Published From Aurangabad & Buldhana

سرکاری اساتذہ کا صرف 19%وقت تدریس میں : سروے

باقی اوقات میں الیکشن و دیگر سرکاری ذمہ داریوں میں لگ جاتا ہے وقت

اورنگ آباد: اساتذہ جو کہ سماج کی نشو نماء کرنے میں انتہائی اہم رول ادا کرتے ہیں اصل میں انکے اوقات میں سے صرف 19.1فیصد وقت تدریس کے لئے دے پاتے ہیں۔ بقیہ وقت میں سرکاری اساتذہ الیکشن کی ذمہ داری، پولیو مہم کا کام اور مڈ میل کے دستاویزات تیار کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ حیران کردینے والے اعداد و شمار حال ہی میں ایک سروے رپورٹ بعنوان ’’ غیر تدریسی کاموں میں اساتذہ کی شمولیت اور اسکا تعلیم پر اثر‘‘ کے ذریعہ سامنے آئی ہے۔یہ رپورٹ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ایڈمنسٹریشن (NUEPA) نے پیش کی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق سرکاری اساتذہ صرف 19.1فیصد وقت تدریس میں لگاتے ہیں۔ ساتھ ہی بقیہ میں سے 42.6فیصد وقت تعلیم سے متعلق غیر تدریسی کاموں میں ، 31.8فیصد وقت اسکول ہی کے غیر تدریسی کاموں میں اور 6.5فیصد وقت حکومتی کاموں میں لگ جاتا ہے۔

قانون حق تعلیم کے تحت تدریس کے لئے جو 220دن لازم کیے گئے ہیں اس میں سے 2015-16میں صرف 42دن ہی تدریس کے لئے استعمال ہوسکے تھے۔ یہ سروے مہاراشٹر، کرناٹک، اڑیسہ، گجرات اور اتراکھنڈمیں کیا گیا ہے۔ 2017میں مرکزی حکومت نے ایک کمیٹی بنائی تھی جس کا کام تھا کہ وہ پتہ کرے کے اساتذہ کو تعلیم سے ہٹ کر کوئی اور کام تو نہیں دیا جارہا تاکہ وہ صرف تدریس پر ہی توجہ دیں سکے۔ حکومت نے یہ کمیٹی اس لئے بنائی تھی کیونکہ استاذ حضرات کو بہت ساری غیر تدریسی کاموں میں شامل کیا جارہا تھاجیسے گائے کی گنتی، الیکشن کی ذمہ داری، پلس پولیو مہم، راشن کارڈ کی جانچ وغیرہ۔ واضح ہوکہ قانون حق تعلیم صرف تین ذمہ داریوں کی اجازت دیتا ہے۔ جسمیں مردم شماری، قدرتی آفت یا الیکشن میں پولنگ کے وقت کی ذمہ داری۔

سماجی کارکنان کا اس معاملہ پر کہنا تھا کہ پہلے ہی سے ہمارے ملک میں تعلیم کی حالت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔اس میں بھی اساتذہ کا اگر اتنا زیادہ وقت غیر تدریسی وقت میں لگے گا تو نئی نسلوں میں بہتر تعلیم کیسے پروان چڑھے گی۔ RTEکارکن چیتنیہ نے کہا کہ ہمیں تعمیر ملک کے لئے اساتذہ کو ایک اثاثہ کے طور پر دیکھنا چاہیے اور اس لئے وہ تعلیم و تدریس میں مزید کیسے بہتر بن سکتے ہیں اس پر کام کرنا چاہیے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!