورنامنٹ میں شریک ہوا تو میں ایک حادثے کے نتیجے میں ‘کو ٹیٹراپلیجیا ‘ کا شکار ہوگیا۔ اس عارضے میں انسان کے دونوں ہاتھ اور دونوں‌ پاؤں مفلوج ہوجاتے ہیں۔ مگر میری معذوری نے میری تمنائوں کو ختم نہیں کیا۔ میں نے کوئی الگ اور انوکھا کام کرنے کا سوچا۔ معذوری میرے عزم کی راہ میں حائل نہیں ہوئی۔ لہذا میں نے سر کے ساتھ کمپیوٹر استعمال کرنا سیکھا۔ سر کے ساتھ کمپیوٹر اسکرین پر برش استعمال کرنا سیکھا۔ شدید معذور افراد کے لیے ڈرائنگ کا دنیا کا پہلا طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

اس نے مزید کہا کہ میں 650 سے زیادہ فن پاروں کے ساتھ آرٹ کی نمائشوں میں شرکت کرکے اپنی مہارت کا لوہا منوایا۔ العدید نے بتایا کہ اس نے اسکاؤٹنگ موومنٹ اور معاشرے میں معذور افراد کو ملانے میں بھی مدد کی اور ایک سرخی کے ساتھ کمپیوٹر کا استعمال کرتے ہوئے سخت معذوریوں کو سکھانے کے لیے ایک تربیتی پروگرام کے ذریعہ متعدد اسکاؤٹنگ کمیشن اور ٹیمیں قائم کرنے میں بھی حصہ لیا۔

اکرم العدید کا کہنا تھا کہ فائن آرٹ تھراپی پروگرام ریاض کے کنگ فہد میڈیکل سٹی میں واقع بحالی پروگراموں میں سے ایک ہے جو ہاتھوں کے ہنر کو فروغ دینے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ میں نے کمپیوٹر کے میدان میں کام مکمل کرنے پر اصرار کیا اور مجھے ایک کمپیوٹر ملا جس کا استعمال سر کے ساتھ ہوتا ہے۔ طبی طور پر موزوں آلہ تیار کرنے کے بعد سر کے ساتھ ڈرائنگ کے لیے ایک فنکشن تشکیل دیا۔

اس نے کہا کہ سر کی مدد سے کمپیوٹر کی اسکرین پر مصوری کا طریقہ گردن کی نقل و حرکت اور تخیل میں مصوری کی نقش نگاری پر منحصر ہے۔ ایک ساتھی کی مدد سے کینوس پر رنگوں کی تقسیم، ہدایت کے مطابق پینٹنگ پر رنگوں کو دوبارہ تقسیم کرنے اور جمالیاتی نظریہ کو عملی شکل میں ڈھالنے کے لیے سر اور گردن کو استعمال کرنا ہے۔ یہ ایک مشکل اور صبر آزما کام ہے مگر میں نے اس میں‌پوری لگن اور جاںفشانی سے کام کیا اور آج میں فائن آرٹ کو سیکھنے میں کامیاب ہوگیا ہوں۔

بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!