Published From Aurangabad & Buldhana

ریاستی چیاریٹی کمشنرنے 1؍لاکھ سوسائٹیز کی منظوری رد کی

اورنگ آباد کے تقریباً 11207ٹرسٹ شامل

پونہ:۔ ایک لمبے عرصہ سے منظوری لیکر کسی بھی قسم کے کاموں کو نہ انجام دینے اور حکومت کو وقت پر تفصیلات نہ جمع کروانے والے تقریباً 1؍لاکھ سوسائٹیز کی منظوری کو پچھلے ۵؍ماہ میں حکومت نے رد کردیا ہے۔ واضح رہے کہ اگست کے مہینہ میں ممبئی اور پونہ کے تقریباً 3؍لاکھ ٹرسٹ و سوسائٹیز کو رد کرنے کی کاروائی شروع کی گئی تھی۔
چیارٹی کمشنر شیوکمار ڈگھے نے اس موقع پر کہا کہ ا ن ٹرسٹ نے نہ ہی اپنے دستاویزات کو وقت پر حکومت کے پاس جمع کروایا تھااور نہ ہی اس کے قوانین پر عمل کیا تھا۔
ریاست میں تقریباً 8؍ لاکھ ٹرسٹ منظور شدہ ہیں جو تعلیمی، سماجی اور مذہبی خدمات کے تحت رجسٹرڈ ہیں۔ حکومت کی یہ کاروائی ان ٹرسٹ و سوسائٹیز کی منظوری رد کرنے کے لئے شروع کی گئی تھی جو قانون کے مطابق اپنے دستاویزات کو اپ ڈیٹ نہیں کررہے تھے۔ منظوری رد کیے جانے والے ٹرسٹ میں سب زیادہ پونہ، ناگپور، امراوتی، ناسک اور ممبئی کے علاوہ کولہاپور اور اورنگ آباد کے ہیں۔ جن 3؍لاکھ ٹرسٹ کی فہرست تیار کی گئی ہے اس میں سے 80ہزار تو پونہ اور ممبئی سے ہیں۔ جن 1لاکھ ٹرسٹ کی منظوری رد کی گئی ہے اس میں سے پونہ کے 17000،ممبئی کے 9000، تھانہ و علی باغ کے 6233،ناسک کے 11090، کولہاپور کے 4419، اورنگ آباد کے 11207اور لاتور کے 10499ٹرسٹ شامل ہیں۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!