Published From Aurangabad & Buldhana

ریاستی حکومت مراٹھواڑہ کی ترقی کیلئے سنجیدہ نہیں, وردبھ ومراٹھواڑہ کو علیحدہ ریاستیں نہیں بننے دیاجائیگا: اشوک چوہان

اورنگ آباد: (اسٹاف رپورٹر )مغربی ومشرقی مہاراشٹر کے مقابلے مراٹھواڑہ میں ترقیاتی کام ہمیشہ سے کم انجام دیے جاتے ہیں جس کے سبب مراٹھواڑہ ریاست کے دیگر علاقوں کے مقابلے پسماندگی کاشکارہے۔ کاروباری‘ تجارتی‘ تعلیمی ‘سماجی شعبوں میں برسراقتدار طبقہ کی لاپرواہی کے سبب مراٹھواڑہ میں ایک لاکھ کروڑ کاترقیاتی بیک لاگ ہے۔مراٹھواڑہ کی ہمہ گیرترقی کیلئے کانگریسی حکومت نے ۱۹۹۰ء میں مراٹھواڑہ آئینی ترقیاتی بور ڈ بھی تشکیل دیاتھا۔اسکے باوجود اب تک کوئی خاطرخواہ اثرات مرتب نہیں ہوئے۔

جب سے ریاست میں بی جے پی شیوسینا نے اقتدار سنبھالاہے۔ وزیراعلی دیویندرپھڑنویس نے مراٹھواڑہ کے مقابلے ترقیاتی کاموں ودیگر اہم پروجیکٹ کو ناگپور وردبھ منتقل کیاہے۔ جس کے سبب گزشتہ ایک سال سے مراٹھواڑہ کو ریاست مہاراشٹر سے علیحدہ کرکے علیحدہ ریاست قراردینے کامطالبہ کیاجارہاہے۔ بی جے پی شیوسینا حکومت کے بعدامیدتھی کہ مراٹھواڑہ کی ترقی بہترہوگی اور مراٹھواڑہ کے ترقیاتی کاموں کیلئے اسپیشل بجٹ فراہم کیا ں جائیگا۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ مراٹھواڑہ کی ترقی کیلئے منعقد کی جانے والی کابینی میٹنگ ایک مرتبہ بھی منعقد نہیں کی گئی۔

ممبئی میں بیٹھے بیٹھے وزیراعلی پھڑنویس اوران کے وزراء وہیں سے فرمان جاری کرتے ہیں۔ اس درمیان اب اسے کانگریس نے سیاسی موضوع بنانا شروع کردیاہے ۔ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ وکانگریس کے ریاستی صدر اشوک چوہان نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے الزام عائدکیاکہ بی جے پی شیوسینا حکمران لگاتار مراٹھواڑہ کی ترقی کو نظر انداز کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ وزیراعلی پھڑنویس وردبھ کو علیحدہ ریاست بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔جبکہ وردبھ کے علاوہ انہیں ریاست کے دوسرے علاقوں کی پسماندگی نظرنہیں آتی۔ بی جے پی ریاست میں علاقائی سیاست کررہی ہے جو نقصاندہ ہے۔

واضح رہے کہ مراٹھواڑہ کے ناندیڑ ‘عثمان آباد‘ لاتور ایسے اضلاع ہیں جن کی سرحدیں تلنگانہ ریاست سے ملحق ہیں۔ اس علاقہ کے ساکنان نے اب تلنگانہ ریاست میں انضمام کا مطالبہ شروع کردیاہے ۔
مراٹھواڑہ کی جنتا وکاس پریشد نے بھی گزشتہ دنوں حکومت کے خلاف علیحدہ مراٹھواڑہ ریاست تشکیل دینے کا مطالبہ کیاتھا۔اس پرچٹکی لیتے ہوئے اشوک چوہان نے کہاکہ حکومت میں شامل بی جے پی شیوسینا محض وردبھ کی ترقیات پردھیان دے رہی ہے۔ حکومت وردبھ و مراٹھواڑہ کو علیحدہ ریاستیں بناناچاہتی ہیں۔ جو مراٹھواڑہ کے ساکنان کو ہرگزمنظورنہیں ہے۔ انہوں نے قرض معافی‘بیروزگاری‘ حکومت کی جانب سے ملنے والے پیکیج کولے کربھی حکومت کوآڑے ہاتھوں لیا۔انہوں نے انتباہ دیاکہ اگرمستقبل میں اس طرح کاکوئی بھی قدم اٹھایاجاتاہے توکانگریس اسکی شدید مخالفت کرے گی۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!