Published From Aurangabad & Buldhana

سانحہ سقوط حیدرآباد اور مولانا مودودی

مولانا مودودی کی شخصیت محتاج تعارف نہیں۔ مولانا مرحوم کا حیدرآباد سے گہرا تعلق رہا ہے۔ مرحوم ریاست حیدرآباد کے شہر اورنگ آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ حیدرآباد میں مولانا کا قیام سالوں رہا تھا۔
عالم اسلام کے اس عظیم مدبر اور مفکر نے سانحہ سقوط حیدرآباد پر اپنے رسالے "ترجمان القرآن” کے شمارہ دسمبر 1948 میں جو ادارتی نوٹ شایع کیا تھا اس کا اقتباس پیش خدمت ہے۔ مولانا کی رائے سے پوری طرح یا کسی حد تک اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن ان کے مخلصانہ جذبے اور درد سے اختلاف ممکن نہیں۔
مولانا نے جو نقطہ نظر پیش کیا تھا اس پر غور و خوض کیا تو جا سکتا تھا لیکن حالات نے جو رخ اختیار کیا تھا اس کے پیش نظر اس کا موقع ہی نہیں رہا تھا۔
———————————————————–

حیدرآباد میں چند لاکھ ہندوستانی مسلمانوں کی ہجرت کے بعد مسلمانوں کی آبادی تقریباً چالیس لاکھ تھی یہ چالیس لاکھ مسلمان ایک ایسی ریاست میں آباد تھے جس میں غیر مسلموں کی آبادی سوا کروڑسے بھی زیادہ تھی پھر اس ریاست کو چاروں طرف سے ایک ایسی مملکت گھیرے ہوئے تھی جس کی آبادی 30کروڑسے زائد ہے اور جس میں حکمرانی اسی غیر مسلم اکثریت کی ہے جو خود ریاست میں بھی اکثریت ہی رکھتی ہے ۔ والی ریاست انہیں والیان ریاست کی جنس سے تعلق رکھتا تھا جو اپنی گدی اور اپنے خانوادے کے مفاد کو بہرحال اپنی پوری قوم کی بہ نسبت عزیز رکھتے ہیں ۔ فوج، پولیس اور نظم و نسق کے تمام شعبوں میں اگرچہ مسلمانوں کا غلبہ تھا مگر غیر مسلم عنصر بھی کچھ ایسے بے اثر نہ تھا کہ حکومت کی انتظامی مشین کو بالکل مسلمانوں کی حمایت میں استعمال کیا جاسکتا۔ تقسیم ہند کے وقت تک ریاست پر انگریزوں کی بالادستی مسلط رہی تھی اور اس نے دوسری ریاستوں کی طرح حیدرآباد کو بھی ایساکوئی موقع نہ دیا تھا کہ وہ اپنی فوجی طاقت مضبوط کر سکے ۔ اور تقسیم کے بعد حیدرآباد انڈین یونین کے گھیرے میں آ چکا تھا اس لئے نہ باہر سے کوئی بڑی مدد اس کو پہنچ سکتی تھی اور نہ اندر ہی اس کا کوئی امکان تھا کہ چند مہینوں میں وہ اپنی جنگ طاقت فراہم کر سکے جو ہندوستان سے لڑنے کیلئے کسی حدتک کافی ہو۔ اخلاقی حیثیت سے بھی حیدرآباد کے مسلمان کچھ ایسے برتر نہ تھے کہ کوئی شخ یہ تصور کر سکتا کہ وہ اپنے سے 70 گنی طاقت کا مقابلہ کر سکیں گے ۔

یہ تھے حیدرآباد کے اصل حالات۔ ان احالات میں کوئی ہوش مند انسان یہ امید نہیں کر سکتا تھا کہ وہاں 85 فیصدی غیر مسلم اکثریت پر 15 فیصد مسلم اقلیت کا وہ غلبہ و اقتدار برقرار رکھا جاسکتا ہے جو پہلے بالکل مختلف حالات میں قائم ہوا اور رہا تھا اور کسی مرد عاقل سے یہ بات بھی چھپی نہیں رہ سکتی تھی کہ حیدرآباد انڈین یونین سے لڑکر اپنی خود مختاری قائم نہیں رکھ سکتا۔ دانشمندی کا تقاضا یہ تھا کہ مسلمان کشمکش، مزاحمت اور جنگ کے بجائے اپنے مستقبل کیلئے کوئی ایسی راہ تلاش کرتے جس میں وہ کامل تباہی سے بچ بھی سکتے اور آئندہ اپنی اخلاقی و دینی حالت کو بہتر بنا کر کوئی نتیجہ خیز جدوجہد کرنے کے مواقع بھی انہیں حاصل رہتے لیکن جن لوگوں نے ایسی کوئی راہ سوچی اور بتائی وہ مسلمانوں کو دشمن نظر آئے ۔ انہوں نے اپنی رہنمائی کیلئے ایسے لوگوں کو پسند کیا جو اندھے جوش، کھوکھلے نعروں ، جھوٹی توقعات غلط امیدوں ، بے بنیاد آرزوں اور بے زور لاف و گزاف کے ذریعہ سے ان کے غرور و نفس کو فی الوقت تسکین دے سکیں ۔ وہ اس آواز پر مرمٹے کہ کوئی دلی کے لال قلعہ پر آصف جاہی جھنڈا گاڑدینے کی بات تو کرتا ہے ۔ اس نشے میں چالیس لاکھ کی پوری آبادی مست ہو گئی۔ کوئی یہ سوچ کر اپنے وقتی لطف کو کرکرا کرنے پر راضی نہ ہوا کہ آخر یہ کام ہو گا کس طرح، سب کے سب آنکھیں بند کر کے اس لاف زنی کے پیچھے چل پڑے اور اپنی قسمت پر نازکرنے لگے کہ اس گئے گزرے زمانے میں بھی انہیں ایسے بے نظیر لیڈر میسر آتے ہی چلے جاتے ہیں !

یہ تو تھی حیدرآباد کے مسلمانوں کی کیفیت۔ رہے پاکستان کے مسلمان تو ان کی کیفیت بھی ان سے کچھ مختلف نہ تھی۔ سیاسی تقسیمات نے چاہے ہم کو کتنا ہی بانٹ دیا ہومگر قوم اور اس کا مزاج تو ایک ہی ہے ۔ یہاں ہمار ے اخبارات وہ ساری نشہ آور تقریریں پھلا رہے تھے جس سے حیدرآباد کے لوگوں پر مستی کا عالم طاری کیا جا رہا تھا۔ حیدرآباد کی روز افزوں طاقت اور اس کی زبردست تیاریوں کے متعلق طرح طرح کے افسانے نہ معلوم کہاں تصنیف ہوتے تھے اور عام لوگوں تک پہنچادئیے جاتے تھے کبھی ہمیں سنایا جاتا تھا کہ حیدرآباد کے پاس بڑا بھاری ہوائی بیڑہ موجودہے کبھی کہا جاتا تھا کہ اس نے گوا کی بندرگاہ حاصل کر لی ہے کبھی خبر دی جاتی تھی کہ اس نے فرانس سے ایک جزیرہ حاصل کر لیا ہے ۔ کبھی اس کی فوجی طاقت اور جنگی سروسامان کے متعلق سراسر بے سروپا اندازے شائع کئے جاتے تھے ۔ کبھی بتایا جاتا تھا کہ دنیائے اسلام کے گوشے گوشے میں اس کی مدد کیلئے تیاریاں ہورہی ہیں ۔ ان باتوں سے محض عوام الناس ہی نہیں ہمارے اچھے خاصے تعلیم یافتہ لوگ اور ذمہ دار منصب رکھنے والے اصحاب تک جھوٹی امیدوں اور غلط توقعات کے قلعے بنا کر بیٹھ گئے تھے ۔

حتی کہ جس روز شام کو حیدرآباد ہتھیار ڈالنے والا تھا اس کی دوپہر تک ہمارے خطیب اپنے جمعہ کے خطبوں میں اپنی قوم کو یقین دلائے جا رہے تھے کہ عنقریب لڑائی کا نقشہ بدلنے والا ہے اور اس کے بعد بس دیکھنا کہ کیا ہو گا۔ پھر جب تلخ حقائق کی ایک ضرب نے وہ تمام خیالی قلعے یک خلت منہدم کر دئیے جو ہوا باندھ کر پچھلے ایک سال سے تعمیر ہورہے تھے ۔ تو اس کا نفسیاتی اثر جو کچھ ہوا وہ سب کو معلوم ہے ۔

آج حیدرآباد میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے تصور سے ہر مسلمان کا دل غمگین ہے۔ جہاں سات آٹھ سو (700-800) برسوں تک مسلسل مسلمانوں کا غلبہ رہا آج وہاں مسلمان صرف مغلوب ہی نہیں پامال بھی ہو رہے ہیں۔
ہندوستان کی وسیع سرزمین میں وہ ایک خطہ بھی اب باقی نہیں رہا جہاں مسلمان عزت سے سر اٹھا کر چل سکتا تھا۔ کل تک جس حیدرآباد کی طرف سارے ہندوستان کے مسلمان امید بھری نگا ہوں سے دیکھا کرتے تھے ۔ افسوس آج وہی حیدرآباد ہر طرف مایوسی ہی مایوسی دیکھ رہا ہے ۔ اس کے عزت والے ذلیل ہورہے ہیں ۔ اس کے بہترین نوجوان ضائع کئے جا رہے ہیں اور اس کی طاقت اس طرح توڑی جا رہی ہے کہ شائد چند سال بعد ہندوستان میں کسی خطے کے مسلمان اتنے خستہ حال نہ ہوں گے جتنے حیدرآباد کے مسلمان۔
(اﷲ کا شکر ہے کہ مولانا مودودی کا یہ خدشہ غلط ثابت ہوا۔ –مرتب)

اپنے بھائیوں کے اس انجام پر ہمارا غم و افسوس صحیح مگر انڈین یونین کی بد عہدیوں اور کم ظرفیوں اور خود مستیوں پر ہمارا غصہ بجا۔ برطانوی حکومت کے غدارانہ رویہ پر ہماری شکایت درست اور نظام کی خود غرضی پر بھی ہمارا غیظ و غضب برحق مگر ہم کبھی اس طرح کی ٹھوکریں کہانے اور چوٹیں سہنے سے نہیں بچ سکیں گے جب تک کہ خود اپنی ان غلطیوں کو محسوس نہ کریں جن کی بدولت یہ پے درپے زکیں ہمیں اٹھانی پڑرہی ہیں ۔

ہم حقائق سے منہ موڑکر آرزوں اور تمناؤں کے پیچھے چلتے ہیں ہم عقل کی بات بتانے والوں کو دشمن اور خوش کن باتیں بنانے اور تمناؤں کے پیچھے ہیں ہم ٹھوس عمل کی کمی کو خیالی ہواؤں سے پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں
ہم نصیحت سے نفرت اور کذب و فریب کے قدرداں ہیں ہم کسی کو آگے لگاتے وقت اس کی اخلاقی و ذہنی اوصاف نہیں دیکھتے بلکہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ وہ نعرہ کتنے زور سے لگاتا ہے اور زبان کے استعمال میں کس طرح مطلق العنان ہے ۔ ہم اپنے رہبروں اور سربراہ کاروں کے انتخاب میں پیہم غلطیاں کرتے رہے ہیں اور اندھی پیروی کے اتنے خوگر ہو چکے ہیں کہ تباہ کن حوادث میں مبتلا ہونے سے پہلے کبھی آنکھیں کھول کر نہیں دیکھتے کہ ہمارے رہبر ہمیں کدھرلے جا رہے ہیں ؟ ہماری یہی کمزوریاں دراصل ہماری سب سے بڑی دشمن ہیں ۔

کسی باہر والے کی دشمنی اور کسی گھر والے کی غداری ہمارا کچھ نہ بگاڑسکتی۔ اگر ہماری اپنی یہ کمزوریاں اس کی مدد نہ کرتیں اب بھی ہم انہیں سمجھ لیں اور ان کی اصلاح پر آمادہ ہو جائیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ حیدرآباد کا خون رائیگا نہ گیا لیکن افسوس کہ سقوط حیدرآباد کے بعد فوراً ہی ہم نے ایسی توجیہات شروع کر دیں جن سے اپنی کمزوریوں کے سواہر دوسری ممکن التصور چیزپر اس حادثہ عظیم کی ذمہ داری ڈالی جاسکے ۔ گویا ہم اپنے نفس کو یہ اطمینان دلانا چاہتے ہیں کہ ہم خود تو سب کچھ ٹھیک ہی کر رہے تھے صرف فلاں کی غداری اور فلاں کی بے وفائی نے ہم کو اس حادثہ سے دوچار کر دیا۔

درحقیقت یہ وہ افیون کی گولیاں ہیں جو ہر چوٹ کے بعد ہم اس لئے کھایا کرتے ہیں کہ ہمیں اپنی خامیوں کا تلخ احساس نہ ہونے پائے !

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!