Published From Aurangabad & Buldhana

زیر سماعت مقدمات کے فیصلوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہوتی رہی ہے: سپریم کورٹ ججس

سپریم کورٹ جسٹس اندرا بینرجی نے جمعرات کو جاری کورٹ میں کہا کہ حال ہی میں صنعت کاروں کے تنازعہ والے مقدما ت میں ان پر دباؤ ڈالا گیا تھا۔

نئی دہلی:۔ سپریم کورٹ کی جسٹس اندرا بینرجی نے عدالت میں اس وقت موجود وکیلوں کو حیران کردیا جب انہوں نے بھری عدالت میں کہا کہ حال ہی میں ایک صنعت کاروں کے تنازعہ میں فیصلہ کو لیکر ان پر دباؤ ڈالا گیا تھا۔ جسٹس اندرا کے ساتھ بیٹھے جسٹس ارون مشرا نے کہا کہ اس طرح ججس پر فیصلہ کے لئے دباؤ ڈالنے کی کوشش کرنا ایک انتہائی خطرناک عمل ہے اور ایسا کرنے والے پر عدالت کی حکم عدولی و توہین مانا جائیگا۔

جسٹس بینرجی نے ایک نامعلوم شخص سے متعلق بتایا جو ہوٹل رائیل پلازہ سے متعلق کارپوریٹ تنازعہ میں دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا۔جسٹس بینرجی نے اس مسئلہ سے متعلق جسٹس مشرا سے گفتگو کی تھی اور وہ اس مقدمہ سے خود کو علیحدہ کرنا چاہتی تھی لیکن جسٹس مشرا نے انہیں ایسا نہ کرنے کی صلاح دی تھی۔اس واقعہ پر سنگین اعتراض جتاتے ہوئے جسٹس مشرا نے کہا کہ بار کاؤنسل میں موجود کچھ لوگ جج حضرات و مقدمہ سے متعلق غلط فہمیاں پھیلاتے ہیں۔ دباؤ ڈالنے کا ایسا کوئی بھی قدم عدالت کی توہین مانا جائیگا۔

سینئر وکیل شیام دیوان جو اس مقدمہ میں ایک فریق کی جانب سے پیش ہوئے تھے نے ہندوستان ٹائمز نے اس بات کی تصدیق کی ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ ہاں جسٹس بینرجی نے عدالت میں یہ بات کہی تھی۔ بعد از میں نے جسٹس صاحبہ سے درخواست کی کہ وہ اس مقدمہ سے خود کو الگ نہ کریں ورنہ اس سے غلط پیغام جائیگا‘‘۔
جسٹس بینرجی جنکا تعلق بنگال سے ہے نے اسی ماہ سپریم کورٹ کے جج کے طور پر حلف لیا تھا۔ سپریم کورٹ سے قبل وہ مدراس ہائی کورٹ کی چیف جسٹس رہ چکی ہیں۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!