Published From Aurangabad & Buldhana

ریلوے پولس کی کاہلی‘ عدالت کا سخت اظہار ناراضگی

متعلقہ افسران پر کاروائی کا حکم‘ ملزم کے اقبال جرم و تکمیل تحقیقات کے باوجود فرد جرم داخل کرنے میں لگائے دو سال

اورنگ آباد (نمائندہ): دوران سفر ٹرین میں موبائل چوری کے ایک مجرم کو فرسٹ کلاس مجسٹریٹ ایم اے حسین نے ایک ماہ کی قید کا حکم سنایا اور اسی درمیان اس معاملے میں پولس کے طرز تحقیق اور قوانین کی پامالی نیز اس کیس میں ملزم کے اقبال جرم‘ مسروقہ موبائل کی برآمدگی اور تمام تر تحقیقات کی تکمیل ہوجانے کے باوجود تغافل شعار پولس کے عدالت میں فرد جرم (چارج شیٹ) داخل کرنے میں مہینہ دو مہینہ نہیں مکمل دو سال کی مجرمانہ تاخیر کرنے پر ناگپور کے لوہ مارگ پولس سپرنٹنڈنٹ کو عدالت نے حکم دیا ہے کہ خاطی افسران پر کاروائی کی جائے۔ اس معاملے کی مختصر تفصیل یوں ہے کہ دس اپریل ۲۰۱۲ء ک اورنگ آباد اسٹیشن سے دونڈپورنا پسنجر سے بدناپور جارہے مسافر سوریہ بھان پوار کا موبائل سارق نے ٹرین پر چڑھتے وقت اُڑا لیا تھا۔ پوار جو جب سرقہ کا علم ہوا تو اس نے ٹرین پر سوار دیگر مسافروں کے موبائل سے اپنے مسروقہ موبائل پر ربط کیا۔ پولس سے بھی شکایت کی تو معاون انسپکٹر مہیش آندھڑے نے فون اُٹھایا بعد ازاں موبائل سارق بھی دھر لیا گیا۔ اس کی تفتیش کی گئی تو اس نے نہ صرف اقبال جرم کرلیا بلکہ اس کے قبضہ و تحویل سے مزید تین موبائل کی برآمدگی بھی ہوئی۔ تمام تر تحقیقات مکمل ہوئیں اس کے باوجود بھی پتہ نہیں کیوں پولس نے فوری چارج شیٹ داخل نہ کی اور اس کام میں دو سال آٹھ مہینے لگادئیے۔ عدالت پر جب یہ تساہل آشکار ہوا تو عدالت نے پولس کی سرزنش کرتے ہوئے متذکرہ بالا فرمان جاری کیا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!